Thursday, March 26, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزسیاسی بیانیہ اور کریڈٹ کی جنگ: برازیل کے آئینے میں"تختی کس کی لگے گی؟" اور "چور کون ہے؟"

سیاسی بیانیہ اور کریڈٹ کی جنگ: برازیل کے آئینے میں”تختی کس کی لگے گی؟” اور “چور کون ہے؟”

تحریر: عمران ورک

دنیا کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو برازیل اور پاکستان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے، لیکن انسانی رویوں اور سیاسی ہتھکنڈوں کی بات کی جائے تو لگتا ہے کہ ہم ایک ہی بستی کے باسی ہیں۔ برازیل اپنی قدرتی خوبصورتی، بہترین قوانین اور عوامی سہولیات کی وجہ سے ایک مثالی ملک نظر آتا ہے۔ یہاں کے نظام کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید یہی وہ فلاحی ریاست کا تصور ہے جہاں عوام کی ضروریات کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ یہاں کی سیاست کی تہوں کو کریدتے ہیں، وہی جانے پہچانے رنگ نظر آنے لگتے ہیں جو ہمارے اپنے ملک کا خاصہ ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے ریاست سانتا کترینا (Santa Catarina) کے خوبصورت دارالحکومت ‘فلوریانوپولس’ سے باہر ایک دوسرے شہر کے سفر کا اتفاق ہوا۔ برازیل کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر اپنی مثال آپ ہیں، لیکن سفر کے دوران ایک انتہائی دلکش اور جدید طرز کے پل نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ میں نے اس خوبصورت منظر کی ایک ویڈیو بنا کر اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کر دی، لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ویڈیو برازیل کے عام شہریوں کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دے گی۔ ویڈیو وائرل ہوتے ہی کمنٹس کی ایک ایسی بھرمار ہوئی جس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ وہاں موجود بحث دیکھ کر ایک لمحے کو مجھے یوں لگا جیسے میں برازیل میں نہیں بلکہ پاکستان کے کسی سیاسی گروپ کی پوسٹ پڑھ رہا ہوں۔ برازیل کی ‘ورکرز پارٹی’ (PT) کے حامیوں اور موجودہ حکومت کے ناقدین کے درمیان لفظی جنگ چھڑ چکی تھی۔


ایک برازیلین شہری نے لکھا: “یہ منصوبہ تو دراصل سابق صدر ‘دیلما روسف’ کے دور کا تھا، موجودہ حکومت نے تو بس اپنی تختی لگا کر اسے اپنے نام کر لیا ہے۔” دوسرے نے غصے میں تبصرہ کیا: “حکومت چور ہے! انہوں نے پی ٹی پارٹی کے منصوبوں کو چوری کر کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔” ایک اور حقیقت پسند شہری کا کہنا تھا کہ “یہ پیسہ نہ دیلما کا ہے نہ موجودہ صدر کا، یہ تو برازیل کے عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے، اس کا کریڈٹ کسی لیڈر کو کیوں؟” جبکہ کچھ لوگوں کا اصرار تھا کہ “جس نے اس کی تعمیر مکمل کرائی ہے، اصل کریڈٹ اسی کو جانا چاہیے۔”


ان کمنٹس کو پڑھ کر ایک عالمگیر حقیقت مجھ پر واضح ہوئی: سیاست کا ڈی این اے پوری دنیا میں ایک جیسا ہی ہے۔ چاہے وہ اسلام آباد ہو یا فلوریانوپولس، سیاسی جماعتوں کا بیانیہ وہی پرانا “کریڈٹ کی جنگ” اور “مخالف کو چور ثابت کرنے” کی تگ و دو ہے۔
ترقیاتی منصوبوں پر تختیاں بدلنا، ایک دوسرے کے کاموں کو اپنا بتانا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانا صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اس عالمی سیاسی کلچر کا حصہ ہے جہاں عوامی خدمت سے زیادہ اپنی تشہیر کو اہمیت دی جاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سڑکیں، پل اور ہسپتال عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بنتے ہیں، لیکن سیاسی جماعتیں انہیں اپنے احسانات کے طور پر بیچتی ہیں۔ دنیا بھر کے سیاست دانوں اور ان کے حامیوں کی زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، ان کے ملکوں کے جغرافیے الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا “سیاسی منتر” ایک ہی ہے: “یہ منصوبہ میرا تھا، تم چور ہو!”

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔