Sunday, May 17, 2026
ہومکالم وبلاگز'' کٹ گیا بیعتِ جبرِ شاہی نہ کی''

” کٹ گیا بیعتِ جبرِ شاہی نہ کی”

محمد عمر ریاض عباسی

سید نا امام حسین نے یزید کی بیعت کیوں نہ کی؟
اگر حسین ابنِ علی جیسی برگزیدہ ہستی یزید جیسے فاسق و فاجر کی بیعت کر لیتی تو اس کا مطلب یہ ہو تاکہ یزید یت کو (معاذاللہ )حسین جیسے حق پرست انسان کی تائیدو تصدیق و حمایت حاصل ہے ، پھر یہ ہوتا کہ حسین کی جان تو بچ جاتی لیکن حسین کے نانا ۖ کا لایا ہو اسلام زندہ نہ رہ سکتا ۔امام حسین نے وطن چھوڑا ، بھوک و پیاس برداشت کی، ننھے ننھے بچوں کا شدت تشنگی سے تڑپنا دیکھا، اپنے اعزاواقربا کی لاشوں کو خاک میں آلودہوتے دیکھا ، سب کچھ ہوا لیکن انہوں نے باطل کے سامنے سر نہ جھکایا ۔ اگر سیدنا حسین یہ قربانی نہ دیتے تو آج باطل کے ساتھ ٹکرانے کا درس نہ ملتا ۔ ہر شخص یہی کہتا نظر آتا ہے کہ فوج ظفر موج اور جنگی آلات باطل سے ٹکرانے کے لئے ضروری ہیں ،مگر سیدنا حسین نے قرآنی و نبوی جمہوریت کی بقاء کے لئے درس دے دیا کہ پوری قوم کی ترقی کے لئے اگر جان دینی پڑے تو دے دی جائے مگر اسلام کی قدروںکو پامال کرنے والے عیاش حکمرانوںکی حکمرانیت کے بتوں کو پاش پاش کر دیا جائے ۔تاکہ آنے والی نسل کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ آسکے ،اگر ان کو کسی عیاش وبد قماش وعیار حکمران سے واسطہ پڑے جواسلام کے نام پر پر قوم کو مسلسل دھوکے دیتے آرہے ہوں ان سے وہ ٹکرا کر مشن و دین کی حقانیت کا تحفظ کر سکیں ۔بقول شاعر!
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ ۖ من استعمل ارضی اللہ منہ فقد خان اللہ و رسولہ و جماعة المسلمین و قال ھٰذا حدیث صحیح الاسناد
( المستدرک،امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری،متوفی ٥٠٤ ہجری،،جلد ،٤ صفحہ،٢٩،٣٩)
حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: جس شخص نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا امیر بنایا،حالانکہ اس جماعت میں اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ تھا تو بنانے والے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ۖ اور جماعتِ مسلمین سے خیانت کی۔امام حاکم نے کہا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ ۖ من استعمل عاملا من المسلمین و ھو یعلم ان فیھم اولیٰ بذٰلک منہ و اعلم بکتاب اللہ و سنة نبیہ فقد خان اللہ و رسولہ و جمیع المسلمین۔
(کنز العمال،علامہ تقی بن حسام الدین ہندی،متوفی٥٧٩ھجری،جلد،٦،صفحہ،٩٧٩)
حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: جس شخص نے کسی شخص کو مسلمانوں کا عامل بنایا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس سے بہترشخص موجود ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول ۖ کا زیادہ جاننے والا ہے تو اس بنانے والے نے اللہ تعالیٰ اس کے رسول ۖ اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔
لہٰذا حضرت امام حسین جانتے تھے کہ یزید فاسق و فاجرہے اور قرآن مجید اور احادیثِ رسول ۖ کی تفصیلات اور احکام شرعیہ کی تشریحات سے نا بلد ہے۔اور انہیں یہ بھی بخوبی معلوم تھا کہ امت مسلمہ میں علم و عمل میں یزید سے بدرجہا بہتر و موزوں افراد موجود ہیں،اس لئے آپ، یزید کی بیعت کو ان مذکورة الصدر احادیث اور قرآن مجید کی اس آیت کے بھی خلاف گردانتے تھے جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ۔
ان اللہ یامرکم ان تودوا الامانات الیٰ اھلھا (النسائ:٨٥)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان امانتوں کا اہل ہو۔
لہٰذا ملک و قوم کے معاملات اصحاب رائے کے پاس مسلمانوں کی امانت ہیںاور اگر اصحاب رائے کسی ایسے شخص کو مسلمانوں کا امیر مان لیں جو خوف خدا سے خالی ہو اور علم و عمل سے تہی دامن ہو تو دوسرے لفظوں میں انہوں نے ملک و قوم کی امانت ایک نا اہل شخص کے سپرد کر دی اور یہی وہ خیانت ہے جس کے ڈر سے سیدنا امامِ حسین نے یزید کی بیعت سے انکار کیااور بعد جب یزید نے قاتلینِ حسین کو کوئی سزا نہیں دی،مدینہ منورہ میں تین دن تک قتل و غارت گری کرنے کا حکم دیا،مکہ مکرمہ پر حملہ کرایا اور خانہ کعبہ کو جلوایا تو ان واقعات سے یہ ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں کی امارت کیلئے یزید واقعی نا اہل تھا اور سیدنا امامِ حسین کی فکرِ صائب نے اس کی بیعت نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ صحیح تھا۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یزید کے فسق و فجور اور اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے حضرت امامِ حسین نے اس کی اطاعت نہیں کی۔حضرت امامِ حسین کے اس موقف پر کچھ اور احادیث پیش کی جا رہی ہیںتاکہ یہ مسئلہ واضح ہو جائے کہ حضرت امامِ حسین کا یزید کی بیعت اور اطاعت نہ کرنا ان احادیث کی بنیاد پر تھا ،معاذ اللہ کسی ہوائے نفسانی کی وجہ سے نہیں تھا۔
عن انس بن مالک ان معاذ بن جبل قال:یا رسول اللہ ۖ ارایت ان کان علینا امراء لایستنون نسبتک و لا یاخذون یا مرک فما تامرنا فی امرھم فقال رسول اللہ ۖ لا طاعة لمن لم یطع اللہ۔رواہ احمد و ابو یعلیٰ و فیہ عمر بن زینب و لم اعرفہ و بقیة رجالہ رجال الصحیح۔
(حافظ نور الدین الہیثمی متوفی٧٠٨ ہجری،مجمع الزوائد،جلد ٥ ،صفحہ٥٢٢،مطبوعہ دارالکتب العربیة بیروت،الطبعة الثالثہ٣٠٤١ ہجری)
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل نے کہا یا رسول اللہ ۖ: اگر ہم پر ایسے امیر مسلط ہوں جو آپ ۖ کی سنت پر عمل نہ کریں اور آپ ۖ کے احکام پر نہ چلیں تو آپ ۖ ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟رسول اللہ ۖ نے فرمایا:جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرے اس کی کوئی اطاعت نہیں۔ حافظ الہیثمی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو امام احمد اور امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے۔اس کی سند میں عمرو بن زینب ہے جس کو میں نہیں جانتااور اس حدیث کے باقی راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں۔
عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ ۖ سیکون امراء بعدی یعرفون و ینکرون فمن نابذھم نجا و من اعتزلھم سلم و من خالطھم ھلک۔رواہ طبرانی ۔
(حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی،مجمع الزوائد،جلد ٥ صفحہ ٨٢٢)
حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: عنقریب ایسے امراء ہوں گے جو نیک کام بھی کریں گے اور برے بھی،جو ان سے بیعت توڑے گاوہ نجات پا لے گا ،جو ان سے علیحدہ رہے گا وہ سلامت رہے گا ،جو ان سے میل جول رکھے گا وہ ہلاک ہو جائے گا
اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے۔علامہ علی متقی ہندی نے بھی اس حدیث کو طبرانی کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :سنو!عنقریب حاکم اور کتاب اللہ الگ الگ ہو جائیں گے،تم کتاب اللہ سے علیحدہ نہ ہونا۔سنو!عنقریب تم پر ایسے حاکم مسلط ہوں گے کہ وہ اپنے لئے جو فیصلے کریں گے وہ تمہارے لئے نہیں کریں گے۔تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تم کو قتل کر دیں گے اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تم کو گمراہ کر دیں گے۔صحابہ نے عرض کیا! یا رسول اللہ ۖ! ہم اس وقت کیا کریں ؟فرمایا:تم وہ کرنا جو حضرت عیسیٰ ابن مریم کے صحابہ نے کیا تھا۔انہیں آروں سے چیر دیا گیا اور سولی پر چڑھا دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مر جانا،اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں زندگی بسر کرنے سے بہتر ہے۔یہ حدیث ثقہ راویوں پر مشتمل ہے نیز امام ابن حبان نے راویوں کی توثیق کی ہے۔
( کنز العمال،جلد ٦ صفحہ ٨٦،موسسة الرسالة،٥٠٤١)
یہ وہ احادیث ہیں جن کے پیشِ نظرحضرت امامِ حسین نے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔اہل کوفہ نے جب آپ کو بیعت کیلئے دعوت دی اور آپ نے حضرت مسلم بن عقیل کو دریافتِ حال کیلئے کوفہ بھیجا اور ان کی یقین دہانی کے بعد آپ نے اہل کوفہ کی دعوت قبول کر لی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے نزدیک یزید کی حکومت صحیح نہیں تھی اور آپ کو خلافت علیٰ منہاج النبوةۖ قائم کرنے کا ایک موقع ملا تو آپ کے نزدیک یہ ضروری تھا کہ آپ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے۔ اور جو لوگ آپ سے ایک صالح حکومت قائم کرنے کی درخواست کر رہے تھے ان کی درخواست کو منظور فرماتے۔یہی وجہ تھی کہ آپ کوفہ روانہ ہو گئے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
عام طور پرمشہور ہے کہ حضرت امامِ حسین نے کربلا میں ابن زیادسے کہا تھا کہ مجھے یزید کے پاس لے چلو تاکہ میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دوں یا مجھے واپس جانے دو یا مجھے سرحدِ اسلام پر جہاد کرنے دو۔
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ عقبہ بن سمعان نے کہا کہ مکہ سے لے کرشہادتِ امامِ حسین تک میں حضرت امامِ حسین کے ساتھ رہا ہوں،قسم بخدا! حضرت امامِ حسین نے اس عرصہ میں جو کچھ بھی کہا وہ میں نے سنا ہے۔انہوں نے یہ بالکل نہیں کہا کہ مجھے یزید کے پاس لے جاو تاکہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور نہ یہ کہا کہ مجھے سرحدِ اسلام پر جانے دو۔البتہ انہوں نے یزیدی لشکر سے دو مطالبے کئے تھے۔
ایک یہ کہ انہیں واپس جانے دیں اور دوسرا یہ کہ انہیں زمین میں پِھر کر دیکھنے دیں کہ لوگوں کا معاملہ( حکومت) کس طرف لوٹتا ہے؟
علامہ امام ابن اثیر جذری لکھتے ہیں کہ:
”حضرت امامِ حسین کا یزید کی بیعت نہ کرنااور کوفہ جانا اس وجہ سے تھا کہ وہ شرحِ صدر سے یہ سمجھتے تھے کہ یزید کی بیعت کرنا در اصل اس کے غیر شرعی کاموں کی تائید اور اس کی معاونت کرنا ہے”۔
علامہ امام ابن جریر طبری نے حضرت امامِ حسین کا وہ تاریخی خطبہ نقل کیا ہے جو انہوں نے حر بن یزید تمیمی اور اس کے لشکر کے سامنے دیا تھا۔اس خطبے میں حضرت امامِ حسین نے وہ حقائق بیان کئے جن کی بنیاد پر آپ نے یہ قدم اٹھایا تھا۔
حضرت امامِ حسین نے حمد و صلوٰة کے بعد فرمایا:اے لوگو!رسول اللہ ۖ کی حدیث ہے کہ:
”جس شخص نے دیکھا کہ ظالم حکمران اللہ کے حرام کو حلال کر رہا ہے اور اللہ کے عہد کو توڑ رہا ہے،رسول اللہ ۖ کی سنت کی مخالفت کر رہا ہے اور اللہ کے بندوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کر رہا ہے۔پھر وہ شخص اپنے قول اور فعل سے اس حکمران کو بدلنے کی کوشش نہ کرے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس شخص کو اس کے ٹھکانے میں داخل کر دے”۔
سنو!ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت کا التزام کر لیا ہے اور رحمان کی اطاعت چھوڑ دی ہے۔ان لوگوں نے فساد برپا کیا ہے اور حدود کو معطل کر دیا ہے اور محاصل( فئے)کو اپنی ملکیت بنا لیا ہے۔اور اللہ کے حلال کو حرام اور اللہ کے حرام کو حلال کر لیا ہے اور میں دوسروں کی نسبت ان لوگوں کے خلاف جہاد کرنے کا زیادہ مستحق ہوں ۔جبکہ میرے پاس بیعت کیلئے تمہارے بکشرت خطوط اور نمائندے آ چکے ہیں کہ تم مجھے نہ تو تکلیف دو گے اور نہ ہی شرمندہ ہونے دو گے۔اگر تم اپنے اس اقرار اور بیعت پر قائم رہوتو ہدایت پائو گے۔
”میں حسین ابن علی ابن فاطمہ بنتِ رسول ۖ ہوں۔میں تمہارے ساتھ ہوں اور میرے اہل تمہارے اہل کے ساتھ ہیں اور تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ ہے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اپنے اقرارسے پھر گئے اور میری بیعت کو توڑ دیا تو یہ تمہاری کوئی نئی بے وفائی نہیں ہے،ایسی بے وفائی تم اس سے پہلے میرے والد،میرے بھائی اور میرے عم زاد( چچا زاد)مسلم بن عقیل کے ساتھ کر چکے ہو۔تمہارا حصہ اور نصیب خطا ہے اور جو شخص عہد شکنی کرتا ہے وہ در اصل اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بے پرواہ کر دے گا”۔و السلام
(علامہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی،٠١٣ ہجری، الکامل فی التاریخ،جلد ٣ صفحہ ٤٨٢،مکتبہ دار الکتب العریبیة بیروت،الطبعة الثالثة،علامہ ابن اثیر جزری)
سیدنا امامِ حسین مصطفوی انقلاب کے علمبردار !
حضرت سیدنا حسین کی شہادت ہونے کے باوجود ایک زندگی ہے کیونکہ کچھ لوگ مرکر بھی زندہ ہوتے ہیں ۔آپ نے حق و صداقت کے علم کا سر بلند کیا ۔آپ نے اس نظام کی حفاظت کی جو حضورۖ نے مدینے کی عملی ریاست کی صورت میں منظم کیاتھا،بلکہ انقلاب حسینی، مصطفوی انقلاب کے تحفظ کا ایک باب ہے الغرض واقعہ کربلا انسانیت کے ضمیر کو ایک غیر ت د لاتا ہوا پیغام ہے، سیدنا حسین کا اسوہ حسنہ ہمیں ہر وقت کے یزیدی نظام کے فرعونوں سے ٹکر اجانے کا عزم دیتا ہے۔کیونکہ!
کون کہتا ہے کہ دل کے حق میں غم اچھا نہیں
پھر بھی شغل گر یہ نصب العین بن سکتا نہیں!

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔