Tuesday, May 5, 2026
ہومبریکنگ نیوزاین ایچ اے کے این 45 منصوبے کی بولی کا عمل بے ضابطگیوں کے باعث کالعدم قرار

این ایچ اے کے این 45 منصوبے کی بولی کا عمل بے ضابطگیوں کے باعث کالعدم قرار

اسلام آباد (آئی پی ایس )سینیٹ کمیٹی نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے این 45 منصوبے کی بولی کے عمل کو بے ضابطگیوں کے باعث کالعدم قرار دیتے ہوئے 30 دن کے اندر نئے سرے سے شفاف طریقہ کار کے تحت دوبارہ عمل شروع کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

وزارتِ توانائی کی جانب سے پاور پلانٹس کی نیلامی کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے انکشاف کیا کہ مختلف منصوبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور قریبا ہر منصوبے میں اوور انوائسنگ کے شواہد ملے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ ٹینڈرنگ کے عمل میں ہیرا پھیری سے قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ڈیسک قائم کرنے اور سینیئر افسر کی تعیناتی کی ہدایت بھی دہرائی، چیئرمین کمیٹی نے واضح کیاکہ تاخیر اور بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور آئندہ ایسے معاملات میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا جس میں سینیٹرز سید وقار مہدی، کامل علی آغا، حاجی ہدایت اللہ اور روبینہ خالد نے شرکت کی۔

اجلاس میں این 45 شاہراہ منصوبے کی پیش رفت، کوئلے کی خریداری اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔چیئرمین این ایچ اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این 45 منصوبہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ چکدرہ تا تیمرگرہ (38 کلومیٹر) ہے جس کا پی سی ون پلاننگ ڈویژن کو جمع کرا دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دوسرا حصہ کھگراہم تا دیر (43.39 کلومیٹر) جبکہ تیسرا حصہ کالاتک تا چترال (47.98 کلومیٹر) پر مشتمل ہے جس کی لاگت 93.779 ملین ڈالر ہے۔

چیئرمین این ایچ اے کے مطابق تیسرے حصے کے لیے موصول ہونے والی واحد بولی انجینیئرنگ تخمینے سے 224.24 فیصد زیادہ تھی، جس پر دوبارہ بولی کا عمل شروع کیا گیا۔ تاہم کمیٹی نے اس پورے عمل میں شفافیت کی کمی اور قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر سخت اعتراض اٹھایا۔چیئرمین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ این ایچ اے مطلوبہ کمپنی پروفائل، اہلیت کے معیار اور بولی دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہی، جس پر کمیٹی نے بولی کے عمل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دو لفافہ طریقہ (مالی و تکنیکی جانچ) کے تحت نیا عمل شروع کرنے کا حکم دیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کا پہلا حصہ تاحال شروع نہیں ہو سکا جبکہ دور دراز علاقوں میں کام جاری ہے۔سینیٹر ہدایت اللہ خان نے کہاکہ تیمرگرہ اور چکدرہ کے درمیان سڑک چار اضلاع کو جوڑ سکتی ہے، مگر وہاں موجود سرنگ انتہائی خستہ حال ہے اور فوری تعمیر نو کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ 2021 میں شروع ہونے والا منصوبہ ابھی تک عملی طور پر شروع نہیں ہو سکا، جبکہ کنسلٹنٹ کی اجلاس میں عدم موجودگی کو بھی سنجیدگی سے لیا گیا۔

اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ منصوبہ کوریائی قرضے سے فنڈ ہو رہا ہے، جس کے تحت قرض دہندہ ملک اپنی کمپنیوں کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام بولی دستاویزات محفوظ رکھی جائیں اور غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔

این ایچ اے نے پشاور ناردرن بائی پاس (30.2 کلومیٹر) پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا۔ صوبائی محکمہ آبپاشی نے قدرتی آبی گزرگاہوں پر ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا، جس پر این ایچ اے نے یقین دہانی کرائی کہ کام جاری ہے اور وارثک تک رسائی سڑک بھی بنائی جا رہی ہے۔

کمیٹی کو جامشورو کول پاور پراجیکٹ (660 میگاواٹ) پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اور بتایا گیا کہ منصوبے کا ایک حصہ درآمدی کوئلے پر چل رہا ہے جبکہ دوسرا حصہ کاربن اخراج کی پابندیوں کے باعث شروع نہیں ہو سکا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے کوئلے کے منصوبوں کی فنڈنگ بند کرنے سے بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

سینیٹر کامل علی آغا نے تجویز دی کہ پاور پلانٹس کو ماحول دوست ایندھن پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔کمیٹی نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ کوئلے کی سپلائی کے ٹینڈرنگ عمل اور چار جنکو پاور پلانٹس کی نیلامی کا مکمل ریکارڈ دو دن کے اندر پیش کیا جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔