تحریر:محمد محسن اقبال
قوموں کی ترقی کا پیمانہ محض ان قوانین یا اداروں سے نہیں ناپا جاتا جو وہ تشکیل دیتی ہیں، بلکہ اس امر سے جانچا جاتا ہے کہ ان کی قیادت کن ہاتھوں میں ہے اور وہ قیادت وقت کے تقاضوں کے مطابق اداروں کو کس حد تک ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حقیقی قیادت صرف اختیار کے استعمال کا نام نہیں بلکہ رواداری، فراخ دلی، دوراندیشی اور عوامی مفاد سے غیر متزلزل وابستگی کا مظہر ہوتی ہے۔ ایسی صفات نہ تو ایک دن میں حاصل ہوتی ہیں اور نہ ہی مسلسل جدوجہد کے بغیر برقرار رہ سکتی ہیں۔ تنقید کے مقابل صبر، مشکلات کے سامنے استقامت اور دشوار راستوں پر اصلاحات کا علم بلند رکھنے کا حوصلہ ہی ایک رہنما کو ممتاز بناتا ہے۔ عصرِ حاضر کے پاکستان میں اگر چند شخصیات ان اوصاف کی حقیقی نمائندگی کرتی ہیں تو تین مرتبہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے والے سردار ایاز صادق ان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
عظیم قیادت کی پہچان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے اداروں کو بہتری کی جانب گامزن کرے۔ اپنی پوری پارلیمانی زندگی میں سردار ایاز صادق نے عاجزی اور عزم کا ایسا حسین امتزاج پیش کیا ہے جو کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے ایک جانب اتفاقِ رائے کی فضا کو فروغ دیا اور دوسری جانب بامعنی اصلاحات کے ذریعے قومی اسمبلی کو ایک جدید، مؤثر اور جوابدہ ادارے میں ڈھالنے کی مسلسل کوشش کی۔ ان کی قیادت محض ایوان کی کارروائی چلانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا اصل جوہر قومی اسمبلی کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں نمایاں نظر آتا ہے۔

ان کی سرپرستی میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں رائٹ سائزنگ، مالی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی جدیدیت پر مشتمل ایک جامع پروگرام نافذ کیا گیا جو اپنی نوعیت کی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ایسے وقت میں جب عوامی وسائل شدید دباؤ کا شکار ہیں اور دنیا بھر کی حکومتیں زیادہ مؤثر اور کفایت شعار نظامِ حکمرانی کی تلاش میں ہیں، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے دانشمندانہ مالی انتظام کا ایک روشن نمونہ پیش کیا ہے۔ محتاط منصوبہ بندی، کفایت شعاری کی پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں مالی سال 2025ـ26 کے دوران تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جو سیکریٹریٹ کے کل بجٹ شدہ اخراجات کے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
اس کامیابی کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ ادارے کی کارکردگی یا ملازمین کی فلاح و بہبود پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہونے دیا گیا۔ سیکریٹریٹ میں منظور شدہ آسامیوں کی تعداد 1725 سے کم کرکے 1344 کر دی گئی، لیکن نہ کسی ملازم کو برطرف کیا گیا اور نہ ہی کسی کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ انسانی وسائل کے انتظام کی ایک بالغ نظر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں سزا کے بجائے دانشمندانہ تنظیمِ نو کے ذریعے کارکردگی کو بہتر بنایا گیا۔
اسی طرح غیر تنخواہی اخراجات میں کمی کے لیے مضبوط مالی نگرانی، خریداری کے شفاف اور معقول طریقہ? کار، توانائی کے تحفظ کی مہمات اور انتظامی امور پر سخت کنٹرول متعارف کرایا گیا۔ ان اقدامات نے نہ صرف نمایاں مالی بچت پیدا کی بلکہ جوابدہی اور ذمہ دار طرزِ حکمرانی کی ایک نئی ثقافت کو بھی فروغ دیا۔ ایسے دور میں جب اداروں پر عوامی اعتماد کا انحصار شفافیت اور مالی احتیاط پر بڑھتا جا رہا ہے، یہ اصلاحات دیگر اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں۔
تاہم اس اصلاحاتی سفر کا سب سے انقلابی پہلو اسپیکر قومی اسمبلی کا ”پیپر لیس پارلیمان” کا خواب تھا۔ کئی دہائیوں سے پارلیمانی امور کاغذات کے انباروں، رپورٹس، ایجنڈوں، نوٹسز اور قانون سازی سے متعلق دستاویزات پر منحصر رہے ہیں۔ پارلیمانی امور کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن نے اس روایت کو یکسر بدل دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کی الیکٹرانک ترسیل نے کاغذ کے استعمال، طباعت کے اخراجات اور انتظامی تاخیر میں نمایاں کمی لائی ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ کے مقاصد کو بھی تقویت بخشی ہے۔ یہ تبدیلی اس شعور کی عکاس ہے کہ جدید ٹیکنالوجی محض سہولت نہیں بلکہ عصری حکمرانی کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔
اس وژن کی معراج اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے مزین پارلیمانی نظام کا افتتاح کیا گیا۔ یہ تاریخی اقدام نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ ترقی پذیر دنیا کی پارلیمانی روایات کے لیے بھی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کو قانون سازی کے عمل میں شامل کرکے قومی اسمبلی نے ادارہ جاتی صلاحیت کے ایک نئے دور میں قدم رکھا ہے۔ قانون سازی سے متعلق تحقیق، دستاویزات کے نظم و نسق، معلومات تک رسائی اور انتظامی رابطہ کاری کو اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت قومی خودمختاری اور ڈیٹا کے تحفظ پر اس کی خصوصی توجہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کا یہ پلیٹ فارم مکمل طور پر ملک کے اندر نصب ایک محفوظ نظام کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پارلیمانی ڈیٹا پاکستان کی حدود میں محفوظ رہتا ہے اور اس کا مکمل اختیار قومی اسمبلی کے پاس برقرار ہے۔ ایسے وقت میں جب سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے خدشات دنیا بھر میں بڑھ رہے ہیں، یہ حکمتِ عملی غیر معمولی دوراندیشی اور ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی کا دائرہ کار اسپیکر آفس اور پارلیمانی انتظامیہ تک بھی پھیلایا گیا۔ اراکینِ قومی اسمبلی کو جدید ڈیجیٹل آلات فراہم کیے گئے جن کے ذریعے وہ فوری طور پر قانون سازی سے متعلق دستاویزات اور پارلیمانی ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تکنیکی عملے کی استعداد بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرام متعارف کرائے گئے تاکہ یہ ادارہ ان جدید اصلاحات کو برقرار رکھنے اور مزید وسعت دینے کی صلاحیت رکھے۔ جدید ڈیٹا سینٹر کا قیام بھی اس عزم کا مظہر ہے کہ قومی اسمبلی ایک مکمل طور پر ٹیکنالوجی سے آراستہ پارلیمانی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
یہ تمام کامیابیاں اس وقت اور زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جب انہیں سردار ایاز صادق کے وسیع پارلیمانی ورثے کے تناظر میں دیکھا جائے۔ مارچ 2026 تک وہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے اسپیکر بن چکے تھے اور اس طرح انہوں نے مولوی تمیز الدین خان کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ تین مختلف مواقع پر اسپیکر منتخب ہونا انہیں ملکی جمہوری ارتقا میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ تاہم صرف طویل مدت تک منصب پر فائز رہنا عظمت کی دلیل نہیں ہوتا۔ ان کی اصل امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تجربے کو ادارہ جاتی اصلاحات اور پائیدار ترقی میں ڈھال دیا۔
قومی اسمبلی کا شفافیت، کارکردگی اور تکنیکی جدت کی جانب سفر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ بصیرت افروز قیادت کس طرح جمہوری اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے اداروں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں حکمرانی کا انحصار تیزی سے جدت اور موافقت پر بڑھ رہا ہے، پاکستان کی پارلیمان نے یہ ثابت کیا ہے کہ روایت اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہی اشتراک جمہوری اداروں کو مضبوط اور عوامی خدمت کو بہتر بناتا ہے۔
سردار ایاز صادق کی قیادت میں متعارف کرائی گئی اصلاحات ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہیں کہ حقیقی ترقی نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، دانشمندانہ منصوبہ بندی اور تبدیلی کو قبول کرنے کے حوصلے سے حاصل ہوتی ہے۔ مالی ذمہ داری، ڈیجیٹل جدت اور ادارہ جاتی جدیدیت کے امتزاج کے ذریعے قومی اسمبلی نے دیگر سرکاری اداروں کے لیے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قیادت حکمت، رواداری اور قومی مفاد کے جذبے سے سرشار ہو تو صدیوں پرانے ادارے بھی نئی روح پا سکتے ہیں اور مستقبل کے چیلنجوں کا اعتماد کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں۔

