تحریر: اسماعیل ولد شیخ احمد
سیکریٹری جنرل، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)
اسلام آباد (سب نیوز): اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے قیام کو 57 برس مکمل ہو چکے ہیں۔ اس تنظیم کا سفر 12 رجب 1389 ہجری، بمطابق 25 ستمبر 1969 کو مملکتِ مراکش کے شہر رباط میں ’’اسلامی کانفرنس کی تنظیم‘‘ کے نام سے شروع ہوا۔
یہ دن ہر مسلمان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور اس سال یہ سالگرہ ایسے وقت میں آئی ہے جب چند ہفتے قبل مجھے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری سنبھالنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ دونوں مواقع کا یہ حسین امتزاج میرے لیے اس اعتماد کی عظمت اور ذمہ داری کے احساس کو مزید گہرا کرتا ہے جو مجھے سونپی گئی ہے۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ اس تنظیم کے مشن اور ذمہ داری کو احسن انداز میں آگے بڑھاؤں، جس سے امتِ مسلمہ کے عوام نے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔
اس موقع پر ہم او آئی سی کی پیدائش کے اس تاریخی لمحے کو یاد کرتے ہیں جب مسجد اقصیٰ پر آتش زنی کے واقعے نے امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور مسلم ممالک کو اپنے اتحاد کو مضبوط بنانے اور اپنے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے متحد ہونے پر آمادہ کیا۔ اللہ کے فضل اور بانیانِ تنظیم کے عزم و استقلال سے او آئی سی نے فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھنے اور اپنے بنیادی اصولوں کے مطابق فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار جاری رکھا ہے۔ او آئی سی فلسطینی عوام کی اس جدوجہد کی حمایت کرتی ہے کہ وہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے اندر مشرقی القدس کو دارالحکومت بنا کر اپنی آزاد اور خودمختار ریاست قائم کریں۔
فلسطین کا مسئلہ آج بھی او آئی سی کے مشن کا بنیادی محور ہے، تاہم اجتماعی ذمہ داری کے دائرہ کار میں وقت کے ساتھ وسعت آئی ہے۔ سیاسی کردار کے ساتھ ساتھ اقتصادی، ثقافتی، سماجی اور سائنسی شعبوں میں تعاون بھی تنظیم کی ذمہ داریوں کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
او آئی سی کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنظیم ایک خیال سے شروع ہوئی، جسے اس کے بانیوں کی کوششوں اور رکن ممالک کی حمایت نے ایک مضبوط ادارے میں تبدیل کیا۔ تنظیم اپنے بنیادی مقصد یعنی اسلامی یکجہتی کے فروغ اور عالمِ اسلام کو درپیش مختلف مسائل پر مشترکہ مؤقف برقرار رکھنے کے عزم پر قائم رہی ہے۔ اس کا رہنما اصول اس کا منشور، بنیادی اقدار اور مقاصد ہیں، جبکہ انصاف، حق و مساوات اور دوسروں کے ساتھ افہام و تفہیم اور احترام اس کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔
یہ سوچ مختلف شعبوں میں او آئی سی کی کارکردگی سے بھی نمایاں ہوتی ہے، جن میں ترقی کے فروغ، سماجی یکجہتی، غربت کے خاتمے، محرومی اور پسماندگی کے خلاف جدوجہد اور خاندانی اقدار کا فروغ شامل ہیں۔ انسانی ہمدردی کے میدان میں بھی او آئی سی نے اہم کردار ادا کیا ہے اور مسلم دنیا سمیت دیگر خطوں میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کے لیے باوقار زندگی کی سہولت فراہم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ تنظیم نے غیر رکن ممالک میں مسلم برادریوں کے معاملات کی بھی پیروی کی اور انتہا پسندی و شدت پسندی کی لہر سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد میں بھی او آئی سی نے مغربی ممالک اور حلقوں کے ساتھ مؤثر رابطہ کار کے طور پر اپنی موجودگی منوائی ہے۔ تنظیم کے مطالبات کی اصولی حیثیت کو کئی مواقع پر تسلیم کیا گیا اور ایسے اقدامات سامنے آئے جن کا مقصد بقائے باہمی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور نفرت کی حوصلہ شکنی تھا۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ان اقدامات نے او آئی سی کو ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ تنظیم مسلم دنیا کے مشترکہ مسائل پر غور، بحرانوں سے نمٹنے اور مشترکہ شناخت، اسلامی تعلیمات اور اعتدال پر مبنی اقدار کی روشنی میں مناسب حل تلاش کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکی ہے۔
او آئی سی کے تاریخی کردار کا یہ ادراک میرے لیے اپنی موجودہ ذمہ داری کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ یہی احساس مجھے تنظیم کے لیے ایک ایسے نئے وژن کی تشکیل پر آمادہ کرتا ہے جو عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کی ضروریات کو پورا کر سکے، جبکہ اس کے بنیادی اصولوں اور مستند رہنما اقدار کو برقرار رکھا جائے۔ ان اصولوں کی بنیاد پر او آئی سی اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو امتِ مسلمہ کی فلاح اور رکن ممالک کے درمیان یکجہتی کے فروغ کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لا سکتی ہے۔
آج او آئی سی کو ایک انتہائی مشکل آزمائش کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تقسیم، علاقائی تنازعات، مسلسل پیچیدہ ہوتے اقتصادی مسائل اور شدید انسانی و ماحولیاتی بحرانوں نے حالات کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ ان بحرانوں کی سب سے بھاری قیمت غریب ممالک اور معاشرے کے کمزور اور حساس طبقات ادا کر رہے ہیں۔
اس ذمہ داری کا بوجھ دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کے باعث مزید بڑھ گیا ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہی ہیں اور ان کے ساتھ ایسے باہم جڑے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن کا سامنا بڑی طاقتوں کے لیے بھی آسان نہیں۔ ایسے میں مسلم دنیا، جو پہلے ہی کئی دہائیوں سے جاری بحرانوں کے باعث اپنے وسائل پر دباؤ کا شکار ہے، کے لیے ان تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ایک بڑا چیلنج ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم 57 ممالک پر مشتمل ہے، جو چار براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ غیر رکن ممالک میں مسلم برادریوں سمیت یہ تنظیم تقریباً دو ارب مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس صورتحال میں او آئی سی کے لیے ضروری ہے کہ وہ آج دنیا میں ہونے والی تیز رفتار عالمی تبدیلیوں کے ساتھ قدم ملا کر چلے۔
تاہم اس راستے میں تنظیم کو تاریخی ورثے اور مسائل کا بھی سامنا ہے، جن میں خانہ جنگیاں، سیاسی کمزوری، بدامنی اور کمزور اقتصادی ڈھانچے شامل ہیں۔
اللہ کے فضل سے او آئی سی کے پاس اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ادارہ جاتی، انسانی اور مادی وسائل موجود ہیں۔ تنظیم کے تحت 44 ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں ذیلی، وابستہ، خصوصی اور آزاد ادارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنرل سیکریٹریٹ کے آٹھ دفاتر نیویارک، جنیوا، برسلز، رام اللہ، بغداد، موغادیشو، نیامی اور کابل میں قائم ہیں۔
یہ وسیع ادارہ جاتی نیٹ ورک دنیا کے مختلف حصوں میں او آئی سی کی موجودگی کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک جامع پلیٹ فارم کی حیثیت سے او آئی سی کے رکن ممالک کے وسیع انسانی اور قدرتی وسائل بھی تنظیم کی اس صلاحیت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ وہ نئے عالمی حالات سے ہم آہنگ ہو سکے۔ ہمیں ان بڑھتے ہوئے بحرانوں کے باعث تنظیم کی مؤثریت کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک کو بھی دور کرنا ہوگا۔
اسی پس منظر میں آئندہ پانچ برسوں کے لیے میری ترجیح واضح ہے۔ میں ایسی بااثر اور قائدانہ تنظیم کی تشکیل چاہتا ہوں جو کارکردگی، مؤثریت، گورننس، شفافیت، جدت اور عملی اقدامات میں نمایاں ہو، تاکہ او آئی سی صرف واقعات کی پیروی کرنے کے بجائے مسائل کے حل کی تلاش میں فعال کردار ادا کرے۔
او آئی سی کو رکن ممالک کی خدمت، ان کے مسائل اور مفادات کے دفاع، عالمی سطح پر ان کی موجودگی کو مضبوط بنانے اور ایسے مؤثر شراکت داریاں قائم کرنے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا جو سلامتی، امن اور ترقی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں۔
آج ہم پر لازم ہے کہ رکن ممالک کے منصوبوں اور ہدایات پر عمل درآمد کو آگے بڑھائیں اور تنظیم میں اصلاحات کے لیے ان کی فوری خواہش کو عملی شکل دیں۔ اس عمل میں ماضی کی کامیابیوں اور مختلف مواقع پر ثابت شدہ کارکردگی کو بنیاد بنایا جائے گا۔
فلسطینی مسئلہ اور فلسطینی عوام کے حقوق بدستور ان بنیادی ستونوں میں شامل رہیں گے جن کے گرد تنظیم کی سرگرمیاں مرکوز رہیں گی۔ اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر کا مقابلہ، فعال سفارت کاری اور تنازعات میں ثالثی، ڈیجیٹل اور تکنیکی تبدیلیوں کی حمایت، مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے استفادہ، غربت اور محرومی کا خاتمہ بھی آنے والے برسوں میں او آئی سی کی اہم ترجیحات ہوں گی۔
ان ترجیحات کے مرکز میں انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہے، کیونکہ یہی ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر کا مؤثر ترین راستہ ہے۔ تعلیم، سائنسی تحقیق، جدت اور علم پر مبنی معیشت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ نوجوانوں اور خواتین کے لیے ترقی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔ اس طرح مسلم دنیا کی انسانی قوت کو ایک پیداواری اور بااثر طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ اقتصادی اور ترقیاتی پہلو بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ ہمارے ممالک کے انسانی، قدرتی اور مالی وسائل سے اجتماعی طور پر استفادہ ابھی مطلوبہ سطح سے کم ہے۔ اسی لیے رکن ممالک سے مشاورت کے ذریعے او آئی سی اقتصادی سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لیے کام کیا جائے گا، تاکہ اقتصادی انضمام، باہمی تجارت، او آئی سی ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایک عملی وژن تشکیل دیا جا سکے۔
اس کا مقصد ہمارے ممالک کے وسیع وسائل کو ایسے مواقع میں تبدیل کرنا ہے جو اقتصادی ترقی، پائیدار ترقی اور عوام کے لیے براہِ راست فوائد کا ذریعہ بن سکیں۔
ان ترجیحات کو حاصل کرنے اور اصلاحات کو عملی حقیقت میں بدلنے کے لیے رکن ممالک کی او آئی سی کے پلیٹ فارم پر یکجہتی ناگزیر ہے۔ اس کے لیے تنظیم کے اصولوں اور بنیادی اقدار پر عمل درآمد، مشترکہ وژن اور مربوط مؤقف کی ضرورت ہے۔ اس طرح عالمی فورمز پر اسلامی گروپ کی اجتماعی قوت میں اضافہ ہوگا اور اسے ایک مؤثر اور بااثر آواز حاصل ہوگی۔
اس اجتماعی کوشش کو مضبوط بنانے اور او آئی سی کے بین الاقوامی کردار کو وسعت دینے کے لیے میں اپنے ملک، اقوام متحدہ اور دیگر ذمہ داریوں کے دوران حاصل کیے گئے تجربات کو بروئے کار لانے کا عزم رکھتا ہوں۔ اس کا مقصد بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا اور علاقائی و عالمی سطح پر ہم منصب تنظیموں کے ساتھ سفارتی اور ترقیاتی ذرائع کے ذریعے تعاون اور انضمام کو فروغ دینا ہے۔
میرا یہ عزم اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ دوسروں کے لیے کشادگی، تجربات کا تبادلہ اور مکالمے کو ترجیح دینا کامیابی کے بنیادی عوامل ہیں۔ کامیابی صرف مسلم دنیا کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک ایسے کامیاب ماڈل میں تبدیل ہونا چاہیے جس سے دیگر خطے بھی استفادہ کر سکیں۔
ایسا ماڈل دنیا کو یہ دکھا سکتا ہے کہ مسلم دنیا کے پاس پائیدار عالمی ترقی میں منفرد اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے مطلوبہ انسانی وزن، صلاحیت اور قوت موجود ہے۔
اس عزم کے لیے ایسا سیاسی اور میڈیا بیانیہ بھی ضروری ہے جو تنظیم کے کام اور پیغام کو مؤثر انداز میں اجاگر کرے اور مسلمانوں اور مسلم دنیا کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ مسلم دنیا طویل عرصے سے بدنام کرنے کی مہمات اور نفرت پر اکسانے کے رجحانات کا سامنا کرتی آئی ہے، اس لیے درست اور متوازن ابلاغ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
آخر میں، میں او آئی سی کے رکن ممالک کے قائدین کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا۔ میں مستقبل میں بھی ان کے تعاون کا خواہاں ہوں تاکہ اس اعتماد کو پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھایا جا سکے۔
میرا عزم ہے کہ تنظیم کی گزشتہ کامیابیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے اس کی توانائیوں کو متحرک کیا جائے۔ یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک ایسے سفر سے وفاداری کا تقاضا کرتا ہے جو کامیابیوں کے ساتھ ساتھ چیلنجز سے حاصل ہونے والے اسباق سے بھی مالا مال ہے۔
کسی عظیم سفر کی اہمیت صرف اس کی کامیابیوں میں نہیں ہوتی بلکہ اس صلاحیت میں بھی ہوتی ہے کہ مشکلات پر قابو پایا جائے، مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور عزم کو ازسرِنو تازہ کیا جائے۔ ہمارا مقصد یہی ہے کہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسا مستقبل تشکیل دیا جائے جو اس کے شایانِ شان ہو، ایک ایسی دنیا میں جو مسلسل نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔
