اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر پٹرولیم علی پرویز نے کہا ہے کہ پاکستان کی قطر سے ایل این جی سپلائی بحال ہوگئی ہے، کل قطر سے کارگو پورٹ قاسم کراچی پر لنگر انداز ہوگا جس سے کراچی اور ملکی ضروریات پوری کی جائیں گی، بجٹ میں آئی ایم ایف کے ساتھ لیوی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا اس لیے قیمتیں بڑھیں۔
سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کا اجلاس ہوا۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بریفنگ میں بتایا کہ ابھی تک خطے میں جنگ مستقل ختم نہیں ہوئی، قطر سے ایل این جی کا ایک جہاز کل پورٹ قاسم پہنچ رہا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اراکین نے پٹرولیم قیمتیں بڑھانے پر علی پرویز ملک پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پوچھا کہ یکم مارچ تک جو اسٹاک پہلے سے موجود تھا اس پر پٹرولیم قیمتیں 55 روپے کیوں بڑھائی گئیں؟علی پرویز ملک نے جواب دیا اسٹاک اور لیکویڈیٹی برقرار رکھنے کے لیے قیمتیں بڑھانی پڑھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 80، 80 روپے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
وزارت پٹرولیم حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد پٹرولیم کے ملکی ذخائر میں اضافہ کیا گیاہے، یکم مارچ کو ملک میں 4 لاکھ 36 ہزار ٹن خام تیل موجود تھا جو 5 لاکھ 15 ہزار ٹن ہے، ڈیزل یکم مارچ کو 4 لاکھ 90 ہزار ٹن تھا آج 5 لاکھ 97 ہزار ٹن ہے جبکہ اس وقت پٹرول کا اسٹاک 6 لاکھ 62 ہزار ٹن موجود ہے۔
رکن کمیٹی حاجی ہدایت اللہ خان کہا کہ یہ بات وہی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی جنگ ہو ان دو ممالک کے بعد تیسرا پاکستان ہوتا ہے جس کو نقصان ہوتا ہے۔رکن کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جنگ کے 6 دن بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟ حکومت نے اپنی جیب میں پیسے ڈالے یا کمپنیوں کو فائدہ دیا گیا اس کا جواب دیا جانا چاہئیے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ ہم پٹرولیم مصنوعات سے متعلق تمام مسائل عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے، آئندہ پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے تمام فیصلے بھی کمیٹی طلب کرے گی۔
پٹرولیم حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ڈیزل اور پٹرول کی خریداری کے بجائے خام تیل کی خریداری پر توجہ دے رہے ہیں، پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ آئل کی بڑی پیداوار کرنے والے ملک متحدہ امارات میں قیمتیں 72 فیصد اور نیوزی لینڈ میں 88 فیصد بڑھی ہیں۔
