اسلام آباد(آئی پی ایس )حکومت، ممتاز معاشی تحقیقی اداروں، بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں اور پاکستان کی ترقیاتی برادری کے سینئر نمائندوں نے آج n اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں گلوب سائٹ کے زیر اہتمام منعقدہ بند کمرہ پالیسی مذاکرے مالی فیصلے، انسانی اثرات: پاکستان کا ترقیاتی بجٹ زیرِ غور میں شرکت کی۔
یہ مذاکرہ پاکستان کے حالیہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے تناظر میں منعقد کیا گیا، جس میں قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے دبا کے پیش نظر قلیل مدتی معاشی استحکام کے لیے سخت مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی، جس کے باعث مذاکرے میں ایک بنیادی سوال پر غور کیا گیا،مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باوجود پاکستان انسانی ترقی میں درکار بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے؟
مذاکرے کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے ترقیاتی نظام کو نتائج پر مبنی جوابدہی کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ شرکا نے مختلف شعبہ جاتی ترقیاتی پروگراموں میں موجود رجحانات اور ان پر عمل درآمد کے چیلنجز کا جائزہ لیا، جبکہ اس سوال پر بھی غور کیا کہ ملک کو درپیش مسلسل ترقیاتی خلا کی بنیادی وجوہات وسائل کی غیر مثر تقسیم، اخراجات میں کم کارکردگی یا ادارہ جاتی تقسیم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے اصلاحاتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کو بہتر انداز میں ہم آہنگ کر کے انسانی وسائل کی ترقی اور طویل مدتی استحکام کو فروغ دے سکیں۔
مذاکرے میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ تعلیم، صحت اور آبادی کو ترقیاتی ترجیحات میں نمایاں شعبوں کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ گلوب سائٹ کے پارٹنر اور مذاکرے کے منتظم حسن حنیف نے افتتاحی کلمات میں کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ترقیاتی منصوبہ بندی میں ایک ایسے دائرے میں پھنس گیا ہے جہاں ترقیاتی وسائل کا بڑا حصہ اب بھی بنیادی ڈھانچے، ماضی کے ادھورے منصوبوں کی مالی ذمہ داریوں اور ایسے منصوبوں پر خرچ ہو رہا ہے جن کے لیے مختص فنڈز بھی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو پاتے۔
ورلڈ بینک کے سینئر ماہرِ معاشیات جعفر عسکری نے کہاکہ قومی بجٹ پیش ہوتے ہی ہر شعبہ اپنی مختص رقم پر توجہ دیتا ہے، جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ فنڈز کی تقسیم کے بجائے ترقیاتی نتائج کی بنیاد پر جوابدہی کا مثر نظام قائم کیا جائے۔معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی ترقیاتی حکمتِ عملی میں معاشی نمو پر مبنی نقط نظر اپنانا ہوگا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو بھی اپنے ترقیاتی کمیشن قائم کرنے چاہییں تاکہ ہر شعبے کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور فزیبلٹی تیار کی جا سکے۔
انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خدیجہ باری نے کہاکہ ہم اکثر تعلیم، صحت اور غذائیت کے پروگراموں کو صرف سماجی اخراجات سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ایسے پیداواری اخراجات ہیں جو انسانی وسائل کی ترقی اور قومی معیشت کی مضبوطی میں براہِ راست سرمایہ کاری کے مترادف ہیں۔ یہ مذاکرہ جنوبی ایشیا میں گلوب سائٹ کی اس مسلسل کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد شواہد پر مبنی، انسان دوست اور مثر مالیاتی پالیسیوں کے فروغ کے لیے پالیسی سازوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری مکالمے کو آگے بڑھانا ہے۔ گلوب سائٹ آئندہ ہفتوں میں اس مذاکرے سے حاصل ہونے والے اہم نکات اور سفارشات تفصیلی رپورٹ کی صورت میں جاری کرے گا۔
