کوئٹہ(آئی پی ایس )یورپ میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیر اہتمام بلوچستان: 78 سالہ قبضہ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں شرکا کے کردار اور پیش کیے گئے بیانیے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 27 مارچ کو منعقدہ اس کانفرنس کی قیادت نسیم بلوچ نے کی، جبکہ مبصرین کے مطابق یہ فورم ایک متوازن تاریخی بحث کے بجائے مخصوص بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔
کانفرنس میں شریک شخصیات میں اختر مینگل بھی شامل تھے، جو ماضی میں بلوچستان کے وزیراعلی رہ چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وہ صوبے کی سیاسی قیادت کا حصہ رہے ہیں، اس لیے گورننس، وسائل کے استعمال اور ترقیاتی مسائل میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح منظور پشتین کی شرکت بھی توجہ کا مرکز بنی، جن کی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کو 2024 میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ بعض حلقوں کا مقف ہے کہ ان کا بیانیہ متنازع اور یک طرفہ سمجھا جاتا ہے، جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
دیگر شرکا میں عائشہ صدیقہ اور ثقلین امام بھی شامل تھے، جن کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ شخصیات اکثر بین الاقوامی فورمز پر ریاستی پالیسیوں پر تنقیدی مقف رکھتی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجتماع تاریخی حقائق کی غیر جانبدارانہ تشریح کے بجائے عالمی سطح پر مخصوص تاثر قائم کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے، جس کا مقصد بیرون ملک رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔ تاریخی تناظر میں ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 27 مارچ 1948 کو ریاست قلات نے پاکستان سے الحاق کیا تھا۔ اس وقت قلات برطانوی راج کے تحت ایک ریاست تھی، جس کے دفاع، خارجہ امور اور مواصلات برطانیہ کے کنٹرول میں تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ریاستوں کے پاس پاکستان یا بھارت سے الحاق کا اختیار تھا، جبکہ مکمل آزادی ایک قابل عمل قانونی راستہ نہیں تھا۔
مزید برآں، قلات کے الحاق سے قبل برٹش بلوچستان کے کئی علاقے پہلے ہی پاکستان میں شامل ہو چکے تھے، جبکہ لسبیلہ، خاران اور مکران نے بھی رضاکارانہ طور پر الحاق کیا۔ گوادر بعد میں 1958 میں عمان سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا گیا۔دفاعی و سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ جیسے گروہ شامل ہیں، اس الحاق کو متنازع بنا کر پیش کرتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس بیانیے کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانیے خطے کی صورتحال کو پیچیدہ بنانے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے تاریخی حقائق کو متوازن انداز میں پیش کرنا ناگزیر ہے۔
