نیویارک (آئی پی ایس )ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صرف 48 گھنٹوں کے اندر عالمی سیاست اور سفارت کاری میں وہ غیر معمولی اتار چڑھا دیکھنے کو ملا جس نے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع اور جارحانہ حکمتِ عملی کے باعث ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پوری دنیا ان کے وقت اور اشاروں پر چل رہی ہے۔اجلاس کے آغاز پر جہاں نیٹو اتحادی شدید دبا کا شکار اور مارکیٹیں مندی کا شکار تھیں، وہیں اختتام پر تنا اچانک محبتوں اور اتحاد میں تبدیل ہو گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین واشنگٹن کی حمایت کا منتظر تھا جبکہ ایران سے متعلق صورتحال بھی اجلاس کے ایجنڈے پر غالب رہی۔تاہم چند ہی گھنٹوں میں ماحول مکمل طور پر تبدیل ہوگیا اور وہی رہنما، جو ٹرمپ کی سخت تنقید سے پریشان تھے، ان کے ساتھ ملاقاتوں کو انتہائی کامیاب قرار دینے لگے۔رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران، روس، یوکرین جنگ، گرین لینڈ، یورپی سلامتی، نیٹو کے دفاعی اخراجات، اسپین کے فوجی بجٹ پر اختلافات اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات سمیت متعدد اہم عالمی معاملات زیر بحث آئے، لیکن ہر معاملے کا مرکز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی رہے۔
اجلاس سے قبل ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے نیٹو کے یورپی ارکان کو دفاعی اخراجات میں ناکافی اضافے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈنمارک پر گرین لینڈ امریکا کے حوالے نہ کرنے پر اعتراض کیا جبکہ اسپین کو بھی دفاعی بجٹ کے مقررہ ہدف سے پیچھے رہنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اجلاس کے دوران اس وقت صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مفاہمتی عمل اور جنگ بندی کے حوالے سے مزید پیش رفت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
اس اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مندی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تاثر پیدا ہوا کہ اجلاس تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔صورتحال نے غیر متوقع طور پر نیا رخ اختیار کیا اور بند کمرہ اجلاس کے بعد متعدد عالمی رہنماں نے بتایا کہ ٹرمپ نے تمام رہنماں کی بات توجہ سے سنی، مثبت رویہ اختیار کیا اور اجلاس خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔بعد ازاں اپنی اختتامی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے بھی اس تاثر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں غیر معمولی محبت اور اتحاد کا ماحول تھا۔ ان کے بقول، کمرے میں بے پناہ محبت تھی اور اتحاد حیران کن تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی نیٹو کی مزید حمایت حاصل کرنے کے لیے اجلاس میں شریک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق روس کے خلاف یوکرین کی مزاحمت اور جنگی محاذ پر استحکام کے باعث ٹرمپ کی نظر میں زیلنسکی کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، جبکہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل نظام کی مشترکہ تیاری سے متعلق پیش رفت کی بھی امید پیدا ہوئی ہے۔سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کے نمایاں فاتحین میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان شامل رہے، جنہوں نے کامیاب میزبانی کے ذریعے اپنی سفارتی پوزیشن مستحکم کی اور امریکا سے ایف-35 لڑاکا طیاروں کی منظوری حاصل کرنے کے امکانات بھی روشن کیے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے بھی اجلاس کے کامیاب کرداروں میں شامل رہے، جنہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکا کو نیٹو کے ساتھ منسلک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق اسپین اور ڈنمارک، جنہیں اجلاس کے آغاز میں شدید امریکی تنقید کا سامنا تھا، اختتامی مرحلے میں کسی بڑی امریکی سرزنش سے بچ نکلے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس اجلاس کے ممکنہ طور پر سب سے بڑے متاثرین میں شامل ہیں کیونکہ نیٹو نے دفاعی اتحاد کا مضبوط مظاہرہ کیا، دفاعی اخراجات بڑھانے پر اتفاق کیا اور یوکرین کو امریکا کی نسبتا زیادہ مثبت حمایت حاصل ہوتی دکھائی دی۔
ایران کے حوالے سے تاہم صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے صرف اتنا کہا کہ ان کی موجودگی میں ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، تاہم انہوں نے آئندہ حکمت عملی کے بارے میں کوئی واضح مقف اختیار نہیں کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو اجلاس نے یہ ثابت کر دیا کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سفارت کاری کے مرکز میں ہوں تو صرف چند گھنٹوں میں عالمی سیاسی ماحول، اتحادیوں کے رویے اور مالیاتی منڈیوں کی سمت تبدیل ہو سکتی ہے، اگرچہ ایران، یوکرین اور نیٹو کے مستقبل سے متعلق بنیادی سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔
