Tuesday, March 10, 2026
ہومتازہ ترینبڑھتی ہوئی بے روزگاری پر سینیٹ کمیٹی کی تشویش، مالی سال 2026-27کیلئے پی ایس ڈی پی تجاویز کا جائزہ

بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر سینیٹ کمیٹی کی تشویش، مالی سال 2026-27کیلئے پی ایس ڈی پی تجاویز کا جائزہ

اسلام آباد(سب نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے حکومت سے موثر اقدامات کرنے سے متعلق قرارداد پر غور کیا گیا اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مالی سال 2026-27 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر جام سیف اللہ خان، سینیٹر عطا الرحمن، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر منظور احمد نے شرکت کی جبکہ سینیٹر سید فیصل علی سبزواری نے آن لائن شرکت کی۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود قرارداد کے محرک کی حیثیت سے اجلاس میں شریک ہوئے۔کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لیے وزارت کی پی ایس ڈی پی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال کے لیے کوئی نیا منصوبہ تجویز نہیں کیا گیا۔

تاہم وزارت اس وقت 21 پی ایس ڈی پی منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے جن میں وزارت منصوبہ بندی کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ اور معاشی و نوجوانوں کی ترقی سے متعلق پروگرام شامل ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال کے مقابلے میں پی ایس ڈی پی کی مجوزہ رقم میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور اس کا بڑا حصہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے کیمپس کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 16 میں زمین کی خریداری اور پلان ہاوس کی تعمیر پر خرچ کیا جائے گا۔کمیٹی اراکین نے پی آئی ڈی ای میں تحقیق کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ صدر کمیٹی نے سیکریٹری منصوبہ بندی کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں کے نمائندے کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور ادارے کی کارکردگی، تحقیقی کام اور ادارہ جاتی صلاحیت پر جامع بریفنگ دی جائے۔کمیٹی کے ارکان نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی عدم موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ پارلیمانی نگرانی کو مثر بنانے کے لیے وزیر کو قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرنی چاہیے۔

کمیٹی کو پی ایس ڈی پی کے مختلف اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی جن میں سینٹر آف ایکسی لینس برائے سی پیک، وزیر اعظم یوتھ انٹرن شپ پروگرام، 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا پروگرام اور پاکستان کے 20 غریب ترین اضلاع کی ترقی کے لیے رائزنگ ٹوگیدر پراجیکٹ شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ سی پیک 2.0 بنیادی طور پر روزگار اور معاشی مواقع بڑھانے پر توجہ دے گا۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور بحالی پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے سندھ میں اپنائے گئے ماڈل کو اختیار کیا گیا ہے۔کمیٹی ارکان نے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور مثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین نے کہا کہ قائمہ کمیٹی منصوبوں کی تکمیل کے دوران ان کی مسلسل نگرانی کرے گی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور اثرات سے کمیٹی کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔کمیٹی کو پاکستان میں بے روزگاری پر قابو پانے سے متعلق قرارداد پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ بے روزگاری کی شرح 2020-21 میں 6.2 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 7.1فیصد ہو گئی ہے۔ حکومت نے نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ اور ہنر مند افرادی قوت کی بیرون ملک برآمد کے لیے مختلف انٹرن شپ اور تربیتی پروگرام شروع کیے ہیں۔کمیٹی ارکان نے برآمدات پر بھاری ٹیکسوں، صنعتوں کے قیام کے لیے متعدد ریگولیٹری این او سیز، طویل المدتی معاشی پالیسیوں کے فقدان اور بڑھتے ہوئے برین ڈرین پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے صنعتوں کے قیام کے لیے مربوط این او سی نظام متعارف کرانے، کاروبار دوست ماحول کے فروغ، پالیسیوں کے تسلسل اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی سفارش کی تاکہ پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔کمیٹی کے کنوینر نے ہدایت کی کہ اس معاملے کو آئندہ اجلاسوں میں مزید تفصیل سے زیر غور لایا جائے گا، جس کے بعد بے روزگاری کے خاتمے اور معاشی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے جامع سفارشات پیش کی جائیں گی۔پاکستان سے متعدد کمپنیوں کے انخلا اور اس کے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات سے متعلق تحریک پر بحث محرک کی درخواست پرموخر کر دی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔