Friday, May 29, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومکالم وبلاگزچین۔پاکستان تعاون ایک ڈیجیٹل مستقبل کی جانب گامزن

چین۔پاکستان تعاون ایک ڈیجیٹل مستقبل کی جانب گامزن

تحریر: ما روئی چیان

“مجھے یہ چاہیے!” ایک پاکستانی زرعی کاروباری نمائندے نے انگوٹھا اٹھاتے ہوئے بار بار ایک چینی ٹیکنالوجی کمپنی کی پیش کردہ مصنوعات کی تعریف کی۔ یہ پروڈکٹ ڈیجیٹل اسپیکٹرل ڈیٹا کلیکشن، ذہین الگورتھم تجزیے اور خودکار جانچ کے عمل کو یکجا کرتی ہے، جس کے ذریعے زرعی ادارے بیجوں کے معیار کی تیزی سے شناخت کر سکتے ہیں۔ چینی کمپنی کے نمائندے نے، جو مصروفیت کے باوجود پاکستانی نمائندے کو وی چیٹ پر ایڈ کر رہے تھے، مسکراتے ہوئے مجھ سے ترجمے میں مدد مانگی اور کہا: “جو چیز ہم اپنے ‘آہنی بھائیوں’ کے ساتھ بانٹنے کے لیے لائے ہیں، وہ یقیناً بہترین چیز ہے!”

24 مئی کو مشرقی چین کے صوبہ ژیجیانگ کے شہر ہانگژو میں کانفرنس کے مقام کے باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی، مگر اندر پاکستان۔چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس میں غیر معمولی جوش و خروش پایا جا رہا تھا۔ چین اور پاکستان کی 500 سے زائد کمپنیوں کے نمائندے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن اور زرعی جدیدکاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی گفتگو کر رہے تھے۔

کانفرنس میں کاروباری ملاقاتوں کی رفتار اتنی تیز تھی کہ منتظمین کی جانب سے فراہم کردہ مترجمین بھی بمشکل ساتھ دے پا رہے تھے۔ کانفرنس کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی کی حیثیت سے مجھ سے بھی کبھی کبھار فوری مترجم کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی جاتی تھی۔

مصروف گفتگوؤں، تیز رفتار مصافحوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخطوں کے درمیان، میں نے چین۔پاکستان تعاون کا ایک زیادہ حقیقی اور انسانی پہلو دیکھا — اور بعض اوقات خود اس کا حصہ بھی بنی۔ انہی چھوٹے مگر جاندار لمحات میں مجھے محسوس ہوا کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ ڈیجیٹل مستقبل کی جانب مل کر بڑھ رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت عدنان آفتاب نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “اس وقت پوری عالمی معیشت ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ہمیں اس نئے دور کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا، اور چین دنیا کے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے عوام کے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کریں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دیں۔”

ڈیجیٹلائزیشن اب پاکستان کی معاشی تبدیلی کی ایک اہم قوت بن چکی ہے۔ چین کے حالیہ سرکاری دورے کے دوران بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے لیے کئی ترجیحی شعبوں کا خاکہ پیش کیا، جن میں زرعی جدیدکاری، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں، تاکہ باہمی فوائد اور مشترکہ کامیابی حاصل کی جا سکے۔

پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کئی ساختی فوائد پر مبنی ہے۔ سب سے پہلے، ملک کی نوجوان آبادی ایک بڑی طاقت ہے۔ دنیا کے پانچویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں 60 فیصد سے زائد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے، جو سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای کامرس اور ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبوں کے لیے نہ صرف ایک وسیع صارف بنیاد بلکہ باصلاحیت افرادی قوت بھی فراہم کرتی ہے۔

اتاراکسس کی جانب سے جاری کردہ 2026 کے گلوبل آؤٹ سورسنگ ٹیلنٹ انڈیکس میں پاکستان 193 ممالک میں 16ویں نمبر پر رہا، جو اسے عالمی سطح پر ٹاپ 9 فیصد ممالک میں شامل کرتا ہے۔

اسی دوران پاکستانی حکومت مسلسل اپنی ڈیجیٹل معیشت کی پالیسی فریم ورک کو بہتر بنا رہی ہے۔ اسپیشل اکنامک زونز اور ٹیکنالوجی اسپیشل زونز کے قیام کے ذریعے ٹیکس مراعات اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیق و ترقی، برآمدات اور ٹیکنالوجی منتقلی کے لیے مسابقتی پالیسیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جس سے ڈیجیٹل صنعت کی ترقی کے لیے ایک سازگار ادارہ جاتی ماحول پیدا ہوا ہے۔

مزید برآں، پاکستان کو ایک منفرد جغرافیائی برتری بھی حاصل ہے۔ خلیجی خطے، چین اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث، پاکستان میں علاقائی سطح پر ڈیجیٹل تجارت، سرحد پار ای کامرس اور ٹیکنالوجی خدمات کے مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

اس پس منظر میں، چین اور پاکستان کے درمیان ڈیجیٹل شعبے میں پالیسی ہم آہنگی اور صنعتی تعاون مسلسل گہرا ہو رہا ہے، جس سے ٹیکنالوجی، سرمایہ اور افرادی قوت کا زیادہ مؤثر انضمام ممکن ہو رہا ہے اور پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو مضبوط رفتار مل رہی ہے۔ 24 مئی کو پاکستان اور چین کی علی بابا کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، میڈیکل اے آئی ٹیکنالوجیز، ایس ایم ای ترقی، تربیت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت متعدد تعاون کے معاہدوں کا اعلان کیا۔

جیسا کہ وزیرِاعظم شریف نے بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس میں کہا، “پاکستان مہارت، تجربے اور سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔” اس عمل میں چینی کمپنیاں صرف ٹیکنالوجی اور آلات ہی فراہم نہیں کر رہیں بلکہ تجربے، تربیتی نظام اور ایک جدید ماحولیاتی نظام کا مکمل ڈھانچہ بھی مہیا کر رہی ہیں، جس میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، پلیٹ فارم آپریشنز اور صنعتی اطلاقات شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے اس قسم کے تعاون کی واضح عملی اہمیت ہے۔ ایک جانب یہ مقامی پیداواری صلاحیت اور صنعتی ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرتا ہے۔ تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے تناظر میں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) چین۔پاکستان تعاون کی ایک اہم کڑی بن رہے ہیں۔

چین کے لیے بھی یہ تعاون تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مینوفیکچرنگ سسٹمز بیرونی منڈیوں تک پھیل رہے ہیں، چینی کمپنیاں بیرونِ ملک اپنی مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہی ہیں اور ساتھ ہی نئے ماحول میں ٹیکنالوجی اور کاروباری ماڈلز کو بھی بہتر بنا رہی ہیں۔

“ہماری کمپنی جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے شہر میان یانگ میں قائم ہے۔ آپ کے لیے وہاں آنے کا مناسب وقت کب ہوگا؟” جب میں وہاں سے روانہ ہونے والی تھی، تب بھی چینی اور پاکستانی کاروباری افراد نمائش کی میز پر جھکے ہوئے، ایک پیشہ ور مترجم کی مدد سے گفتگو میں مصروف تھے، جس نے میری جگہ لے لی تھی۔ ان کی بات چیت اسپیکٹرل ڈیٹیکشن سسٹم کی کارکردگی سے شروع ہو کر ادائیگی کے انتظامات اور پھر بالمشافہ ملاقات کے منصوبوں تک جا پہنچی، اور ہر لفظ میں تعاون کی امید جھلک رہی تھی۔

بشکریہ: گلوبل ٹائمز

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔