Thursday, May 14, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزخاموشی کا دباؤ

خاموشی کا دباؤ

کالم نگار : عائشہ مقصود
ڈیجیٹل دور میں جہاں اظہا ر رائے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، وہیں ایک خاموش بحران بھی
جنم لے رہا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ بحران ”خاموشی کا دباؤ“ ہے ایک ایسا
ذہنی اور سماجی مسئلہ جو بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر اندر ہی اندر افراد کو متاثر کرتا رہتا ہے۔
نے اظہار کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکنTikTok اور Instagram سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے
ساتھ ہی ایک غیر حقیقی معیار بھی قائم کر دیا ہے۔ یہاں ہر فرد اپنی زندگی کا بہترین رخ پیش کرتا
ہے، جس سے دیکھنے والوں کے ذ ہن میں ایک مثالی مگر غیر حقیقی دنیا کا تصور بنتا ہے۔ اس
تقابل کے نتیجے میں بہت سے نوجوان خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں، مگر اس احساس کو
ظاہر نہیں کرتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ”خاموشی کا دباؤ“ جنم لیتا ہے۔ نوجوان اپنے مسائل، خوف اور الجھنوں کو دل
میں دبا لیتے ہیں۔ انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی کمزوری ظاہر کریں گے تو انہیں سمجھا
نہیں جائے گا بلکہ تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ نتیجتاً، وہ بظاہر معمول کی زندگی گزارتے ہیں مگر
اندرونی طور پر ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ سننے کے بجائے فوری فیصلے سنانے کا عادی ہو چکا ہے۔ گھریلو اور
سماجی سطح پر مکالمے کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ افراد کو اپنی بات کہنے
کے لیے محفوظ ماحول میسر نہیں آتا، جس کے باعث خاموشی ایک عادت اور پھر ایک بوجھ بن
جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ سننے کی ثقافت کو فروغ دیں۔ نوجوانوں کو یہ یقین
دالیا جائے کہ ان کے جذبات اہم ہیں اور انہیں بیان کرنا کمزوری نہیں بلکہ شعور کی عالمت ہے۔
تعلیمی اداروں اور گھریلو نظام میں ایسا ماحول پیدا کیا جانا چاہیے جہاں مکالمہ، برداشت اور
ہمدردی کو اہمیت دی جائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ سکون کی عالمت نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات یہ
ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتا، مگر سب کچھ بدل دینے کی صالحیت
رکھتا ہے

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔