Thursday, April 16, 2026
ہومبریکنگ نیوزپاکستان سعودیہ زرعی تعاون: گرین انیشیٹو کے ثمرات ملنا شروع، 64 جدید زرعی فارمز سے پیداوار کی برآمد

پاکستان سعودیہ زرعی تعاون: گرین انیشیٹو کے ثمرات ملنا شروع، 64 جدید زرعی فارمز سے پیداوار کی برآمد

اسلام آباد (آئی پی ایس )ملک کو پاکستان گرین انیشیٹو کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں اور گذشتہ 3 سال میں 64 جدید زرعی فارمز کے قیام کے بعد ان میں پیدا ہونے والی گندم اور دیگر اجناس کی برآمد کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔اس منصوبے کے متعلق ایک خصوصی تقریب جمعرات کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت ڈاکٹر سلمان بن علی الخطیب نے شرکت کی۔

اس موقع پر بھکر میں بنائے گئے ایک جدید فارم پر خصوصی ڈاکیومینٹری دکھائی گئی جس میں بتایا گیا کہ اس فارم کو 3 ماہ کی قلیل مدت میں ایک بنجر خطے سے سر سبز و شاداب زرعی قطعے میں بدلا گیا ہے۔اس منصوبے پر سعودی عرب کی طرف سے فراہم کیا گیا 5 ارب روپے کا جدید زرعی آبپاشی نظام لگایا گیا ہے۔بھکر گرین لینڈ فارم پر جدید آبپاشی نظام کے تحت 1500 ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کرکے زرعی زمین میں بدلا گیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پراجیکٹس میجر جنرل (ریٹائرڈ) شاہد نذیرنے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے زرعی آبپاشی کے 10 جدید ترین نظام فراہم کیے گئے ہیں جن کی مدد سے بنجر زمینوں کو آباد کرکے یہاں پر گندم، چارہ، گھاس اور دیگر فصلیں اگائی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سال 2023 سے سال 2026 میں بنائے گئے 64 جدید زرعی فارمز میں بلوچستان میں لگائے گئے زیتون اور سندھ کے پام آئل فارمز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اس وقت دنیا کے کئی دور دراز ممالک سے گندم اور دیگر اجناس درآمد کررہا ہے جبکہ پاکستان ان فارمز سے سعودی عرب کو 70 فیصد تک کم وقت اور فاصلے سے وہی اجناس برآمد کر سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کو حلال گوشت کی فراہمی پر بھی کام کررہا ہے۔ اس موقع پر سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت سلمان بن علی الخطیب نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر فوڈ سیکیورٹی کے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔