نیویارک (آئی پی ایس )امریکا اور ایران کے درمیان 2 روز تک جاری رہنے والے مہلک حملوں کے بعد مشرقِ وسطی میں وقتی طور پر جنگ بندی قائم ہو گئی ہے، جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے بدستور پرعزم ہے اور تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دو روزہ شدید فوجی جھڑپوں کے بعد مشرقِ وسطی میں فی الحال ہتھیار خاموش ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات وقتی طور پر کم ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مختلف ثالث ممالک دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطے بحال رکھنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ مثر بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے کسی وسیع تر تصادم سے بچا جا سکے۔دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت بھی بدستور جاری ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ موجودہ جنگ بندی نے فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائی ہے، تاہم خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان جامع سیاسی اور سفارتی معاہدہ ناگزیر ہوگا۔
