Thursday, May 14, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزعورتوں کی سوچ اور معاشرتی سوچ

عورتوں کی سوچ اور معاشرتی سوچ

کالم نگار: ثناہ زلفیکار

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، اور جب بات عورتوں کی تعلیم کی ہو تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنے گھر کو بہتر انداز میں سنبھالتی ہے بلکہ وہ ایک بہتر نسل کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی عورتوں کی تعلیم کو مکمل طور پر وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حقدار ہے
وسطی پنجاب اور وسطی سندھ کے دیہی علاقوں میں عورتوں کی تعلیم کی حالت بہت خراب ہے۔ ان علاقوں میں زیادہ تر خواتین پڑھی لکھی نہیں ہیں اور ناخواندگی بہت زیادہ ہے۔
تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی عورتیں بہت پسماندہ ہیں اور وہ اپنی زندگی میں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ انہیں نہ تو ان کے حقوق ملتے ہیں اور نہ ہی معاشرے میں وہ مقام حاصل ہے جو ایک پڑھی لکھی عورت کا ہونا چاہیے۔
عورت کسی بھی معاشرے میں نئی نسل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ایک عورت تعلیم یافتہ، باشعور اور اپنی ذات سے واقف ہوگی، تو وہ ایک بہترین نسل کی آبیاری کر سکتی ہے۔ ایک ایسی عورت جسے اپنی حدود کا علم ہو، جس میں خود اعتمادی ہو اور جو زندگی کو خوش مزاجی اور سمجھداری سے گزارنے کا ہنر جانتی ہو، وہی ایک متوازن گھرانے کی بنیاد رکھتی ہے۔ جب ماں خود باشعور ہوتی ہے، تو وہ اپنی اولاد کی تربیت بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کرتی ہے، جس سے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے ذہن موجود ہیں جو پرانی سوچ کے حامل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تعلیم عورتوں کے لیے نہیں بنی یا ان کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اسی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں ہر میدان میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا رہی ہیں۔ وہ ڈاکٹرز، وکلاء اور انجینئرز بن کر ملک و قوم کا نام روشن کر رہی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان پسماندہ خیالات کو پیچھے چھوڑ کر خواتین کی تعلیم پر اپنی توجہ بڑھائیں، کیونکہ ایک عورت کو پڑھانے کا مطلب پوری نسل کو پڑھانا ہے۔ ہمیں تعلیمِ نسواں کے لیے مزید سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ ہر لڑکی کو ترقی کے برابر مواقع مل سکیں..

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔