Sunday, May 31, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومتعلیمپاکستان کو تعلیمی چیلنجز سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے‘سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز

پاکستان کو تعلیمی چیلنجز سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے‘سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز

اسلام آباد(سب نیوز)سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا جس کا عنوان پاکستان میں تعلیمی فضیلت کی راہ ہموار کرنا: پالیسی، نصاب، رسائی تھا ۔ مقررین میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے اسکول آف ایجوکیشن کے ڈین ڈاکٹر فیصل باری؛ مہرین اقبال صدیقی، سی ای او انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن، ایمپاورمنٹ اینڈ لرننگ (iFEEL)؛ اور ڈاکٹر صائمہ اشرف کیانی، چیئرپرسن شعبہ بین الاقوامی تعلقات فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی شامل تھے۔

اپنے خطاب میں، ڈاکٹر فیصل باری نے پاکستان کے تعلیمی نظام کے اندر اہم مسائل پر روشنی ڈالی،ان کا کہنا تھا کہ ملک کا نظامِ تعلیم تنقیدی سوچ، فکرمندی، انصاف پسندی، ابہام کو اپنانے کی صلاحیت، فیصلہ سازی، اور ثبوت پر مبنی استدلال جیسی مہارتوں کو فروغ نہیں دے پا رہا۔ خود کاری کی نئی لہر کے تناظر میں ڈاکٹر باری نے اعلی تعلیم میں ٹیکنالوجی کے کردار پر بات کی اور تعلیمی اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مستقبل اس کے تعلیمی نظام پر منحصر ہے۔

انہوں نے اسکول کی سطح پر، خاص طور پر تدریس اور نصاب میں، خاطر خواہ بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو ترغیب دینے اور منظم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ افرادی قوت اور وسیع تر معاشرے کے ابھرتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔’سکول سے باہر بچے اور علاقائی تفاوت’ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے، محترمہ مہرین اقبال صدیقی نے بتایا کہ پاکستان میں موجودہ تعلیمی انفراسٹرکچر اس کے 2 کروڑ 60 لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو شامل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی مہم کو اسی شدت اور تیزی کے ساتھ شروع کرنے کی ضرورت ہے جو کووڈ بحران کے رد عمل میں اپنائی گئی۔

اس ضمن میں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں اگاہی اور شعور بیدار کرنے میں مساجد اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مزید برآں، محترمہ صدیقی نے تعلیم کے رسمی، غیر رسمی اور ہائبرڈ طریقوں کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی ضرورت اجاگر کی، جس سے سب کے لیے زیادہ مربوط اور قابل رسائی تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ ان پیچیدہ تعلیمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے محترمہ صدیقی نے ‘ایک کمرہ ایک مضمون ایک استاد’ کا سادہ لیکن موثر طریقہ

تجویز کیا۔نصابی مواد کے گرد اختلافات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر صائمہ اشرف کیانی کا کہنا تھا کہ نصاب کی ترتیب کاری کے عمل سے سیاسی تعصبات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک متحرک معاشرت کی تبدیل ہوتی ہوئی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے پاکستان کے متنوع ثقافتی اور علاقائی پس منظر کا احترام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا کہ نصاب جامع، متعلقہ اور تنقیدی سوچ کو فروغ دے۔

انہوں نے تعلیمی نظام کی تزویراتی نظرثانی کی وکالت کی، جس کا مقصد اسے ملک کی پیچیدہ شناخت اور مستقبل کی ضروریات کا زیادہ عکاس اور جوابدہ بنانا ہے۔اپنے اختتامی کلمات میں، صدر CASS ایئر مارشل فرحت حسین خان (ریٹائرڈ) نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا روایتی اور غیر روایتی قومی سلامتی سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا،’اگر ہم اپنی سلامتی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ اپنے اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی میدان میں لایا جائے۔‘ صدر CASS نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ قلیل مدتی انتخابی مفادات سے بالاتر ہو کر طویل مدتی پالیسیوں میں سرمایہ کاری کریں۔

انہوں نے اس بات کو تقویت دی کہ ‘تربیت’ اساتذہ، والدین اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔