تہران (آئی پی ایس )ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے آبنائے ہرمز میں جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے امریکی فوج کے ایک اور جدید ریموٹ کنٹرول بحری ڈرون کو قبضے میں لینے کا دعوی کیا ہے، تاہم امریکی فوج نے ایران کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل ستمبر میں بھی ایران نے ڈائیو ایل ڈی نامی امریکی خودکار بحری ڈرون پکڑنے کا دعوی کیا تھا، جس کی امریکی حکام نے بھی تصدیق کی تھی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاسوسی کرنے والے ایک جدید امریکی زیرِ آب ڈرون کو کامیابی سے ٹریپ کر کے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔بیان کے مطابق اس ڈرون کو انٹیلی جنس اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مربوط اور پیچیدہ آپریشن کے بعد قبضے میں لیا گیا ہے۔بیان میں اس زیرِ آب ڈرون کی شناخت ریموس 600 کے نام سے کی گئی ہے، جسے انتہائی جدید انڈر واٹر ٹیکنالوجی میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایرانی بحریہ کے مطابق یہ ڈرون اب ایرانی ماہرین کی تحویل میں ہے جو اس کے اندر موجود خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے اس جدید ڈرون کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے اپنے کسی بھی بحری ڈرون کے ایرانی فورسز کی تحویل میں ہونے کی تردید کی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے الجزیرہ سے گفتگو میں دعوی کیا ہے کہ امریکی فوج کو اپنے تمام فعال ڈرون اثاثے مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہیں۔ایرانی فوج کی جانب سے جنگ کے دوران امریکی فوج کے مختلف ڈرونز اور دیگر اہم اثاثوں کو مار گرانے یا قبضے میں لینے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔اس سے قبل ستمبر میں بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریی فورس نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ڈرون قبضے میں لیا تھا۔ جسے امریکی ساختہ ڈائیو ایل ڈی قرار دیا گیا تھا۔
امریکی حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ زیرِ آب ڈرون میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ امریکی حکام نے دعوی کیا تھا کہ یہ اس ٹیکنالوجی کا پرانا ماڈل تھا اور اس میں کوئی حساس معلومات یا جدید ریڈار ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔ایرانی حکام نے اس ڈرون پر آبنائے ہرمز میں جاسوسی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حکام کے مطابق ریموس 600 نامی یہ زیرِ آب ڈرون پانی کے اندر مختلف مشنز انجام دینے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس نوعیت کے ڈرونز سمندری تہہ کا نقشہ بنانے، بارودی سرنگوں کی تلاش، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی جیسے مختلف کاموں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔دوسری جانب ایران کے بھارت میں واقع سفارت خانے نے اس خبر کے بعد ایک اور مزاحیہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں بھارتی فلم کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے امریکی حکومت اور فوج پر طنز کیا گیا ہے۔
ایران کا آبنائے ہرمز میں دوسرا جدید بحری ڈرون پکڑنے کا دعوی، امریکا کی تردید
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
