کالم نگار: محمد علی
آج کا نوجوان بظاہر بہت پُراعتماد دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں وه کئی ذہنی اور
جذباتی مسائل کا شکار ہے۔ تعلیمی دباؤ، بے روزگاری، معاشی مشکلات اور سوشل
میڈیا کا اثر نوجوان نسل کو اندر ہی اندر کمزور کر رہا ہے۔
اکثر نوجوان اپنے مسائل دوسروں کے سامنے بیان نہیں کرتے۔ وه خاموش رہتے ہیں،
مگر ان کے اندر ایک شور برپا ہوتا ہے۔ یہی خاموشی بعض اوقات ڈپریشن، بے
چینی اور مایوسی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت پر بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لوگ
جسمانی بیماری کو اہمیت دیتے ہیں مگر ذہنی تکلیف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی
رویہ نوجوانوں کو مزید تنہائی کی طرف دھکیلتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو سنا جائے، سمجھا جائے اور ان کی
رہنمائی کی جائے۔ ایک صحت مند معاشره وہی ہوتا ہے جہاں نوجوان ذہنی سکون
اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکیں.
