شہناز اعظم
@ShizzaU
دور حاضر میں مسلمان تاریخ کے سب سے بدترین دور سے گزر رہے ہیں ہر طرف سے مسلمانوں پر ظلم کی یلغار ہے کچھ قرضوں میں جکڑے ہوئے مجبور ہیں تو کچھ دولت کے نشے ۔ قومی حمیت فنا ہوچکی، قیادت کا گویا کہ بحران ہے۔ غرض کہ ہرطرح سے پریشان مسلمان ہیں
لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ آدھی سے زیادہ دنیا پرحکومت کرنے والے مسلمان ، دنیا کو تہذیب و تمدن سے آشنا کرنے والی قوم آخراس قدرتنزلی کا شکارکیوں کر ہوئی کہ دشمنوں سے زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے لیکن ظلم ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہے جن کی دہشت سے پہاڑ لرزتے تھے ، سمندر سینہ سپر کردیتے تھے وہ قوم اتنی مجبورکیوں ہوگئی؟؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر ذی شعورمسلمان کے ذہن میں اٹھتا ہے۔
آئیں اس کا جواب تاریخ کے جھروکوں سے تلاش کرتے ہیں۔
یہ قانون فطرت ہے کہ جب بھی کسی قوم نے حب جاہ میں مصلحت پسندی کا راستہ اپنایا اس قوم کا نام ونشان مٹ گیا اس دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہمیشہ سے چلتا آیا ہے اگرایک تھپڑ کھا کر دوسرا گال آگے کریں گے تو اگلی دفعہ دشمن آپکو تھپڑ نہیں مارے گا گلا کاٹے گا۔
تاریخ گواہ ہے مسلمان جب تک مرد میدان رہے دنیا پران کی ہیبت طاری رہی ، کہساروں میں ، صحراؤں میں، سمندروں میں فضاؤں میں نعرہ تکبیر کی صدائیں گونجتی رہیں ۔ لیکن جب سے مسلمان دنیا کی زندگی کی محبت میں مبتلا ہوئے انہیں امن کالولی پاپ دے کر بہلا دیا گیا طرح طرح کے فتنے ان پر مسلط کیے گئے غرض کہ قومی غیرت کا جنازہ نکل گیا اب اگر ہر طرف سے ظلم کی یلغار ہے تو یہ عین قانون فطرت ہے کیونکہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
جس قوم کے 17 سالہ نوجوان عرب سے سینکڑوں میل دور آکر سندھ فتح کرتے تھے اس قوم کےنوجوان لعو لعب میں ڈوبے ہوئے ہیں اپنی ہی قوم کی بیٹیاں اپنے ہی ملک میں محفوظ نہیں ، عورتوں کی چادریں غائب ہوچکی ہیں مردوں کی غیرت مرچکی ہے اب مسلم نوجوانوں کو ورغلانا آسان ہوگیا۔ جنہوں نے میدان سجانے تھے وہ ٹک ٹاک پر ناچنے میں مصروف ہیں فحاشی کو فیشن کا نام دیدیا گیا ہے۔ ملک کی 60 فیصد نوجوان نسل کے پاس زندگی کا اس سے بڑھ کر کوئی مقصد نہیں کہ ڈھیر ساری دولت کسی بھی طرح کمالی جائے اور انتہائی حسین لڑکی سے شادی ہو جس کی تعریف ایک زمانہ کرے دین اب عزت و شرافت کا معیار نہیں رہا۔
مرکزیت کا احساس تک نہیں مسلمان سب سے پہلے مسلمان تھے لیکن اب مسلمانوں کو مسلمان صرف کافر سمجھتے ہیں ورنہ اگر کافر ہمیں یاد نہ دلاتے رہیں تو شاید ہم خود بھی بھول جائیں کہ ہم مسلمان ہیں کیونکہ ذات پات فرقہ پرستی اس قدرحاوی ہوچکی ہے کہ اسلام کا نمبر سب سے آخر میں آتا ہے اور یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے آج ہم ان حالات کا شکار ہیں کیونکہ
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
آسماں سے ثریا نے زمین پر ہم کو دے مارا
یاد رہے عروج اور زوال قوموں کی زندگی میں آتے رہتے ہیں لیکن زوال سے ابھر کر عروج تک وہی پہنچتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں اور ان کو سدھارتے ہیں
آئیے ایک بار پھر اسلام کے لیے متحد ہو جائیں اپنے اسلاف کی تاریخ کو دہرائیں
یاد رہے جب تک ہم خود اپنے حالات بدلنے کے لیے کوشش نہیں کریں گے دعاؤں سے آسمانوں سے فرشتے نہیں اتریں گے۔
ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
