Monday, April 27, 2026
ہومکالم وبلاگزبھلے وقتوں کے درست فیصلے

بھلے وقتوں کے درست فیصلے

تحریر: محمد محسن اقبال


اسلام آباد کو اپنا مسکن بنائے ہوئے اب پچیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جس کی متوازن خاموشی اور منظم شاہراہیں بسا اوقات اپنے باسیوں کی ان کہی جدوجہد کو پرد? اخفا میں رکھتی ہیں۔ مجھے آج بھی سن 2004 کا وہ لمحہ یاد ہے جب قومی اسمبلی میں میرے ایڈیشنل سیکرٹری طارق شفیق نے نہایت صاف گوئی اور فکر مندی کے امتزاج کے ساتھ کہا تھا کہ اسلام آباد میں سرکاری رہائش حاصل کرنا کوئی معمولی امر نہیں بلکہ ایک ایسا امتحان ہے جو انسان کے صبر، برداشت اور کبھی کبھی اس کی بقا تک کو آزما ڈالتا ہے۔ اس وقت یہ الفاظ کچھ مبالغہ آمیز محسوس ہوئے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ تجربہ ان باتوں کو ایک نئی سنجیدگی عطا کر دیتا ہے۔


اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے، اور اپنے محسن چوہدری شجاعت حسین اور اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی عنایات کے طفیل، مجھے دارالحکومت کے ایک معزز ترین سیکٹر میں سرکاری رہائش نصیب ہوئی۔ ایسی نعمتوں پر شکرگزاری محض رسم نہیں بلکہ دل کا قرض ہوتی ہے، کیونکہ اس شہر میں آج بھی بہت سے لوگ ایک محفوظ چھت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔


کچھ روز قبل ایک ہمسائے سے گفتگو کے دوران ان کے لبوں سے نکلا ایک سادہ مگر گہرا جملہ دل میں اتر گیا۔ انہوں نے ایک آہ کے ساتھ کہا:‘‘اللہ میرے والد کو جزائے خیر دے جنہوں نیبھلے وقتوں میں اسلام آباد میں اپنا گھر بنا لیا۔ اُس زمانے میں گھر وں کی قیمتیں قدرے کم تھیں، ورنہ آج میرے لیے یہاں گھر بنانا ممکن نہ ہوتا۔’’ان کے الفاظ ذاتی تجربے کی حدوں سے نکل کر ایک وسیع تر حقیقت کی ترجمانی کر رہے تھے—ایسی حقیقت جو اسلام آباد کی گلیوں سے آگے بڑھ کر پاکستان کی قومی کہانی میں بھی جھلکتی ہے۔


اقوام بھی افراد کی طرح اُن فیصلوں سے تشکیل پاتی ہیں جو بظاہر معمولی لمحوں میں کیے جاتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ ان کی اہمیت آشکار ہوتی ہے۔ پاکستان نے بھی ایک ایسے ہی فیصلہ کن مرحلے پر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا جراتمندانہ قدم اٹھایا اور یوں دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن گیا۔ یہ فیصلہ بے شمار عالمی دباؤ اور آزمائشوں کے باوجود کیا گیا، اور اس نے ملک کی تزویراتی حیثیت کو ایک نئی جہت عطا کی۔
اس عظیم کارنامے میں حصہ لینے والے سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور رہنماؤں کی خدمات ایسی ہیں جن کا حق ادا کرنا ممکن نہیں۔ قوم ان کی احسان مند ہے، اور یہ احسان صرف یاد اور احترام کے ذریعے ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ یہی صلاحیت مئی 2025 کے واقعات میں پاکستان کی قوت کا مظہر بنی، جب اس نے اپنے عزم اور استقامت سے خطے میں طاقت کے توازن پر ایک واضح نقش چھوڑا۔ یہ صرف عسکری کامیابی نہ تھی بلکہ قومی خود اعتمادی کی بحالی اور اجتماعی ارادے کی تجدید بھی تھی۔


تاہم، قوت کے ساتھ نگرانی اور شکوک بھی جنم لیتے ہیں۔ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں ہمیشہ سے مخالف قوتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں، اور انہیں کمزور کرنے کی مختلف کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ مگر ان تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان کی سول و عسکری قیادت کا اتحاد اور عوام کا غیر متزلزل حوصلہ ہمیشہ ایک مضبوط حصار بن کر ابھرا ہے۔ ایک اجتماعی عزم موجود ہے کہ اس صلاحیت کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔


یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ماضی میں یہ طاقت تو موجود تھی مگر اسے عالمی سطح پر اعتماد کے ساتھ پیش کرنے کا حوصلہ کم تھا۔ ایک جھجھک، ایک معذرت خواہانہ انداز بین الاقوامی معاملات میں محسوس ہوتا تھا۔ لیکن حالیہ برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ احتیاط کی جگہ جرات نے لے لی ہے اور ابہام کی جگہ وضاحت نے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی وقعت بحال کی ہے بلکہ عالمی برادری کا اعتماد بھی حاصل کیا ہے۔
اس نئی خود اعتمادی کا سب سے نمایاں اظہار پاکستان کے اس کردار میں نظر آتا ہے جو وہ پیچیدہ عالمی تنازعات میں ثالثی کے طور پر ادا کر رہا ہے، حتیٰ کہ امریکہ اور ایران جیسے ممالک کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی کوششوں میں بھی۔ یہ وہ مقام ہے جو کبھی ناقابلِ تصور لگتا تھا، مگر آج یہ حقیقت بن چکا ہے۔ یہ اس اصول کی تصدیق ہے کہ اقوام بھی اسی وقت عزت پاتی ہیں جب وہ وقار اور خود اعتمادی کے ساتھ خود کو پیش کرتی ہیں۔
عظمت کبھی عطا نہیں کی جاتی، بلکہ اسے بصیرت اور جرات کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا حالیہ سفر اسی حقیقت کا عکاس ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نے ایسے اقدامات کیے ہیں جنہوں نے نہ صرف اس کی عالمی حیثیت کو بلند کیا بلکہ دنیا میں اس کے مقام کو بھی نئے سرے سے متعین کیا ہے۔


وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو تزویراتی صلاحیت کا سوال صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ایران بھی، ایک خودمختار ریاست کے طور پر، اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کا خواہاں ہے۔ اسے جس مزاحمت کا سامنا ہے وہ جغرافیائی سیاست کے ساتھ ساتھ اس بے چینی کا بھی مظہر ہے جو کسی بھی مسلم ریاست کے طاقت کے میدان میں ابھرنے پر پیدا ہوتی ہے۔یک طرفہ سوچ کے حامل ناقدین اور مخالفین اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، مگر تاریخ ایک مختلف سبق دیتی ہے۔


ایٹمی ہتھیاروں کو جنگ میں استعمال کرنے والا واحد ملک امریکہ ہے، اور وہ بھی ایسے حالات میں جو آج تک اخلاقی اور تاریخی بحث کا موضوع ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر اس وقت جاپان کے پاس بھی ایسی صلاحیت ہوتی تو شاید یہ سانحہ کبھی پیش نہ آتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو جدید تزویراتی فکر کی بنیاد ہے—طاقت کا وجود ہی اس کے استعمال کو روک دیتا ہے۔


اسی کے ساتھ عالمی نظام میں کئی تضادات بھی موجود ہیں۔ امریکہ مختلف ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستوں کو سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرتا ہے، جن کے عوض بھاری مالی وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آیا یہ ضمانتیں ہمیشہ اپنے مقاصد پورے کرنے میں کامیاب رہی ہیں یا نہیں۔


بالآخر حقیقت نہایت واضح ہے۔ سلامتی، وقار اور خودمختاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور اقوام کو اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوتی ہے۔ جس طرح میرے ہمسائے کے والد نے بروقت فیصلہ کر کے اپنے خاندان کا مستقبل محفوظ بنایا، اسی طرح اقوام کو بھی مواقع کے لمحوں میں دور اندیشی اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ تاریخ کے حساب میں وہی فیصلے نسلوں کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں جو امکانات کے لمحوں میں کیے جاتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔