Tuesday, May 12, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمز'معرکہ حق' سے’معرکہ تعمیرِ وطن‘ تک

‘معرکہ حق’ سے’معرکہ تعمیرِ وطن‘ تک

تحریر: محمد محسن اقبال


جب شبِ سیاہ کے مخملی دامن پر چاند اپنی نقرئی کرنیں بکھیرتا ہے تو اس کی روشنی ساحلوں سے لے کر بلند پہاڑوں تک ہر منظر کو ایک ایسی ہم آہنگی عطا کرتی ہے جو پوری انسانیت کے لیے یکساں محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کا عسکری اور سفارتی چاند بھی پوری آب و تاب کے ساتھ افقِ عالم پر طلوع ہو چکا ہے۔ اس کی روشنی ہماری سرحدوں سے کہیں آگے تک عزت، وقار اور قوت کا پیغام پہنچا رہی ہے۔ ہماری افواجِ پاکستان غیرت و شجاعت کی ایک مضبوط فصیل بن کر کھڑی ہیں، جبکہ ہماری سفارتی بصیرت نے عالمی سیاست کے پیچیدہ سمندروں میں تدبر، حکمت اور استقلال کے ساتھ اپنا راستہ متعین کیا ہے۔


مگر ان تمام روشنیوں کے سفر میں ایک چاند ایسا بھی ہے جو اب تک گھنے بادلوں میں چھپا ہوا ہے—اور وہ ہے ہماری معیشت کا چاند۔ اس کی مدھم روشنی نہ قوم کے مستقبل کی راہوں کو روشن کر پا رہی ہے اور نہ ہی عوام کے چہروں پر اطمینان کی کرنیں بکھیر رہی ہے۔ یہ کمزوری ایک ایسے طوق کی صورت اختیار کر چکی ہے جو ریاست کی گردن میں پڑا ہوا ہے اور اسے اپنے عوام کو حقیقی خوشحالی اور فلاح فراہم کرنے سے روک رہا ہے۔ اس کے سائے مزدور کی کچی جھونپڑی سے لے کر اقتدار کے بلند ایوانوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔


بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبی حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ وہ وسائل جو ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور عوامی بہبود پر خرچ ہونے چاہییں، سود اور قرضوں کی ادائیگی میں نگل لیے جاتے ہیں۔ حکمران بسا اوقات ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی تکلیف میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ فیصلے ترقی کے خوابوں سے نہیں بلکہ بقا کی تلخ ضرورتوں سے جنم لیتے ہیں۔
مہنگائی کا بے رحم عفریت آج عام آدمی کی قوتِ خرید کو نگل رہا ہے۔ آٹے، ادویات، ایندھن اور روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں مسلسل بلند ہو رہی ہیں، یہاں تک کہ ایک باعزت اور پُرسکون زندگی کا خواب بھی عام خاندانوں کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی حالات نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں، اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہماری معاشی ناہمواری پر جلتی آگ میں تیل ڈالنے کے مترادف ثابت ہوئے ہیں۔ جو بوجھ کبھی قابلِ برداشت تھا، وہ اب ایک ایسے بحران میں تبدیل ہو چکا ہے جو دیگر میدانوں میں حاصل کی گئی قومی کامیابیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان، جو دفاع اور سفارت کاری کے میدان میں عزت و وقار کے مینار تعمیر کر چکا ہے، اب معاشی عدم استحکام اور دائمی مقروضی کی دلدل میں دھنس جائے؟ کیا ہماری تقدیر یہ ہے کہ ہم ہمیشہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کے اسیر رہیں، اپنی پالیسیاں اپنی عوامی امنگوں کے بجائے بیرونی تقاضوں کے مطابق مرتب کرتے رہیں؟ یہ سوالات صرف حکمرانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کے لیے ایک پکار ہیں۔ ہماری ترقی، ہماری خودداری، اور ہماری حقیقی خودمختاری انہی سوالات کے جواب میں پوشیدہ ہے۔


یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ملک میں کفایت شعاری کی ایک قومی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی، سرکاری طرزِ زندگی میں سادگی، اور عوامی خرچ میں احتیاط یقیناً ایک مثبت شعور کی علامت ہیں۔ مگر یہ اقدامات اگرچہ قابلِ تحسین ہیں، تنہا کافی نہیں۔ یہ وقتی سکون تو دے سکتے ہیں لیکن معیشت کی گہری دراڑوں کو بھرنے اور دیرپا بحالی کی بنیاد رکھنے کے لیے ایک وسیع تر اور ہنگامی حکمتِ عملی درکار ہے۔
آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ جس اتحاد، نظم و ضبط اور عزم نے ہمیں عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیابیاں عطا کیں، اسی جذبے کو معاشی میدان میں بھی بروئے کار لایا جائے۔ پاکستان دنیا کو یہ دکھا چکا ہے کہ متحد قومیں ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہیں؛ اب یہی قومی روح معیشت کی نجات کے لیے وقف ہونی چاہیے۔


وفاق اور صوبوں کی سطح پر تمام فریقین کو سیاسی، ذاتی اور علاقائی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک زندہ میثاقِ تعاون تشکیل دینا ہوگا۔ صوبوں کو وسائل کی کشمکش کے بجائے زراعت، آبی ذخائر، توانائی اور صنعتی راہداریوں جیسے شعبوں میں مشترکہ ترقی کے منصوبے اپنانے چاہییں۔ سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، کاروباری طبقے اور نوجوان نسل کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر قومی مفاد کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ معاشی طاقت اب قومی سلامتی سے جدا کوئی شے نہیں رہی۔ اگر معیشت کمزور ہو تو عسکری اور سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
اس خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ایک جامع اور جرات مندانہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے، خود انحصاری کے جذبے کو قومی شعار بنانا ہوگا۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ٹیکس چوری کا شفاف نظام کے ذریعے خاتمہ، اور دیانتدار ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی ریاستی مالیات کو مضبوط بنا سکتی ہے، بغیر اس کے کہ غریب عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔


زراعت، جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، فوری جدیدیت کی متقاضی ہے۔ معیاری بیج، جدید آبپاشی، آسان زرعی قرضے، اور ویلیو ایڈڈ زرعی صنعتوں کا فروغ دیہی علاقوں کو ترقی اور روزگار کے مراکز میں بدل سکتا ہے۔ اسی طرح برآمدات میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جو معاشی ترقی کے خاموش معمار ہیں، انہیں آسان مالی سہولیات، فنی تربیت اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہوگی۔
سرکاری اداروں میں خسارے کا خاتمہ، شفاف نجکاری، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، فرضی ملازمین کا خاتمہ، اور سرکاری خریداری کے نظام میں بدعنوانی کی روک تھام ایسے اقدامات ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی انسانی وسائل میں سرمایہ کاری—معیاری تعلیم، فنی تربیت اور سستی صحت کی سہولیات—ہماری نوجوان نسل کو بوجھ کے بجائے قومی اثاثہ بنا سکتی ہیں۔


سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ پالیسیوں کا تسلسل، معاہدوں کا احترام، فوری انصاف، اور کاروبار دوست ماحول مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو نئی توانائی دے سکتے ہیں۔ علاقائی تعاون بھی خوشحالی کا ایک روشن دروازہ کھول سکتا ہے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ توانائی اور تجارت کے شعبوں میں پُرامن روابط ترقی کی نئی شاہراہیں تعمیر کر سکتے ہیں۔


اسی کے ساتھ ایک ایسی قومی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا جس میں بچت، مالی نظم و ضبط، اور سادگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ قرض صرف ایسے منصوبوں کے لیے لیا جائے جو خود کفیل ہوں، نہ کہ وقتی نمود و نمائش یا غیر پیداواری اخراجات کے لیے۔
راستہ یقیناً دشوار ہے، مگر پاکستان نے ہمیشہ آزمائشوں کے اندھیروں میں امید کے چراغ روشن کیے ہیں۔ جس قومی کردار نے ہمارے عسکری اور سفارتی افق کو روشن کیا، وہی ہمارے معاشی آسمان سے بھی مایوسی کے بادل چھانٹ سکتا ہے۔ ہمیں مایوسی نہیں بلکہ عزم درکار ہے؛ تقسیم نہیں بلکہ مقصد کی غیر متزلزل یکجہتی چاہیے۔


اگر حکومت، ادارے اور عوام دانش، قربانی اور قومی مفاد کے جذبے کے ساتھ ایک صفحے پر آ جائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی معیشت کا چاند بھی پوری شان کے ساتھ طلوع ہوگا، اور اس کی روشنی اس پیارے وطن کے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر دل کو امید، خوشحالی اور وقار سے منور کر دے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔