Saturday, July 13, 2024
ہومکالم وبلاگزغربت مٹاؤ سے دیانت مٹاؤ تک کا سفر

غربت مٹاؤ سے دیانت مٹاؤ تک کا سفر

تحریک انصاف ملک میں معاشی احیا کے ذریعے غربت کے خاتمے کا اعلان کرتی اقتدار تک پہنچی تھی۔ عوام کے علاوہ ملک کی مقتدر اشرافیہ بھی جسے دلار میں اسٹبلشمنٹ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، عمران خان کے اڑھائی سالہ دور اقتدار میں اب اس وعدے پر یقین کرنے کا مزہ چکھ رہے ہیں۔ معاشی احیا اور قومی پیداوار میں اضافہ کی جگہ خیراتی پروگرام عام کئے جارہے ہیں۔ بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے کرپشن کو سیاسی سلوگن بنا کر دیانت مٹا مہم بھی اپنے عروج پر ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے آج اسلام آباد میں احساس غربت مٹا پروگرام کے تحت غریبوں کی مدد کا ایک نیا آسان منصوبہ شروع کیا ہے۔ کوئی بھوکا نہ سوئے کے نام سے شروع کئے گئے اس پروگرام میں سرکاری ویگنیں گلی گلی جاکر بھوکوں کو تلاش کریں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ملک میں کوئی غریب بھوکا نہ سوئے۔ غریب کا پیٹ بھرنے کے اس سطحی اور بے مقصد منصوبہ کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے بنفس نفیس کیا ہے اور ایک ویگن میں کھڑے ہوکر ، وہاں جمع ہوجانے والے بھوکے غریبوں کو خود کھانے کے پیکٹ تقسیم بھی کئے۔ اس ملک کے عوام نے پبلک ریلیشننگ کے لئے حکمرانوں کے ایسے اسٹنٹ اور ڈھونگ پہلے نہ دیکھے ہوتے تو وہ واقعی عمران خان کی اس فراخدلی اور غریب دوستی پر اش اش کراٹھتے۔ بدنصیبی سے ملک کی ہر حکومت غربت کے خاتمہ کی معاشی منصوبہ بندی میں ناکام ہونے کے بعد غریبوں کے لئے مختلف پیکیجز کا اعلان کرکے سستی سیاسی شہرت کا اہتمام کرتی رہی ہے۔ عمران خان نے اب اس کام کو بھی قومی امتیاز کی نئی علامت بنا دیا ہے۔
عمران خان نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کو فلاحی ریاست کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ وزیر اعظم کی اس بات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یا تو وزیر اعظم کو فلاحی ریاست کا مطلب ہی پتہ نہیں ہے یا ان کے پاس اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے ایسے ڈھکوسلوں کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ ملک میں سینکڑوں خیراتی ادارے مخیر حضرات کے چندوں سے غریبوں کی فوری ضرورتیں پوری کرنے کے درجنوں منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔ ان میں مفت کھانا کھلانے کے لئے دسترخوان سے لے کر خیراتی ہسپتالوں کے قیام تک کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ سب خیراتی ادارے مل کر بھی پاکستان کو فلاحی مملکت نہیں بنا سکے۔ یا دوسرے لفظوں میں اگر خیرات بانٹنے سے ہی کوئی ملک ویلفئیر اسٹیٹ کا رتبہ پاسکتا تو یہ منزل اہل پاکستان کئی عشرے پہلے عبور کرچکے ہوتے۔ چندے، خیرات، ذکو اور صدقات سے جمع ہونے والے سرمایے سے کام کرنے والے ادارے ، ملک کے تمام عوام کو ان بنیادی ضرورتوں کی سہولت یقینی نہیں بنا سکتے جن کی فراہمی کسی بھی فلاحی ریاست میں حکومت کی بنیادی ترجیح قرار پاتی ہے۔ اسے خیرات کے طور پر لوگوں کو فراہم نہیں کیا جاتا بلکہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی عام شہری کا حق سمجھا جاتا ہے اور ریاست یہ حق فراہم کرنے کی ضامن ہوتی ہے۔ عمران خان ایسی فلاحی مملکت تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں وزیر اعظم کھانے کے ڈبے تقسیم کرتے ہوئے تصویریں اترواتا ہے اور غریبوں کو اپنا احسان مند کرنا چاہتا ہے۔
غریبوں کی مدد کرنے والے نجی رضاکار سخی اداروں میں اگر احساس پروگرام کے مزید چند خیراتی منصوبوں کا اضافہ ہوجائے گا تو کیا اس سے پاکستان فلاحی ریاست بن جائے گا؟ ایسا کوئی بھی بیان سیاسی دھوکہ بازی اور معاشی مبادیات کی ابجد سے ناشناسائی کا ثبوت ہے۔ قرضہ اٹھا کر خیرات بانٹنے والی کوئی بھی حکومت کسی ملک کو فلاحی ریاست نہیں بناسکتی۔ ایک طرف سرکاری حکام عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ملاقاتوں میں سبسڈی ختم کرنے، عوام کے لئے سرکاری سہولتیں کم کرنے اور غیر ترقیاتی اخراجات محدود کرنے کا وعدہ کرتے ہیں تو دوسری طرف ملک کا وزیر اعظم اپنی تقریروں میں عوام کو خیراتی منصوبوں میں اضافہ کی نوید دیتا ہے۔ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے کا منصوبہ شروع ہونے کے بعد اب سفید رنگ کی یہ سرکاری ویگنیں ملک کے کونے کونے میں دکھائی دیں گی اور کسی غریب کو بھوکا نہیں سونے دیں گی۔ تاہم جیسا کہ کوئی بھوکا نہ سوئے کے نام سے ہی ظاہر ہے، اس منصوبہ سے کسی غریب کا پیٹ بھرے نہ بھرے حکومت کی سیاسی ناکامی کو کامیابی دکھانے کے لئے ایک نیا نعرہ ضرور ایجاد کرلیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت اس سے پہلے لاچار شہریوں کے لئے پناہ گاہیں اور بھوکوں کے لئے لنگر خانے شروع کرچکی ہے۔ یہ بات ماو رائے فہم ہے کہ کیا سرکاری لنگر خانے خالی پڑے ہیں کہ اب حکومت نے ویگنوں کے ذریعے گھر گھر جاکر دیہاڑی دار مزدوروں کو کھانا پہنچانے کا اہتمام کیا ہے تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے؟ سرکاری انتظام میں جب بھی عوامی بہبود کا کوئی ایسا خیراتی منصوبہ شروع کیا جائے گا جس میں سرکاری وسائل سے غریبوں کی مدد مطلوب ہو تو اس سے غریب تک ایک نوالہ پہنچنے سیپہلے سرکاری انتظام میں بدعنوانی اور چور بازاری کے درجن بھر مزید دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس کے باوجود خیراتی منصوبے شروع کرنے کا سرکاری اہتمام ایک ایسی حکومت کررہی ہے جو ملک سے ہر سطح پر بدعنوانی ختم کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہے ۔ وزیر اعظم کا تکیہ کلام بن چکا ہے کہ وہ کرپشن برداشت نہیں کرسکتے لیکن اس کو پھیلانے کے اسباب فراہم کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے۔
عزت نفس بھی عمران خان کا تکیہ کلام ہے۔ ان کا قول ہے کہ فرد ہو یا قوم اگر وہ خوددار ہے تو وہ ہر مسئلہ حل کرسکتے ہیں لیکن اگر خودداری کو ہی گروی رکھ دیا جائے تو آگے بڑھنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ اس فلسفہ کی روشنی میں کیاملک کیوزیر اعظم یہ وضاحت فرمانے کی زحمت کریں گے کہ خیرات سے پلنے والے شہری کیوں کر اپنی عزت نفس کی حفاظت کا اہتمام کریں گے؟ یا خودداری کا تعلق بھی صرف عمران خان کی ذات اور سیاسی بیان بازی تک محدود ہے؟ پاکستان ضرور ایک غریب ملک ہے۔ لیکن عمران خان یہ بھی بتاتے نہیں تھکتے کہ ملک کثیر قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور اس کی نوجوان آبادی کوئی بھی مشکل سفر طے کرنے کا باعث ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم کیطور پر یہ عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا یا کوئی بھوکا نہ سوئے جیسے نعرے بلند کرنے کی بجائے ، ایسے معاشی منصوبے شروع کرتے جو نوجوانوں کو روزگار، مصروفیات اور عزت کے ساتھ روٹی کمانے کا موقع عطا کرسکتے۔
بدقسمتی کی بات ہے عمران خان نے معاشی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے معیشت کو بھی سلوگن بنا لیا ہے اور لوگوں کو مفت کھانا دینے کی نوید سنا کر اب وہ خود کو کامیاب اور عوام دوست لیڈر ثابت کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔ جن ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ان کی زبان نہیں سوکھتی، ان میں لاہور کا راوی تعمیراتی منصوبہ اور کراچی کیساحل پر بے آباد جزائر میں رہائشی کالونیاں بنانے کا اعلان شامل ہے۔ یہ دونوں منصوبے ابھی کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھے۔ کراچی کے ساحلی جزائر کے حوالے سے ایک تو ماہرین ماحولیات اس کے خطرناک نتائج سے متنبہ کررہے ہیں تو دوسری طرف سندھ حکومت کے ساتھ ملکیت کا معاملہ ابھی تک تنازعہ کا شکار ہے۔ یہ معاملات حل ہونے میں دو تین دہائیاں آسانی سے بیت جائیں گی۔ لاہور میں راوی منصوبہ کے نام سے شہر بسانے کے پروگرام کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ابھی تو یہ پلاننگ بھی نہیں ہوئی کہ اس منصوبہ کیلئے زمینیں کیسے اور کن شرائط پر حاصل کی جائیں۔
یہ دونوں منصوبے شروع ہو بھی جائیں تو کیا یہ ملک کے پانچ چھ کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرسکیں گے؟ ان رہائشی اسکیموں میں بنائے جانے والے گھر ملک کے امرا کے لئے ہوں گے۔ یعنی عمران خان کی سرکار بحریہ ٹان کا ملک ریاض بننا چاہتی ہے۔ امیروں کو گھر بنا کر دیے جائیں اور تھوڑا سا منافع غریبوں میں بانٹ کر سخی کا خطاب حاصل کرلیاجائے۔ نوجوانوں کومصروف کرنے کا ایک منصوبہ جنگلات اگا پروگرام بھی ہے۔ گزشتہ دنوں اس حوالے سے ایک اسکیم کا افتتاح کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت کے بلین ٹری سونامی کا حصہ بنو۔ درخت اگا۔ علاقے کے لوگ ان کی حفاظت کریں۔ ان پر شہد کی مکھیوں کے چھتے لگا کر ٹنوں شہد حاصل کریں جو حکومت برآمد کرے گی اور ان وسائل سے عوام اور ملک کو مالامال کردے گی۔ گستاخی نہ ہو تو پوچھا جائے کہ شیخ چلی اور ایسے منصوبوں سے بیروزگار نوجوانوں کو سنہرے مستقبل کے خواب دکھانے والے کسی لیڈر میں کیا فرق ہے؟
کسی بھی ملک کی معیشت زراعت، صنعت اور انسانوں میں سرمایہ کاری سے ہی ترقی کا سفر شروع کرسکتی ہے۔ ان تینوں شعبوں میں عمران خان اپنی حکومت کی نصف مدت میں کوئی ایک بھی منصوبہ شروع نہیں کرسکے۔ ملک میں سرمایہ کاری کی صورت حال ابتر ہے جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت متاثر ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ بدعنوان سیاست دانوں سے نجات کے اہم ترین منصوبہ کی وجہ سے حکومت کو کوئی دوسرا کام کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ حکومت کی دیانت و امانت کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم اسلام آباد میں سینیٹ کی سیٹ ہارنے کا انتقام لینے کے لئے چئیر مین سینیٹ کے انتخاب میں سب کچھ دا پر لگانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔
شبلی فراز کے بقول حکومت یہ انتخاب جیتنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرے گی۔ اگرچہ ان کا دعوی ہے کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جس حکومت کا وزیر اعظم قوم کے نام خطاب میں اس بات پر الیکشن کمیشن سے خفا ہوتا ہے کہ اس نے آئین پر عمل کیوں کیا، وزیر اعظم کا مشورہ کیوں نہیں مانا ۔۔۔ ایسی حکومت کی دیانت کا معیار سمجھنے کے لئے بقراط ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ واضح ہے کہ حکومت غربت مٹا پروگرام کی طرح دیانت مٹا منصوبے پر بھی پوری تندہی سے عمل پیرا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔