Friday, May 15, 2026
ہومکالم وبلاگزسوشل میڈیا کا بے جا استعمال اور نوجوان نسل کے مسائل

سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اور نوجوان نسل کے مسائل

کالم نگار: شیراز جمیل

آج کا دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز نے رابطوں کو آسان اور معلومات تک رسائی کو تیز کر دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال نے معاشرے میں کئی سنگین مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں۔

بدقسمتی سے آج کا نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال میں بہت زیادہ وقت ضائع کر رہا ہے۔ گھنٹوں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، نیند کی کمی پیدا ہو رہی ہے اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ جھوٹی معلومات، فضول مواد اور دکھاوا (show off culture) نوجوانوں کی سوچ اور کردار پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے، کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر یہی نسل اپنی توجہ تعلیم اور مثبت سرگرمیوں سے ہٹا لے تو ترقی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

اس مسئلے کا حل مکمل طور پر سوشل میڈیا کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کا درست، محدود اور شعوری استعمال ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں وقت کی قدر سکھائیں۔ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل آگاہی کے پروگرام ہونے چاہئیں تاکہ طلبہ سوشل میڈیا کے فائدے اور نقصانات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

نوجوانوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور سوشل میڈیا کے استعمال کو قابو میں رکھ کر تعلیم، کھیل اور مثبت سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

اگر ہم بحیثیتِ معاشرہ آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیں تو آنے والی نسلیں ایک ایسی دنیا میں داخل ہوں گی جہاں معلومات تو بہت ہوں گی مگر شعور کم ہوگا، اور رابطے تو ہوں گے مگر تعلقات کمزور ہوں گے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو قابو میں رکھیں، ورنہ یہ ہماری سوچ اور سمت دونوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔