اسلام آباد (نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اوروفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ عمر ان خان پاکستان کی ضرورت ہے، ق لیگ چند اضلاع کی پارٹی ہے۔اسد عمر نے اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کواندرونی اور بیرونی چیلنجرز کا سامنا ہے ۔ روس اور امریکہ افغانستان میں گئے تو پاکستان کو شدید نقصان ہوا۔ عمران خان پر اللہ کا سایہ ہے ۔ مشکل حالات میں پاکستانیوں نے مقابلہ کرنا ہے ۔ ملک قربانی سے بنا ہے اس کے لیے مزید قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔پاکستان تحریک انصاف 2018 میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی پارٹی ہے ۔ عمران خان واحد شخصیت ہیں جنہوں نے ملک کو متحد کیا ہوا ہے ۔
قائدِ اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد عمران خان کی واحد حکومت ہے جس میں تمام ریاستی ادارے ملکر کام کر رہے ہیں ۔ ماضی میں حکومتوں نے اداروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے ۔ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے ۔ ہماری حکومت کسی ملک کے ساتھ حالات خراب نہیں کرنا چاہتے ۔ عمران خان نے وہ فیصلہ کرنا ہے جو قوم کی ضرورت ہے ۔ پاکستان اللہ تعالی کا تحفہ ہے ۔ اس لیے سب سے پہلے گھرانا نہیں ۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی ۔ پاکستان ایسا ملک بننے جارہا ہے کہ دنیا بھر کے پاکستانی رشک کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کو پنجاب کے چند اضلاع کی پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پاکستان کی ضرورت ہے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے شہری علاقوں میں سب سے زیادہ ووٹ ملے، گلگت بلتستان میں بھی سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت تحریک انصاف ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف خیبر سے کراچی ملک بھر کے پاکستانیوں کی پارٹی ہے جبکہ ق لیگ پنجاب کے چند اضلاع کی پارٹی، مسلم لیگ ن جی ٹی روڈ کی پارٹی اور پیپلز پارٹی اندرون سندھ کی پارٹی ہے۔انہوں نے عمران خان کو پاکستان کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے بعد تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو بھی ناکام بنا دیں گے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کو دبا کا شکار کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، ملک کو مضبوط رکھنے کے لیے ہمارا متحد ہونا ضروری ہے، ملک میں اندرونی چیلنجرز کا سامنا ہے، مشکل حالات میں پاکستانیوں نے مقابلہ کرنا ہے، کامیابی کے لیے ملک کو متحد ہونا ضروری ہے۔
