تہران (آئی پی ایس )ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے مشرقِ وسطی میں امن کے لیے کوئی بھی نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پائیدار امن، علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے خطے کے تمام ممالک کا باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز تہران میں مقامی عہدیداروں اور سماجی کارکنوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تمام علاقائی ممالک کی شرکت کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کو خارج کر کے یا اسے تنہا کر کے علاقائی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی عوام نے سخت دبا اور خطرات کے باوجود مزاحمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مخالفین کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کی یہ مزاحمت خطے اور عالمی سطح پر اہم اثرات مرتب کر رہی ہے، مخالف بیانیوں کو کمزور کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ حالیہ تنازع کے بعد ایران مزید مضبوط اور متحد ہو کر ابھرا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 28 فروری سے کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے گئے تو ایرانی اعلی حکام اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے روزانہ کی بنیاد پر میزائل اور ڈرون کارروائیاں شروع کیں اور اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنا لیا۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے مخالفین کے اس بیانیے کو بھی چیلنج کیا جس میں ایران کو کمزور، تنہا اور پابندیوں کے دبا کے سامنے غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تھا۔ ان کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے اور ایران جنگ کے بعد زیادہ مضبوط اور زیادہ مربوط ہو کر ابھرا ہے۔

