تحریر: خالد چوہدری
اسلام آباد کے انتظامی اور آئینی مستقبل کے حوالے سے بحث اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک بااختیار، نمائندہ اور جواب دہ نظامِ حکومت کا مطالبہ مسلسل زور پکڑ رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت کے شہری اپنے ہی شہر کے انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی فیصلوں میں مؤثر کردار سے آخر کب تک محروم رہیں گے؟
اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ مختلف اداروں میں تقسیم ہے۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT)، کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (CDA)، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) اور وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کام کرتے ہیں۔ اس تقسیمِ اختیارات کے باعث پانی، صفائی، سڑکوں، سیوریج، تجاوزات، ٹیکس اور دیہی ترقی جیسے معاملات میں ذمہ داریوں کا تعین اکثر ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کو ایک مربوط، بااختیار اور عوام کے سامنے جواب دہ انتظامی نظام کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد کو 1960 کی دہائی میں وفاقی دارالحکومت کے طور پر ترقی دی گئی۔ شہر کی تعمیر و ترقی میں سی ڈی اے نے بنیادی کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ آبادی اور معاشی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، لیکن انتظامی نظام میں اسی رفتار سے بنیادی تبدیلی نہیں آسکی۔ آج اسلام آباد کی آبادی تقریباً 25 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور شہر کے مسائل بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔
اسلام آباد کے شہریوں کا ایک اہم مطالبہ این ایف سی ایوارڈ میں مناسب مالی حصہ ہے۔ موجودہ نظام میں این ایف سی کے وسائل وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں جبکہ اسلام آباد کو صوبوں کی طرح براہِ راست حصہ حاصل نہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کے شہری سرکاری ملازمتوں میں اپنے لیے مناسب کوٹے اور مقامی محصولات کا مناسب حصہ شہر کی ترقی پر خرچ کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں بلدیاتی نظام قائم ہوا اور شیخ انصر عزیز پہلے منتخب میئر بنے، لیکن میٹروپولیٹن کارپوریشن اور سی ڈی اے کے درمیان اختیارات، اثاثوں اور محکموں کی تقسیم کے مسائل کے باعث منتخب بلدیاتی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو سکا۔ گزشتہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے انتخابات میں مسلسل تاخیر نے منتخب مقامی نمائندگی کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
ان حالات میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایک اہم قدم اٹھایا۔ صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود کی قیادت میں 25 ستمبر 2026 کو “Islamabad Governance & Provincial Status Convention 2026” کا انعقاد کیا گیا۔ اس تاریخی اجتماع نے اسلام آباد کے انتظامی مستقبل پر جاری بحث کو ایک مضبوط اور منظم پلیٹ فارم فراہم کیا۔
کنونشن کا بنیادی پیغام واضح تھا:
“اسلام آباد کے فیصلے اسلام آباد کرے گا۔”
کنونشن میں سیاسی قیادت، پارلیمنٹیرینز، تاجر برادری، وکلا، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سینیٹر طلحہ محمود، رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان، سابق چیئرمین سینیٹ و سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان سمیت متعدد اہم شخصیات اس مکالمے کا حصہ بنیں۔
کنونشن میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اسلام آباد کے لیے ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں شہریوں کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو، مقامی وسائل کے استعمال میں ان کا کردار ہو اور شہر کے انتظامی اداروں کے اختیارات واضح ہوں۔ اسلام آباد سے حاصل ہونے والی آمدن کا مناسب حصہ اسلام آباد کی تعمیر و ترقی اور شہری سہولتوں پر خرچ ہونا چاہیے۔
این ایف سی میں اسلام آباد کے مالی حقوق، سرکاری ملازمتوں میں مناسب کوٹہ، ایکسائز سمیت مقامی محصولات اور بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات دینے کے معاملات پر بھی سنجیدہ آئینی اور قانونی غور کی ضرورت ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے شہری قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، اس لیے ان کے وسائل اور حقوق کے حوالے سے ایک واضح اور منصفانہ نظام ناگزیر ہے۔
اسلام آباد محض پارلیمنٹ، وزارتوں، سرکاری دفاتر اور سفارت خانوں کا شہر نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کا گھر ہے۔ ان شہریوں کو اپنے روزمرہ مسائل کے حل، اپنے وسائل کے استعمال اور اپنے شہر کی ترقی کے فیصلوں میں مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، تاجر برادری، وکلا، سول سوسائٹی اور بالخصوص اسلام آباد کے شہریوں کے ساتھ جامع مشاورت کی جائے۔ صوبائی حیثیت ہو یا کوئی دوسرا بااختیار گورننس ماڈل، بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اسلام آباد کے شہری اپنے شہر کے معاملات میں حقیقی حصہ دار ہوں۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اس اہم مسئلے کو منظم پلیٹ فارم فراہم کر دیا ہے۔ اب اس مکالمے کو عملی اصلاحات اور ضروری قانون سازی کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد کے وسائل اسلام آباد کی ترقی پر خرچ ہوں،
اسلام آباد کے شہریوں کو ان کا جائز حق اور مؤثر نمائندگی ملے،
اور اسلام آباد اپنے فیصلے اسلام آباد میں کرے۔
