اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان حج مشن کے سربراہ اور ڈائریکٹر جنرل حج جدہ، عبدالوہاب سومرو نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، سعودی عرب میں بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات اور کرنسی کے دبا کے باوجود پاکستان نے گزشتہ 4 سالوں میں حج اخراجات میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔انتظامی اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے سروسز کے معیار میں 100 فیصد بہتری لائی گئی ہے۔
میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں عبدالوہاب سومرو نے بتایا کہ ایک لاکھ 18 ہزار 925 پاکستانی عازمین کی رہائش کے لیے العزیزیہ، بطحہ قریش، النسیم، ری بخشی، جرول اور نزعہ میں 278 ایسی عمارتیں حاصل کی گئی ہیں جن کی منظوری، معائنہ اور ڈیجیٹل دستاویزات کا عمل مکمل طور پر ‘مسار’ پورٹل کے ذریعے کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ العزیزیہ میں انڈونیشیا، ملائیشیا، بھارت اور عراق جیسے بڑے ممالک بھی اپنے حجاج کو ٹھہراتے ہیں۔
عبدالوہاب سومرو کے مطابق العزیزیہ میں رہائش پذیر پاکستانی عازمین کو حرم تک رسائی کے لیے 24 گھنٹے مفت شٹل سروس فراہم کی جا رہی ہے، جس سے عازمین باآسانی نماز کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ میں تمام پاکستانی عازمین کو مرکزیہ کے ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے جس سے انہیں مسجد نبوی میں عبادات کرنے میں سہولت ملی ہے۔
ڈی جی حج نے بتایا کہ پاکستان حج مشن نے گزشتہ 4 سالوں میں بہتر فنانشل مینجمنٹ اور مذاکراتی مہارتوں کے ذریعے مالیاتی شفافیت کو نئی سطح تک پہنچایا۔ اسی وجہ سے 2023 میں 17 ارب، 2024 میں 7 ارب اور 2025 میں 3 ارب روپے پاکستانی حجاج کو ریفنڈ کیے گئے، جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریفنڈ ہے۔ تمام ادائیگیاں اور معاہدے ‘مسار’ پورٹل کے ذریعے آن لائن ہوتے ہیں، جس سے بدعنوانی، غلط بیانی اور انسانی غلطی کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا پر مبنی ٹیکنالوجی اور ‘مسار’ کے قواعد کے مطابق متعارف کرائی گئی اصلاحات نے حج کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے۔ ان اصلاحات میں ‘شارٹ حج’ بے حد مقبول ہوا ہے؛ 2023 میں 17 ہزار عازمین نے شارٹ حج کا انتخاب کیا تھا جو 2026 میں بڑھ کر 41,825 ہو گیا ہے، جو کہ کل عازمین کا 35.17 فیصد بنتا ہے۔
دیگر اصلاحات میں ‘فیملی رومنگ’ بھی شامل ہے؛ ماضی میں مرد و خواتین عازمین کو الگ الگ رکھا جاتا تھا مگر اب اضافی ادائیگی کے ساتھ فیملی رومز بھی دستیاب ہیں۔ اس سال 13.82 فیصد حجاج نے فیملی شیئرنگ کا انتخاب کیا ہے۔ ایک اور اہم قدم ‘گرین بیگیج’ ہے، جس نے ہوائی اڈوں پر سامان کی شناخت اور وصولی کو آسان بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں گمشدہ سامان کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ڈی جی حج نے بتایا کہ مشائر مقدسہ میں پہلے ٹینٹ اور ایئر کولرز ہوتے تھے جنہیں اب مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ کر دیا گیا ہے۔ عازمین کو مکہ یا مدینہ پہنچتے ہی موبائل سم کارڈز فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہ سکیں۔ اس کے علاوہ 29 ہاسپیٹلٹی سینٹرز کے لیے ‘واٹس ایپ بیسڈ کمانڈ سسٹم’ نافذ ہے، جس کے تحت رہائشی عمارت کا 72 گھنٹے قبل معائنہ لازمی ہے۔
ڈی جی حج عبد الوہاب سومرو نے حج2026 کی تصویر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت 1,18,925 پاکستانی حج کی سعادت حاصل کریں گے، جن میں 56.47 فیصد مرد اور 43.53 فیصد خواتین شامل ہیں۔ 55 فیصد عازمین ٹرین جبکہ 45 فیصد بس سروس استعمال کریں گے۔ سب سے زیادہ عازمین اسلام آباد (30.23%)، لاہور (25.17%) اور کراچی (25.06%) سے روانہ ہو رہے ہیں، جبکہ 95.50 فیصد حجاج 70 سال سے کم عمر کے ہیں۔
واضح رہے کہ عبدالوہاب سومرو کو گزشتہ سال سعودی حکومت نے بہترین کارکردگی پر 8 عالمی ہیڈ آف مشنز میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر ‘ایکسلینس ایوارڈ’ سے نوازا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا ہدف ہر سال حاجیوں کے سفر کو مزید آسان اور یادگار بنانا ہے۔
