تحریر: محمد عمرعلی
@MUmarAli116
دادا ابوایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ
دین محمد کے بیٹے کی شادی تھی
لیکن دین محمد کا بڑا بھائی کسی بات پر کچھ عرصے سے خفا تھا۔
بیٹے کی شادی قریب آئی تو دین محمد نے اپنے بڑے بھائی کو منانے کیلئے کوششیں شروع کردیں۔
کیسے ممکن تھا کہ دین محمد کے بیٹے کی شادی میں دین محمد کا بڑا بھائی اور دلہا کا تایا ہی موجود نہ ہو؟
کیونکہ پہلے اس بات کو بہت غلط سمجھا جاتا تھا کہ جس سے اپنے سگے رشتے نہیں سنبھالے جاتے وہ آنے والے رشتے یا بننے والے رشتے کیا خاک سنبھالے گا؟
آج کل تو خیر ہم لوگ ماڈرن ہوچکے ہیں اب تو باپ کے بنا بیٹے کی اور ماں کے بنا بیٹی کی بھی شادی ہو جاتی ہے تو پھر باقی رشتے کس کھیت کی مولی ہیں؟
دین محمد اپنے بیٹے کو لے کر اپنے بڑے بھائی یعنی دلہا کے تایا کے گھر پہنچ گیا اور منانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بڑے بھائی سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی اور پیر پکڑ کر ہر طرح کی منت سماجت بھی کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔
اگلے روز ہی بارات لے کر لڑکی والوں کی طرف جانا تھا۔ جب بڑا بھائی جانے کیلئے تیار نہیں ہوا تو دین محمد نے اپنے بیٹے یعنی دلہا کو بڑے بھائی کے گھر کے باہر ایک دیوارکے ساتھ بٹھا دیا
اوربڑے بھائی سے یہ کہتے ہوئے واپس پلٹ گیا ۔ صبح نو بجے بارات کا وقت مقرر ہے اور آپ کے بنا بارات لے کر نہ میں جا سکتا ہوں اور نہ ہی آپ کا بھتیجا اپنے تایا کے بغیر بارات لے کر جانے پر رضا مند ہے۔ فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔
دین محمد کے جانے کے بعد دلہا کا تایا بار بار گلی میں جھانک کر دیکھتا رہا کہ شاید بھتیجا چلا گیا ہو لیکن بھتیجا جوں کا توں وہاں موجود تھا۔
رات کے تین بجے دلہا کے تایا نے اپنے کپڑے بدلے اور حقہ ہاتھ میں لے کر گلی میں پہنچا اپنے بھتیجے کا ہاتھ پکڑ کر کہا چل یار چلتے ہیں۔
تیرا باپ تو ویسے بھی پاگل ہے۔
تایا اور بھتیجا شادی والے گھر پہنچے تو سب نے استقبال کیا اور دین محمد نے پوچھا کہ بھائی جان آگئے آپ؟
جواب ملا کہ
کیسے نہ آتا؟
لڑکی والے کیا سوچتے کہ دلہا کا تایا بارات میں کیوں نہیں آیا اور ایسے خاندان کی بدنامی ہوتی اور اوپر سے تم دلہا کو گلی میں بٹھا کر چلے گئے تھے۔
یوں ہنسی خوشی یہ شادی اپنے اختتام کو پہنچی
رشتے اس طرح جوڑے جاتے ہیں۔
یہ مقام ہوتا ہے رشتوں کا
رشتے اور ان کا مقام
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
