تحریر: گل نایاب شاہ قیصر
پیارے پاکستان!
ایک عرصے سے میری خواہش تھی کہ میں آپ کو خط لکھوں اور آپ پہ جو بیت رہی ہے اس کا سوگ آپ کے ساتھ مل کے مناؤں۔
لیکن مجھے موقع ہی نہیں ملا کہ میں آپ کو لکھ سکوں۔ جب میں کسی ایک سانحے کے بعد قلم کی چیخ کو کاغذ کے کانوں تک پہنچانے کی غرض سے بیٹھ جاتا ہوں تو اسی لمحے کوئی دوسرا سانحہ پیش آتا ہے۔ میں قلم کی نوک توڑ دیتا ہوں اور کاغذ کے آنسو پونچھ لیتا ہوں۔ پھر اگلے غم کے کم ہونے کا انتظارکرتا ہوں تا کہ میں آپ کو خط لکھ سکوں اورآپ کا درد بانٹ سکوں۔
لیکن پیارے پاکستان! اس بار تو حد ہی ہو گیا۔ اس بار میں آپ کے غم کے کم ہونے کا انتظار نہیں کرسکا، اس بار مجھے آپ کو لکھنا ہی پڑرہا ہے۔ مجھے اندازہ ہے اس وقت آپ کو داخلی اور خارجی محاز پر بڑی جنگوں کا سامنا ہے اور کسی دوسرے مسئلے کا ذکر کرنا نہیں بنتا۔
لیکن پیارے پاکستان! میں کیسے اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ سکتا ہوں جب آپ کی پیدائش کے دن اور وہاں، جہاں آپ کی پیدائش کا خواب بنا گیا، چند وحشی درندوں نے جنھیں بدقسمتی سے دنیا آپ کے بچے مانتی ہے، کس بے دردی اور کس بے رحمی سے آپ کی ناموس کو ہوا میں اچھالا۔
پیارے پاکستان! مجھے خود سے نفرت ہوگئی ہے کہ آپ کے آغوش میں ایسے جاہل اور منافق بھی پل رہے ہیں جو ان چار سو جاہلوں کی جہالت کا دفاع کررہے ہیں۔
میرے ماں! دیکھو، مجھ پر اور بھی بہت سے دکھ ہیں، مجھے اب تک آپ سے صحیح معنوں میں تعلق جوڑنے سے روکا گیا ہے۔ لیکن اس حال میں بھی میں آپ کی ناموس پہ ایک آنچ نہیں آنے دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ میں آپ کا محافظ ہوں، میں آپ کی بیٹیوں کی ناموس کا محافظ ہوں۔ لاکھ شکر کہ میری تربیت ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں مجھے آپ سے محبت اور آپ کے بچوں سے عزت سکھائی گئی۔
پیارے پاکستان! یہ سانحات کیوں کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں؟ کیوں آئے روز 2 سال کی معصوم بچی سے لے کر 50 سال تک کی عورت محفوظ نہیں ہیں؟ کیوں یہاں طاقت کے زور پر عزتیں نیلام کی جاتی ہے اور جب پوچھا جائے تو عورت کے کپڑوں کو قصوروار ٹہرایا جاتا ہے۔
پیارے پاکستان! کیوں یہ منافق آپ کو دنیا کے سامنے رسوا کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ دیکھو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ چند جاہلوں کی وجہ سے دنیا آپ کو انتہا پسند کہے، مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ چند وحشی درندوں کی وجہ سے دنیا آپ کو انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ٹہرائے، میں آپ کو ماں سمجھتا ہوں، آپ کی عزت کو اپنی عزت سمجھتا ہوں۔ لیکن میرے عظیم وطن! یہ سستے عیاش پسند افراد جو آپ سے وفاداری کا ڈھونک رچانے کے لئے مجھے غددار کہہ کر خوش ہوں گے ان کا کیا کروں؟ جو آپ کے نظریے کا خود کو پابند سمجھتے ہوئے مجھے لادین کہیں گے اس کا کیا کروں؟ میرے پیار وطن، ان جاہلوں کو آزادی کا مطلب اور قدر کب سمجھ آئے گی؟
پیارے وطن! یہی سستے عیاش افراد کشمیر اور فلسطین کی عورتوں کے حقوق کا رونا روئیں گے، اس منافقت کا کیا کروں؟ آپ کے آغوش میں بسنے والی مائیں، بہنیں، بیٹیاں خوف کے مارے اب گھر سے نکلنے سے بھی رہے، ان کا کیا کروں؟
پیارے وطن! مجھے دکھ اس بات کا نہیں کہ یہ لوگ سدھرنہیں جائیں گے۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ ان کو وہ سزائیں نہیں ملتی جن کے یہ مستحق ہیں، مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ ہر دردناک سانحے کے بعد ان کا حوصلہ مزید پختہ ہوجاتا ہے۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ جس کی ناموس کو ہوا میں اچھالا جاتا ہے اس کا سدباب اس نظام میں ناپید ہے۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ ان چند بھیڑیوں کی وجہ سے تیرے سارے بچے مشکوک ہو جاتے ہیں، دنیا کی نظر میں بھی اور اپنی مائوں، بہنوں کی نظر میں بھی۔
پیارے پاکستان! یہ چند سستے عیاش پرست افراد میرے نبی کی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ پیارے وطن یہ چند عیاش پرست لڑکے اخلاقیات کے الف بے سے بھی واقف نہیں ہیں۔ عظیم ماں، ان افراد نے اس جگہ کی توہین کی ہے جہاں کبھی آپ کے ہونے کا خواب دیکھنے آپ کے بزرگ بیٹھ جاتے تھے۔
لیکن پیارے پاکستان! میں آپ کے ان جاہل بچوں کی کہانی کیسے سناؤں جو ان درندوں کا دفاع کرنے بیٹھ گئے ہیں۔
میں چپ رہتا مگر کیسے۔ میں بولوں بھی تو سنے گا کون؟ بس ایک درد تھا پیارے پاکستان, جو میں آپ سے بانٹ چکا ہوں۔ مجھے انصاف کی امید اس نظام سے بالکل بھی نہیں اور نہ ہی یہ واقعہ کوئی آخری واقعہ ہے۔ آپ کی ناموس سے پھر کھیلا جائے گا اور اپ کو دنیا میں رسوا کرنے کی بھر پور کوشش بھی کی جائے گی۔ اور اس پہ ظلم یہ کہ یہی افراد پھر باجے اور سیٹیاں لے کر آپ کی آزادی کا جشن منانے بھی نکلیں گے۔ آفسوس۔
بس اب ایک ہی حل ہے یا تو سب اپنی حفاظت کا انتظام خود کریں یا پھر گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیں۔ یہ بات انتہائی افسوس اور صدمے کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔
پیارے پاکستان! ہم پہ لاکھ تہمت سہی، لاکھ الزام سہی، ہماری وفاداری پر لاکھ شکوک و شبہات سہی پھر بھی ہم آپ کی ناموس اور آپ کے سر کو بلند رکھنے کے لئے اپنے حصے کی شمع ضرور روشن کریں گے۔ انشاللہ
جاتے جاتے کچھ شکوے بھی ہیں لیکن وہ پھر کبھی۔ رب کریم آپ کا محافظ ہو۔
