کابل (آئی پی ایس )کابل اور کنڑ کے علاقے دنگام سے متعلق افغان طالبان کے ڈپٹی ترجمان حمداللہ فطرت کے بیانات کے بعد ایک مرتبہ پھر طالبان کے بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد سامنے آیا ہے۔طالبان کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ دنگام میں پاکستان کی جانب سے کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، جبکہ گھروں، اسکولوں، مساجد اور ایک صحت مرکز کو نقصان پہنچا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسے بیانات طالبان کے ایک مستقل پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس میں بغیر تصدیق کے الزامات لگا کر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے مذہبی مقامات خصوصا مساجد کو عبادت گاہوں کے بجائے آپریشنل مراکز، رابطہ نیٹ ورک اور پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح رہائشی علاقوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں اسلحہ، جنگجو اور لاجسٹک سہولیات چھپانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرزِ عمل شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ایک منظم حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں عام لوگوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال کر عسکری سرگرمیوں کو چھپایا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق طالبان کا ایک مستقل طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ ایک جانب شہری علاقوں میں مبینہ طور پر عسکری سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں اور دوسری جانب کسی بھی نقصان کی صورت میں اس کو پروپیگنڈا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعدد مواقع پر شہری مراکز اور عوامی ڈھانچوں کے قریب اسلحہ ڈپو اور جنگجوں کی موجودگی سامنے آتی رہی ہے، جو اس طرزِ عمل کی تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔طالبان کی جانب سے سرحد پار بلا اشتعال شیلنگ کے نتیجے میں 52 پاکستانی شہری شہید اور 84 زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے ریاستی کارروائیاں صرف تصدیق شدہ دہشتگرد ٹھکانوں، نیٹ ورکس اور خطرناک ڈھانچوں کے خلاف کی جاتی ہیں۔
کارروائیوں میں احتیاط اور تناسب کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ شہری نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ اس کے برعکس طالبان شہری آبادی کے اندر چھپ کر عسکری ڈھانچے محفوظ رکھتے ہیں اور بعد ازاں نقصان کو سیاسی اور بیانیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ زمینی حقائق اور طالبان کے بیانات میں واضح فرق موجود ہے، جہاں ایک طرف شہری تحفظ کا دعوی کیا جاتا ہے اور دوسری طرف انہی علاقوں میں عسکری سرگرمیوں کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں۔
