کوہستان کے باسی ۔۔۔ مظلوم ترین پاکستانی
تحریر: عبدالمتین۔۔۔ کندیا کوہستان
@PrinceMateenk
زیر نظرتصویرمیں لوگ حکومت کے خلاف جلسہ جلوس یا احتجاج کرنے کے لئے اکھٹے نہیں ہوئے ہیں بلکہ عوام کا یہ جم غفیر ریاست سے مایوس ہو کراپنی مدد آپ کے تحت تحصیل کندیا روڈ کی مرمت کے لئے یہاں جمع ہوا ہے۔ تحصیل کندیا جو آخری مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ایک بد قسمت تحصیل ہےجہاں کے باسی اس راستہ نما سڑک پر پُرمشقت سفر جھیل کر روزانہ کی بنیاد پر پاکستانیت کی کتنی قیمت چکاتے ہیں اس کا اندازہ وہی شخص کرسکتا ہے جسے اس سڑک پر کبھی سفر کرنے کا تجربہ ہوا ہو۔
آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ دو ہزار بیس میں بھی کئی بستیوں اور دیہات کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر سے ملانے والی مرکزی سڑک اتنی خستہ، ناہموار، ابتر اور خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔ اس روڈ سے آپ کوہستان کے ہیڈکورٹر داسو سے گبریال پہنچنے کے بعد نہ صرف آپکا بدن کا انگ انگ درد سے کراہتا ہے بلکہ جسم کو چلانے والا اندرونی نظام بھی چار پانچ دن کے لئے اپنے ٹھکانے سے بھٹک جاتا ہے۔
اس روڈ پرسفرکے دوران گاڑی چلانے والے کے لئے اپنے آپ میں رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسا بندہ نیم مدہوشی کی حالت میں منزل کی طرف دوڑلگارہا ہےکئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈاٹسن پرسامان رکھ کرگھر پہنچنے کے بعد جب دیکھا جائے تو صرف شاپر لٹک رہا ہوتا ہے باقی سامان بیچ راستے میں کہیں گر کر کسی راہ گیر کے ہتھے لگ چکا ہوتا ہےاورتواور سفرکے دوران بندہ زندہ سلامت مطلوبہ مقام تک پہنچنے تک اپنی مزدوری کے پیسے اکثر صدقہ کرچکا ہوتا ہے یا گھرسلامت پہنچنے کے بعد واحد دودھ دینے والی بکری اللہ کی راہ میں قربان کردیتا ہے۔ اس تحصیل میں تھانے بھی ہیں، چھوٹے ہسپتال اور سکولوں کا جم غفیرہے لیکن نہیں ہے تو بس اس بد قسمت سرزمین کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔
ان پڑھ پڑھے لکھے پہ غالب ہے اور جو لکھتا ہے تو بس شان والوں کی مدح سرائی میں ہی لکھتا ہے اوربولتا ہے تو بس صرف ماشاللہ سبحان اللہ جبکہ ایسی حالت بیان کرتے ہوئے ان کی زبان گنگ ہوجاتی ہے ہم کب تلک ان پھتروں کی دورمیں زندگیوں گزاریں گے کب تلک اس جہالت کی چکی میں پستی رہیں گے ہمارا بھی دل کرتا ہے کی ہم بھی وطن عزیز کے ترقی میں آپنا کردارادا کریں ہمارا بھی کو بچہ ملکی معیشت سیاست دفاعی نظام میں پاکستان کا نام روشن کرے مگریہ سب کچھ ممکین اس صورت میں ہوگا جب ہمیں باقی ملک جیسے سہویات میسر ہوں گے ۔ جیسے اسکول کالج ہسپتال راستے مگرایسا ہوتا ہوا نظرنہیں آرہا۔
