Saturday, May 9, 2026
ہومکالم وبلاگزمیجر عزیز بھٹی،معرکہ حق اور جذبوں کا انرجی بوسٹر

میجر عزیز بھٹی،معرکہ حق اور جذبوں کا انرجی بوسٹر

تحریر:محمد محسن اقبال


انسان کی زندگی میں بعض یادیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے گرد و غبار سے کبھی مدھم نہیں پڑتیں۔ وہ لمحے، وہ آوازیں، وہ مناظر اور وہ احساسات نسلوں کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ہمارے لیے 6 ستمبر 1965ء بھی ایک ایسی ہی تاریخ ہے، جو صرف ایک جنگ کی یاد نہیں بلکہ قومی غیرت، اجتماعی بیداری اور قربانی کے ایک درخشاں باب کی علامت ہے۔ ابتدائی تعلیمی ایّام میں جب ہم اسکول کی نیم روشن جماعتوں میں لکڑی کی بنچوں پر بیٹھ کر تاریخ کی کتابیں کھولا کرتے تھے، تو ان کے صفحات ہمیں ایک ایسے دور میں لے جاتے تھے جہاں قومیں اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ انہی صفحات میں ہمیں بتایا جاتا تھا کہ کس طرح رات کی تاریکی میں ایک مکار دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید ایک نومولود ریاست خوف زدہ ہو کر گھٹنے ٹیک دے گی۔ مگر اُسے کیا خبر تھی کہ یہ سرزمین صرف مٹی کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایمان، غیرت اور قربانی کی ایک زندہ علامت ہے۔


صدر ایوب خان کا وہ تاریخی خطاب آج بھی قومی حافظے میں گونجتا محسوس ہوتا ہے۔ اُن کی آواز میں جو اعتماد، استقلال اور حوصلہ تھا، اُس نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ گلیوں، محلوں، بازاروں اور گھروں میں ایک عجیب روحانی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ مائیں اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے حصار میں رخصت کرتی تھیں، بچے سپاہیوں کے لیے خطوط لکھتے تھے، اور قوم کا ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلانے میں مصروف دکھائی دیتا تھا۔ یہ صرف افواجِ پاکستان کی جنگ نہ تھی بلکہ پوری قوم کے وقار اور بقا کی جنگ تھی۔


پھر جب میجر عزیز بھٹی شہید کا ذکر آتا تو ہماری سانسیں تھم سی جاتیں۔ اُن کی داستانِ شجاعت صرف عسکری تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ وفا، استقامت اور ایثار کی معراج ہے۔ دشمن کی شدید گولہ باری میں کئی روز تک مورچے میں ڈٹے رہنا، اپنی جان کی پروا کیے بغیر وطن کی حفاظت کرنا، اور آخرکار مادرِ وطن پر قربان ہو جانا ایسا منظر ہے جو آج بھی دلوں کو ہلا دیتا ہے۔ اُن کا نام سنتے ہی دل احترام سے جھک جاتا ہے۔ ایسے لوگ قوموں کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ اُن کی قربانیاں وقت کے ساتھ فراموش نہیں ہوتیں بلکہ نسلوں کے لہو میں جذب ہو جاتی ہیں۔


6ستمبر کی تقریبات ہمارے لیے کسی تہوار سے کم نہ ہوتیں۔ اسکولوں میں ملی نغمے گونجتے، شہداء کی تصاویر سجائی جاتیں، اور اساتذہ کی گفتگو میں ایک عجیب درد اور فخر شامل ہوتا۔ ہم بچوں کے دلوں میں بھی یہ خواہش جاگتی کہ کاش ہم بھی اُس دور کے گواہ ہوتے۔ جب اساتذہ چونڈہ کے محاذ، لاہور کے دفاع اور سیالکوٹ کی بہادری کی داستانیں سناتے تو ہماری آنکھوں میں خواب اور دلوں میں ولولہ پیدا ہو جاتا۔ انہی کہانیوں نے ہمارے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ وطن محض زمین کا ایک خطہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جس کی حفاظت ایمان کا حصہ ہے۔


وقت گزرتا گیا، نسلیں بدلتی رہیں، مگر قوموں کی اصل روح کبھی نہیں بدلتی۔ مئی 2025ء میں جب ایک بار پھر خطے کی فضاؤں میں کشیدگی پھیلی اور دشمن نے اپنی روایتی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان نے جس بصیرت، قوتِ ارادی اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا، اُس نے پوری قوم کو ایک بار پھر 1965ء کی یاد دلا دی۔ یہ محض ایک عسکری ردعمل نہ تھا بلکہ قومی خودداری کا ایک عظیم اظہار تھا۔ اس مرحلے پر‘‘معرکہ? حق’’اور‘‘بنیانٌ مرصوص’’جیسی اصطلاحات قوم کی اجتماعی زبان بن گئیں۔ یہ الفاظ صرف عسکری کارروائیوں کے نام نہ تھے بلکہ اُس روح کی علامت تھے جو قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتی ہے۔


‘‘معرکہ? حق’’دراصل اُس اصولی مؤقف کی علامت بن کر ابھرا جس میں پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنی خودمختاری، قومی وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ معرکہ صرف سرحدوں پر نہ لڑا گیا بلکہ سفارتی محاذ، ذرائع ابلاغ، قومی بیانیے اور عوامی یکجہتی کے میدانوں میں بھی پوری قوت سے لڑا گیا۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی قوم اختلافات کے باوجود اپنے وطن کے دفاع کے معاملے میں کس طرح متحد ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔


اسی طرح‘‘بنیانٌ مرصوص’’کی روح نے قوم کو قرآنِ حکیم کی اُس تعلیم کی یاد دلائی جس میں اہلِ ایمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار قرار دیا گیا ہے۔ اس تصور نے نوجوان نسل کے اندر ایک نئی توانائی پیدا کی۔ سوشل میڈیا سے لے کر تعلیمی اداروں تک، ہر جگہ وطن سے محبت اور قومی وقار کے جذبے کی ایک نئی لہر محسوس کی گئی۔ نوجوانوں نے پہلی بار اپنے عہد میں یہ منظر دیکھا کہ کس طرح ایک قوم اپنے دفاع کے لیے متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہے اور کس طرح افواج اور عوام ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔ یہ صرف جنگی حکمتِ عملی کی کامیابی نہ تھی بلکہ قومی نفسیات کی تجدید تھی۔
ان واقعات نے ہمیں یہ بھی یاد دلایا کہ قومیں صرف معیشت یا اسلحے سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ اُن کی اصل قوت اُن کے نظریے، اتحاد اور قربانی کے جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنے شہداء کو یاد رکھتی ہے، اپنے محسنوں کی قربانیوں کا احترام کرتی ہے، اور نئی نسل کے دلوں میں وطن کی محبت کو زندہ رکھتی ہے، تو اُسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔


آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف جدید علوم ہی نہ دیں بلکہ اُنہیں اپنی تاریخ، اپنے شہداء، اور اپنی قومی جدوجہد سے بھی روشناس کرائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ پاکستان ہمیں کسی تحفے میں نہیں ملا بلکہ لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ آزادی ایک مسلسل ذمہ داری ہے، اور قومی وقار کا تحفظ ہر شہری کا فرض ہے۔ اگر نئی نسل کے دلوں میں یہ شعور زندہ رہا تو پاکستان ہمیشہ سربلند رہے گا۔


یہ وطن اُن شہداء کی امانت ہے جنہوں نے اپنے خون سے اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید سے لے کر مئی 2025ء کے معرکہ حق تک، قربانی اور استقامت کی ایک روشن زنجیر ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہی تسلسل ہماری اصل پہچان ہے۔ کل کے وہ بچے جو اسکولوں میں 1965ء کی داستانیں سن کر جذباتی ہو جاتے تھے، آج اپنے بچوں کو مئی 2025ء کے قومی عزم اور‘‘بنیانٌ مرصوص’’کی مثالیں سنا رہے ہیں۔ یہی نسل در نسل منتقل ہونے والا جذبہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
جب تک اس سرزمین میں وطن سے محبت کرنے والے دل دھڑکتے رہیں گے، جب تک ماؤں کی دعائیں اپنے سپاہیوں کے ساتھ رہیں گی، جب تک نوجوانوں کی آنکھوں میں قومی وقار کے خواب زندہ رہیں گے، تب تک پاکستان نہ صرف قائم رہے گا بلکہ عزت، استقامت اور وقار کے ساتھ دنیا کے نقشے پر اپنی روشن پہچان برقرار رکھے گا۔



روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔