Sunday, May 17, 2026
ہومUncategorizedحج اور عمرہ ادائیگی پر پابندی کیوں؟

حج اور عمرہ ادائیگی پر پابندی کیوں؟


تحریر: زمان خان
@Zaman_Lalaa

سعودی حکومت نے حج اور عمرہ کو تو محدود کر دیا مگر سعودیہ عرب ہی میں پچھلے سال اور پچھلے مہینے میوزک کنسرٹس کا انعقاد بھی ہوا اور سنیما ٹکٹس کی بھی بھرپور فروخت ہوئی۔

اگر دین اسلام کے احکامات کے منافی یہ دونوں کام سعودی حکومت کی اجازت سے ہو سکتے ہیں تو پھر حج اور عمرہ پر اتنی سخت پابندیاں آخر کیوں؟
اگر یورپ کے اسٹیڈیم پانچ لاکھ سے زائد افراد کے لیے کھولا جا سکتے ہیں اور کرونا کے دنوں میں۔بھی شائقین اسٹیڈیم میں بیٹھ کر یورو کپ کے مزے لے سکتے ہیں۔
اگر امریکہ میں لاکھوں فٹبال شائقین اسٹیڈیم میں میں بیٹھ کر کوپا کپ کا بڑا ٹورنامنٹ ہو سکتا ہے۔
کرکٹ کے میدانوں میں بھی شائقین کی موجودگی کھیل کو رونق بخش سکتی ہے اور صرف کھیل ہی نہیں دیگر تفریحی ہجوم بھی بحال ہو سکتے ہیں۔
تو پھر حج اور عمرہ کی بحالی میں کیا دقت تھی۔
اگر سعودیہ عرب میں سینما گھروں کو کھولا جا سکتا ہے، سعودی شہروں جدہ اور ریاض میں میوزک کنسزٹ کرائے جا سکتے ہیں۔
تو حج مکمل طور پر کیوں نہیں بحال ہو سکتا؟ عمرہ کی مکمل بحالی میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی؟
گزشتہ دنوں سعودی حکومت کی طرف سے اعلان سامنے آیا کہ یکم محرم سے بیرون ملک کے عمرہ زائرین کے لیے عمرہ سیزن کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حرمین شریفین کی ویب سائٹ پر جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ عمرہ پر آنے والوں کے لیے فائزر، موڈرنا، آسٹرازینیکا یا جانسن اینڈ جانسن ویکسین کی ویکسین لگی ہونی چاہیے۔ ان ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والوں کو عمرہ پر آنے کی اجازت ہوگی لیکن اس اجازت کے ساتھ نو ملکوں کے لیے الگ سے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
پاکستان اور بھارت سمیت نو ممالک کے شہریوں کو سعودی عرب آنے سے پہلے کسی تیسرے ملک میں 14 دن کا قرنطینہ کرنا ہوگا، چاہے ان ملکوں کے شہریوں نے مطلوبہ ویکسین لگوائی ہوئی ہو، پھر بھی انہیں 14 دن کے قرنطینہ کی شرط پورا کرنا ہوگی۔
سعودی حکومت کی یہ ہدایات نو ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک تو ہے ہی لیکن چلیں پھر بھی ہم یہ تو کہہ سکتے کہ دیر سے ہی سہی لیکن سعودی حکومت نے ایک اچھا فیصلہ تو کیا۔ کیونکہ سعودی عرب میں سب کچھ کھل چکا ہے حتی کے موسیقی کے میلے بھی سج رہے ہیں۔
اگر اس طرح کے شور شرابے جوش و خروش سے بھرپور تقریبات ہوسکتی ہیں تفریح کے نام پر ہزاروں افراد کی محفلیں سجائی جا سکتی ہیں تو
عمرہ کو معمول کے مطابق کیوں نہیں بحال کیا گیا؟ حج کو کیوں محدود رکھا گیا ؟
عام حالات میں تقریبا ساٹھ لاکھ افراد ہر سال سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں لیکن سعودی ادارہ شماریات کے مطابق عالمی وبا کی وجہ سے عمرہ زائرین کی تعداد میں ستر فیصد کمی کی گئی۔  عمرہ کے علاوہ ہر سال تقریبا پچیس لاکھ افراد حج کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں لیکن وبا کی وجہ سے صرف دس ہزار افراد کو حج کی اجازت دی گئی جبکہ رواں سال کچھ اضافہ کے ساتھ یہ تعداد ساٹھ ہزار کی گئی۔
ایک طرف سعودی عرب میں کرونا کی وجہ سے عمرہ اور حج کو محدود کیا جاریا تھا لیکن سینما گھرورں رونقیں عروج پر تھیں  گزشتہ برس سعودی عرب میں کرونا کے باوجود سینما گھروں کے 66 لاکھ ٹکٹ فروخت ہوئے تھے جبکہ 2019 میں یہ تعداد 40 لاکھ تھی، یعنی ثابت یہ ہوا کہ وبا کی وجہ سے عبادات اور مقدس مقامات تو بند تھے لیکن سینما گھروں کی بندش نہیں تھی۔
یہاں بات سینما گھروں یا میوزک کنسرٹس کی نہیں اپنے ملک میں وہ جو چاہے کریں لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ وبا کے باوجود حج اور عمرہ جیسی مقدس اور لازمی عبادات کو معمول کے مطابق جاری رکھا جاسکتا ہے ویسے ہی خصوصی انظامات بھی کیے جاسکتے تھے جیسے یورپ میں یورو کپ کے لیے کیئے گئے تھے۔ رواں برس پانچ لاکھ سے زائد فٹبال شائقین نے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر کھیل دیکھا حالانکہ یہ ٹورنامنٹ گیارہ مختلف جگہوں پر کھیلا جارہا تھا اور اس میں 24 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا تھا اور 24 ممالک کے ہی شائقین نے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر اپنی ٹیموں کو سپورٹ کیا۔
ایسے ہی مناظر امریکہ میں ہونے والے کوپا کپ کے بھی تھے جس میں جنوبی امریکہ کی 10 ٹیموں نے حصہ لیا اور اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے فٹبال شائقین کے لیے اسٹیڈیم کے دروازے کھلے رکھے گئے تھے یقینا ان تمام مقابلوں میں ایس او پیز کی پابندی کروائی گئی ہو گی، ویکسینیشن کے بغیر حاضری کی اجازت بھی نہیں دی گئی ہوگی
تو یہاں سوال تو بنتاہے کہ اگر ان ایس او پیز کے ساتھ میوزک کانسرٹ ہو سکتے ہیں
سینما گھر کھولے جاسکتے ہیں فٹبال اور کرکٹ کے بڑے بڑے ٹورنامنٹس بھی لاکھوں کی تعداد میں شائقین کی اسٹیڈیمز میں موجودگی کے ساتھ ہو سکتے ہیں
تو پھر حج اور عمرے جیسی انتہائی منظم، پاکیزہ ترین اور مقدس ترین فریضے کیوں نہیں ممکن بنائے جا سکتے؟
آخر کیوں۔۔۔۔؟
لیکن اس آخر کیوں کا جواب فلحال کسی کے پاس نہیں۔۔۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔