اسلام آباد(آئی پی ایس )اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک نے پاکستان میں آفات سے متاثرہ کمزور طبقات کی مدد کے لیے حکومتِ جاپان کی جانب سے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی معاونت کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ امداد ورلڈ فوڈ پروگرام کو مون سون کی سیلابی صورتحال اور دیگر بحرانوں سے متاثرہ 45,000 سے زائد افراد کو خوراک فراہم کرنے کے قابل بنائے گی۔ اس کے علاوہ، یہ کمیونٹیز کو اپنے اثاثے بحال کرنے اور مستقبل کے لیے مستحکم ذریعہ معاش فراہم کرنے میں بھی مدد دے گی۔
پاکستان میں جاپان کے سفیر، عزت مآب اکاماتسو شوئیچی نے کہا: جاپان پاکستان اور عالمی پروگرام برائے خوراک کے ساتھ اپنے دیرینہ اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس معاونت کے ذریعے، جاپان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کو ضروری خوراک میسر ہو، جبکہ ایسی کوششوں کی حمایت بھی کی جائے جو کمیونٹیز کی بحالی میں مددگار ہوں۔
کنٹری ڈائریکٹر اور نمائندہ، کوکو اوشیاما نے کہا ہم جاپان کی جانب سے پاکستانی عوام کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہیں۔ یہ امداد نہ صرف فوری خوراک کی ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ خاندانوں کو اپنے وسائل کے تحفظ، نقصانات سے بحالی، اور مستقبل کے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جیسے جیسے موسمیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں، ایسی سرمایہ کاری کمزوری کے چکر کو توڑنے اور پاکستان بھر میں زیادہ مضبوط کمیونٹیز کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے۔
پاکستان کو شدید موسمی خطرات کا سامنا ہے جن میں ہیٹ ویوز، خشک سالی، اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) شامل ہیں۔ 2025 کے مون سون سیلاب سے متاثر ہونے والے 6.9 ملین افراد کی کمیونٹیز ابھی تک بحالی کے عمل میں ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، 2026 کے مون سون سیزن میں معمول سے 22 سے 26 فیصد زیادہ بارش کا امکان ہے، جس سے شدید سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور بروقت امداد اور تیاری کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
جاپان عالمی پروگرام برائے خوراک کے اہم عالمی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد سے، حکومتِ جاپان پاکستان میں WFP کی انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے 10 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی معاونت فراہم کر چکی ہے۔
