Friday, April 17, 2026
ہومبریکنگ نیوزپاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن

پاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن

ماسکو(آئی پی ایس )پاکستان نے روس کی سی فوڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے کیونکہ روس نے 16 پاکستانی سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس کو برآمدات کے لیے رجسٹر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔یہ پیشرفت برآمدی منڈیوں میں تنوع اور یوریشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ اس منظوری کے بعد پاکستان سے روس کو منظم انداز میں سی فوڈ کی برآمدات کا آغاز ممکن ہو گیا ہے جبکہ اس سے خطے کی دیگر منڈیوں تک رسائی کے بھی دروازے کھل گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روسی حکام نے پاکستان کی 16 سی فوڈ پروسیسنگ فیکٹریوں کو کلیئرنس دے دی ہے جو میری فشریز ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ان کے مطابق یہ پیش رفت مسلسل تکنیکی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے ممکن ہوئی ہے، اور اس سے تقریبا 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدی گنجائش پیدا ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان کی موجودہ سی فوڈ برآمدات تقریبا 50 کروڑ ڈالر سالانہ ہیں جبکہ توقع ہے کہ نئی منڈیوں کے حصول سے یہ بڑھ کر آنے والے برسوں میں 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔روسی مارکیٹ میں داخلہ پاکستان کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد روایتی منڈیوں جیسے چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور امریکا پر انحصار کم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق اس پیشرفت سے یوریشین اکنامک یونین تک بالواسطہ رسائی بھی حاصل ہو گی، جس سے قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان جیسے وسطی ایشیائی ممالک میں بھی برآمدات کے مواقع پیدا ہوں گے جہاں بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور پروٹین سے بھرپور غذا کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔برآمدات سمندری، فضائی اور زمینی راستوں سے ہوں گی جن میں وسطی ایشیا کے ذریعے کم لاگت زمینی راستے بھی شامل ہیں۔ کراچی اور گوادر سمیت پاکستان کی گرم پانیوں کی مچھلیاں، جھینگا اور ربن فش جیسی مصنوعات ان نئی منڈیوں کی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

وزیر نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، بندرگاہوں کا نظام اور بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد اس کی برآمدی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں تاہم طویل مدتی ترقی کے لیے لاجسٹکس اور پالیسی میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔یہ منظوری ایک اور پیشرفت کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت روس نے حال ہی میں پاکستانی ٹماٹر کی درآمد پر پابندیاں ختم کر دی ہیں جس سے محدود پیمانے پر دوبارہ ترسیل شروع ہو گئی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت میں بتدریج نرمی کی علامت ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔