ہومپاکستاناطلاعات کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس، حکومت کا میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان

اطلاعات کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس، حکومت کا میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان

اسلام آباد ،سینیٹ اور قومی اسمبلی کی اطلاعات قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس سینیٹر فیصل جاوید اور رکن قومی اسمبلی ناصر خان موسیٰ زئی کی زیر صدارت پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔
رکن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کمیٹی کے آغاز میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے اس مشترکہ اجلاس میں مکمل اپوزیشن شریک نہیں ہوئی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین کمیٹی اجلاس میں تحفظات کا اظہار کر کے واک آئوٹ کر جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق پارلیمنٹ ہائوس سے باہر منعقد ہونے والے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس کی چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سپیکر قومی اسمبلی سے تحریری طور پر منظوری حاصل کی جاتی ہے ۔کیاقانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا کوئی بھی نمائندہ موجود نہیں ہے ۔جس پر چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات سینیٹر فیصل جاوید نے چیئرمین سینیٹ سے کمیٹی اجلاس کی حاصل کی گئی منظوری فراہم کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس مشترکہ اجلاس کی درخواست رکن قومی اسمبلی و رکن کمیٹی مریم اورنگزیب نے کی تھی ۔ انتہائی اہمیت کا حامل ایجنڈا ہے انہیں اس مشترکہ کمیٹی اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی ۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس کی منظوری ان کے چیئرمین کو سپیکر سے حاصل کرنی چاہیے تھی وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں البتہ قانون کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین اپنے ممبران میں سے ایک ممبر کو بطور قائمقام چیئرمین منتخب کر سکتے ہیں ۔اراکین قومی اسمبلی نے رکن کمیٹی میں سے ناصر خان موسیٰ زئی کو کمیٹی اجلاس کی صدارت کیلئے نامزد کیا ۔سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اور سینیٹر انور لال دین کمیٹی اجلاس سے واک آئوٹ کر کے چلے گئے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تفصیلات سے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا ورکرز کے ساتھ میڈیا مالکان عرصہ دراز سے صحیح سلوک نہیں کر رہے تھے کئی کئی مہینے میڈیا ورکرز کو تنخواہ نہیں دی جاتی اور میڈیا کو کنڑول کرنے کے حوالے سے 7 باڈیز کردار ادا کر رہی تھیں پھر بھی اس میں گیپ تھے ان تمام کو اکٹھا کر کے موثر قانون سازی کی جا رہی ہے متعلقہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ 7پرانے قانون ختم ہوجائیں گے اور میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بن جائے گی۔پاکستان پریس کونسل 5کڑور بجٹ ہے اور دوسال میں دو کیسوں کا ہی فیصلہ کیا ہے۔ملک میں42صحافتی سکول ہیں پرانہ نصاب پڑھارہے ہیں نئی کورس کوئی نہیں پڑھارہاہے۔ انہوںنے کہا کہ جب سے پیمرا بنا ہے ، ڈویلپمنٹ پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیااور سوشل میڈیا میں بے شمار مسائل ہیں اور پرائیویسی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔بچوں کی ویڈیو بنا کر شیئر کردی جاتی ہے۔سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان اس قانون کے خلاف اور ورکرز حق میں ہیں۔ پہلے جرمانہ صرف10 لاکھ تھا اس کو بڑھا کر 25 کروڑ روپے کر رہے ہیں۔انہوں نے مشترکہ کمیٹی کو بتایا کہ سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز کی کل تعداد 114 ہے جس میں سے 31 خبروں اور کرنٹ افیئرز ، 42 انٹرٹینمنٹ ،23 علاقائی زبانوں ، ایجوکیشن کے7 میں سے2 کام کر رہے تھے سپورٹس کے 3 میں سے1 کام کر رہا تھا ۔42 غیر ملکی ٹی وی چینلز کو لینڈ رائٹس دیئے گئے تھے جن میں سے 5 خبروں اور کرنٹ افیئرز کے اور 14 کڈز کے ہیں ۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ ایف ایم ریڈیو کی تعداد258 ہیں جس میں سے 196 کمرشل اور 62 نان کمرشل ، کیبل ٹی وی آپریٹر4 ہزار 26ہیں ، آئی پی ٹی وی 12 اور موبائل ٹی وی 6 ہیں ۔پاکستان میں پرنٹ میڈیا جو اے بی سی سے منظور شدہ ہیں کی کل تعداد 1672 ہیں جس میں سے 1192 ڈیلیز، 203 ویکلی ،28 پندرویں دن ،389 نیوز ایجنسیز ، پرنٹ پریس134 ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس اتھارٹی کے قیام کیلئے چار ممالک کی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو سٹڈ ی کیا گیا ہے جن میں برطانیہ ، آسٹریلیا، انڈیا اورسنگارپور شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو7 باڈیز ریگولیٹ کرتی ہیں جن میں پیمرا ، پریس کونسل پاکستان ، پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی ، سینسر بورڈ ، پریس رجسٹرار آفس ، اے بی سی اور آئی ٹی این ای شامل ہیں ۔ڈیجیٹل میڈیا کو کہیں بھی ریگولیٹ نہیں کیا جا رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس لیگل فریم ورک کے تحت میڈیا ریگولیشن کے تمام قوانین کو ختم کیا جارہا ہے ۔متعلقہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نئی قانون سازی کی جارہی ہے تاکہ معاملات کو جتنا ممکن ہو سکے شفاف بنایا جائے ۔ پی ایم ڈی اے (پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کا اطلاق پورے پاکستان کیلئے ہوگا ۔انہوں نے اتھارٹی کے تنظیمی ڈھانچے بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اتھارٹی کا ایک چیئرمین اور 12 ممبران ہونگے ۔جن میں سے 6 پرائیوٹ سیکٹر سے ٹیکنکل ماہرین لیے جائیں گے ۔اس اتھارٹی کے 5 ڈائریکٹوریٹ ہونگے جن میں فلم اور ڈیجیٹل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا، میڈیا لٹریسی اور ایڈمنسٹریشن/ فنانس شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کمیشن بھی ہوگا جس کے کل8 ممبران ہونگے ،4ممبران حکومت سے اور 4 متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے لیے جائیں گے ۔ میڈیا کمپلین کمیشن ہوگا جس کے 5 ممبران ہونگے ۔ ایک میڈیا ٹریبونل بھی ہوگا جو10 ممبران پر مشتمل ہوگا جس کا چیئرمین ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا جج ہوگا ۔ہر صوبے سے 2 ممبران ہونگے اور اسلام آباد ایک ممبر لیا جائے گا۔ انہوں نے مشترکہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول سی پی این ای ، اے پی این ایس ، پی بی اے ، میڈیا تنظیموں ،پیمرا و دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرتب کیا گیا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وفاقی وزیر نے اتھارٹی کے حوالے سے تفصیلی بریف کیا ہے اور اس کو جب ایوان بالاء اجلاس سے قائمہ کمیٹی کو ریفر کرتا تو تمام اراکین کمیٹی کی مشاورت سے تفصیلی جائزہ لیا جاتا۔ اجلاس میں سینیٹرز سید علی ظفر ، مصطفی نواز کھوکھر ، انور لال دین ،اراکین قومی اسمبلی محمد اکرم چیمہ ، آفتاب جہانگیراور صائمہ ندیم کے علاوہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری، وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات فرح حبیب، سیکرٹری اطلاعات ونشریات شہیرہ شاہد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔