تحریر: محمد محسن اقبال
انسانی معاشرے کی اولین صبح سے ہی تصادم اجتماعی زندگی کا ایک ناگزیر پہلو رہا ہے۔ ریاستوں، سرحدوں اور تحریری قوانین کے وجود سے بہت پہلے، انسانی گروہ زمین، پانی، خوراک اور بقا کے لیے باہم برسرِ پیکار رہے۔ یہ ابتدائی جھڑپیں بھی محض اتفاقی نہ تھیں بلکہ ان میں پیش بندی، تدبیر اور حکمتِ عملی کا عنصر شامل تھا۔ تاہم، منصوبہ بندی اپنے اندر ایک مہلک کمزوری بھی رکھتی تھی؛ جب ارادے فاش ہو جاتے—چاہے خیانت کے سبب، لاپرواہی سے یا دشمن کی نگرانی کے باعث—تو برتری لمحوں میں زائل ہو جاتی۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے راز داری رفتہ رفتہ جنگ کا بنیادی اصول بن گئی، اور منصوبوں کو علامات، اشاروں اور بالآخر چنے ہوئے ناموں کے پردے میں چھپایا جانے لگا۔ یوں وہ بنیاد پڑی جسے آج ہم عسکری کوڈ نیمز کے نام سے جانتے ہیں۔
آثارِ قدیمہ اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ منظم تشدد تہذیب سے بھی پہلے وجود رکھتا تھا۔ دریائے نیل کے کنارے واقع جبل الصحابہ کا قبرستان، جو تقریباً چودہ ہزار برس پرانا ہے، مسلسل جنگ کا قدیم ترین ثبوت پیش کرتا ہے۔ یہاں مردوں، عورتوں اور بچوں کی ہڈیاں ملی ہیں جن میں پتھریلے تیروں کے سر پیوست ہیں۔ کچھ زخم بھر چکے تھے، کچھ جان لیوا ثابت ہوئے، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ کوئی ایک ہولناک قتلِ عام نہ تھا بلکہ وقتاً فوقتاً ہونے والے حملوں کا سلسلہ تھا۔ ماحولیاتی دباؤ اور وسائل کی قلت نے ان جھگڑوں کو جنم دیا، اور یہ حقیقت آشکار کی کہ خانہ بدوش شکاری بھی بقا کے خطرے میں طویل اور منظم جنگ لڑ سکتے تھے۔ کینیا کے ناتاروک اور یورپ و آسٹریلیا کی قدیم چٹانی تصویریں بھی اسی داستان کو دہراتی ہیں کہ جنگ محض مہذب زندگی کی پیداوار نہیں بلکہ خوف اور کمی کے جواب میں انسانی ردِعمل ہے۔
تحریر کے ظہور کے ساتھ ہی جنگ ایک نئے اور منظم قالب میں تاریخ کا حصہ بن گئی۔ قدیم میسوپوٹیمیا میں سومیری ریاستوں کے ریکارڈ ہمیں شہر ریاستوں کے باہمی تصادم اور ایلام جیسے ہمسایہ علاقوں سے جنگوں کی خبر دیتے ہیں۔ لگش اور اما کے درمیان 2450 قبل مسیح کی جنگ، جو‘‘اسٹیل آف دی وَلچرز’’پر کندہ ہے، ہمیں منظم پیادہ فوج، قیادت کے درجات، علاقائی فتوحات اور نفسیاتی حربوں کی جھلک دکھاتی ہے۔ تشدد اب ایک وقتی عمل نہ رہا بلکہ ریاستی پالیسی کا ہتھیار بن گیا۔ مصر کی تاریخ میں 1457 قبل مسیح کی جنگِ میگدو نے اس ارتقا کو مزید آگے بڑھایا، جہاں پہلی بار جنگ کی تفصیلات، راستے، ہتھیار، ہلاکتیں اور محاصرے کی روداد محفوظ کی گئی۔ جنگ اب منظم، دستاویزی اور شعوری طور پر یادگار بن چکی تھی۔
جیسے جیسے جنگ کا دائرہ وسیع اور اس کی پیچیدگی بڑھی، راز داری کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔ اگرچہ قدیم ادوار میں مہمات کو اکثر مقامات یا حکمرانوں کے نام سے پکارا جاتا تھا، لیکن بیسویں صدی میں عسکری کوڈ نیمز کا باقاعدہ استعمال سامنے آیا، جب مواصلاتی ذرائع کی نگرانی ایک بڑا خطرہ بن گئی۔ پہلی عالمی جنگ میں جرمن افواج نے‘‘مائیکل’’اور‘‘جیورجیٹ’’جیسے غیر جانبدار ناموں کے ذریعے اپنے حملوں کو ترتیب دیا۔ دوسری عالمی جنگ میں یہ عمل ایک فن بن گیا، جہاں‘‘اوورلارڈ’’،‘‘بارباروسا’’اور‘‘باڈی گارڈ’’جیسے نام نہ صرف راز داری بلکہ فریب کا ذریعہ بھی بنے۔ ان ناموں کا انتخاب اس انداز سے کیا جاتا تھا کہ وہ حقیقت کو چھپائیں یا کبھی کبھار دشمن کو گمراہ کریں۔
جنگِ عظیم دوم کے بعد اور سرد جنگ کے زمانے میں، کوڈ نیمز مزید منظم ہو گئے۔ ان کے انتخاب کے لیے باقاعدہ نظام وضع کیے گئے تاکہ ابہام اور تکرار سے بچا جا سکے۔ اسی کے ساتھ، خاص طور پر امریکہ میں، ان ناموں نے نفسیاتی اور سیاسی اہمیت بھی اختیار کر لی۔‘‘جسٹ کاز’’،‘‘ڈیزرٹ اسٹورم’’اور‘‘اینڈیورنگ فریڈم’’جیسے ناموں نے جنگ کو محض عسکری عمل کے بجائے ایک بیانیہ میں ڈھال دیا، جہاں الفاظ کے ذریعے جواز، حوصلہ اور عوامی حمایت پیدا کی جاتی ہے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ اس عالمی ارتقا کا ایک جامع عکس پیش کرتی ہے۔ 1947 میں وجود میں آنے والا یہ ملک ابتدا ہی سے جنگ کے امتحان سے دوچار ہوا۔ کشمیر کے محاذ پر‘‘آپریشن گلمرگ’’، 1965 میں‘‘جبرالٹر’’اور‘‘گرینڈ سلیم’’، اور 1971 کا سانحہ، جس میں‘‘آپریشن سرچ لائٹ’’شامل تھا، روایتی جنگی حکمتِ عملی کے ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بعد ازاں فوجی کردار داخلی استحکام، سیاسی مداخلت اور شہری امن و امان تک پھیل گیا، جیسا کہ‘‘آپریشن فیئر پلے’’اور کراچی میں کیے گئے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے۔
نائن الیون کے بعد کا دور پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جب اسے غیر روایتی جنگ، شدت پسندی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘المیزان’’،‘‘راہِ راست’’،‘‘راہِ نجات’’،‘‘ضربِ عضب’’اور‘‘ردّالفساد’’جیسے آپریشنز نے اس بات کو واضح کیا کہ اب جنگ کا میدان بدل چکا ہے۔ یہ کارروائیاں نہ صرف عسکری تھیں بلکہ اخلاقی و قومی عزم کی عکاس بھی تھیں، جن کے ناموں میں اصلاح، نجات اور حق کی جھلک نمایاں تھی۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی‘‘آپریشن معرکہ? حق’’ہے، جس کا مفہوم خود اپنے اندر ایک اخلاقی اعلان رکھتا ہے۔ یہ محض ایک عسکری مہم نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان کشمکش کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان کی سلامتی کی حکمتِ عملی اب صرف دفاعی تدابیر تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے عدل، استحکام اور قومی وقار کے اصولوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
اسی تسلسل میں‘‘آپریشن بنیان مرصوص’’ایک بالغ اور مربوط حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کی اصطلاح سے ماخوذ یہ نام ایک ایسی مضبوط دیوار کی تصویر پیش کرتا ہے جو ناقابلِ شکست ہو۔ یہ آپریشن عسکری قوت، انٹیلی جنس اداروں اور ریاستی ڈھانچے کے باہمی ربط کی علامت ہے، جو منتشر ردِعمل کے بجائے متحد اور دیرپا حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نام کا انتخاب اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید عسکری اصطلاحات میں ثقافتی اور روحانی معنویت بھی شامل ہو چکی ہے۔
تاریخ کے سفر میں، قدیم پتھریلے تیروں سے لے کر جدید کوڈ نیمز تک، جنگ نے ہمیشہ انسانی حالات کے مطابق خود کو ڈھالا ہے۔ یہ نام اب محض خفیہ اشارے نہیں رہے بلکہ وہ ایسے اوزار بن چکے ہیں جو راز داری، فریب، ہم آہنگی اور بیانیہ سازی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پاکستان کی عسکری تاریخ بھی اسی وسیع انسانی داستان کا ایک حصہ ہے۔
اگرچہ ہتھیار، ٹیکنالوجی اور اصطلاحات بدلتی رہتی ہیں، لیکن جنگ کے بنیادی محرکات وہی رہتے ہیں—خوف، طاقت، خواہش اور عدم تحفظ۔ راز داری آج بھی اس کا وفادار ساتھی ہے۔ کوڈ نیمز، چاہے وہ قدیم پتھروں پر کندہ ہوں، ریڈیو لہروں میں سرگوشی کرتے ہوں یا جدید بیانات میں ظاہر ہوں، محض نام نہیں بلکہ فکری حصار ہیں، جو نیتوں کو چھپاتے، قوتوں کو یکجا کرتے اور تاریخ میں جنگ کی تعبیر کو ہمیشہ کے لیے متعین کر دیتے ہیں۔
