Saturday, May 16, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگزمینارپاکستان کا واقعہ ۔۔ حقیقت یا سستی شہرت کا ڈرامہ

مینارپاکستان کا واقعہ ۔۔ حقیقت یا سستی شہرت کا ڈرامہ

تحریر: عمالقہ حیدر

@amalqa_

گوگلی و ٹک ٹاکری معلومات کے مطابق لڑکی کا نام ہے عائشہ اکرم اورعمر ہے 28 سال جو کہ اپنے ایک  دوست سہیل کےساتھ ٹک ٹاک بناتی ہے اور ایک صدام نامی شخص ان کا کیمرہ مین ہے

اور ٹک ٹاک کس ٹائپ کی؛ کسی میں ڈانس ہے تو کسی میں سہیل محترمہ کے گالوں پہ ہاتھ پھیرتا ہے تو کہیں محترمہ سہیل کے-  یہ سب پاکستان میں ہورہا ہے محترمہ  کی والدہ ان سے ناراض ہیں اور ٹک ٹاک پر ماشاءاللہ سے ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب محترمہ کے فالورز ہیں۔

ایک دن محترمہ ٹک ٹاک پر بتاتی ہیں کہ وہ مینار پاکستان جائیں گی تاکہ ان کے فالورز یعنی تماش بین پہلے ہی مینار پاکستان پہنچ جائیں پھر محترمہ وہاں دوستوں کے ساتھ انٹر ہوتی ہیں اور سہیل کی بانہوں میں لپٹ کر ٹک ٹاک بناتی ہیں ہر طرف لڑکوں کا ہجوم ہے دور دو تک کوئی اورلڑکی نہیں ہے اور لڑکے بھی سب ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر ہیں جو پاں پاں کرنے اور کسی ایسی ویڈیو کی تلاش میں ہیں جو انہیں وائرل کرسکے کچھ ویوز مل سکیں اور عینی شاہد کے مطابق محترمہ وہاں فلائنگ کسز بھی کرتی رہیں۔

سو ایسے لڑکوں میں ایک لڑکی جس کے سینے کے گرد دوست نے بازو لپیٹے ہوں نشان عبرت بنے تو حیرت کیسی؟

لیکن رکیے نشان عبرت کیسی؟ وہ تو وائرل ہوچکی ہے اس کی فین فالونگ ایک لاکھ سے 20لاکھ تک جائے گی اور یہی تو ٹک ٹاکرز کی منزل ہے اسی مقصد کے لیے کبھی وہ اپنی جھوٹی موت کی خبر دیتے ہیں تو کبھی اپنے سچے سکینڈل وائرل کرتے ہیں اور یہ واقعہ محترمہ نے خود وائرل کیا ہے دو دن تک تو کسی کو پتا ہی نہ تھا کہ کیا واقعہ ہوگیا پھر محترمہ تھانے پہنچی ایف آئی آر کرائی اور مین سٹریم میڈیا کا ہائی لائٹ موضوع بن گئی ۔

ماں باپ کا بھی فرض بنتا کہ اولاد پر نظررکھیں وہ کیا کر رہی کدھر جا رہی ہے  ابھی نور مقدم والا واقعہ بھی سب کے سامنے ہے  برے کاموں کے برے نتیجے ہوتے ہیں ۔13 اگست کی شام ایک ویڈیو پوسٹ کی جاتی ہے کہ کل 14اگست کو مینار پاکستان آرہی ہوں توجس نے میرے ساتھ ویڈیو بنانی ہو سیلفی لینی ہو وہ میری اس وڈیو کو شیئر کردیں اور کل مینار پاکستان پہنچیں یاد رہے اس واقعہ کے ہونے کے بعد وہ ویڈیو اکاونٹ سے ڈیلیٹ کردی جاتی ہے

ان تصویروں اور واقعہ کی ویڈیوز میں ایک لڑکا دکھائی دیتا ہے جو اسے کور کررہا ہے اس کا نام ریمبو ہے اس کے ملین میں ٹک ٹاک فالورزہیں یہ اس سے فالورز بڑھانے کا وعدہ کرکے اسے مینار پاکستان لے جاتا ہے جہاں درجنوں ٹک ٹاکرز  ریمبو کے ساتھی پہلے سے موجود ہوتے ہیں تاکہ حالات خراب کئے جاسکیں اور سستی شہرت حاصل کی جاسکے اور منصوبہ کے عین مطابق سب  ابھی تک کچھ چل رہا ہے کچھ مرد حضرات خود کو نامرد ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو کچھ اپنی تربیت کو کوس رہے ہیں

‏اختلاف رائے آپکا حق ہے میں یہ نہیں کہتی کہ ہمارا معاشرہ کوئی مثالی معاشرہ ہے

لیکن روز کتنی ہی خواتین کام پر جاتی ہیں اور ان روزانہ مردوں سے واسطہ پڑتا ہے پر آج تک کبھی کسی نے ایسی حرکت نہیں کی جب آپ مجرہ کرنے جاتی ہیں تو طوائف کہلاتی ہیں اور مجرے اوباش لوگ دیکھنے آتے ہیں شرفا نہیں کیا اسلام نے آپ کو سکھایا ہے کہ  مردوں کے سامنے ناچنا منع ہے۔

مینار پاکستان پر بہت برا ہوا لیکن قصور واراکیلےجوان لڑکےنہیں لڑکی اس میں شامل ہے۔ جب اللہ کےحکم کو نہیں مانا جائےگا تو پھر نہ آنکھیں نیچےرہتی  ہیں اورنہ کپڑا اوپر ٹک ٹاک پر بیہودہ ویڈیوز بنانے اور دیکھنے والے جنسی فرسٹریشن کے شکار وحشیوں سے آپ کیا امید کرسکتے ہیں ان لوگوں کو مسلمان کہہ کر اسلام کو بدنام نہ کریں اور جب کوئی عورت خود کو ان درندوں کے آگے پیش کرے گی تو وہ بھی برابر قصور وار ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔