ہومکالم وبلاگزبلاگزمعاشرتی خرابیوں میں سوشل ایپلیکشن کا کردار

معاشرتی خرابیوں میں سوشل ایپلیکشن کا کردار

تحریر: محمد عثمان

@one_pak

اسلام، زندگی گزارنے کے اس طریقہ کا نام ہے جو نبی رحمت خاتم النبیین ﷺ سے پہلے بھی انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا، بعد میں آنے والی تمام انسانیت کا ہے اور تا قیامت رہے گا

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے

  بے شک اللہ تعالٰی کے نزدیک دین اسلام ہی ہے
(سورة آل عمران 19)

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جب ہم اسلام کی اصل روح سے ہٹ کر مغرب کی پیروی کرنے لگتے ہیں تو ہمارے معاشرے میں بگاڑ جنم لیتا ہے ۔ اسلام سے دوری ہماری ذلت کا بنیادی سبب ہے مگر ہم لاشعوری طور پر اور جدیدیت کے پر اس پستی میں گرتے چلے جا رہے ہیں اسلامی معاشرے کے اصولوں سے انحراف نے ہمارے گرد ایک شیطانی خوشنما خول بنا دیا ہے اور اس خول سے پار اسلامی روایات ہمیں قید اور صعوبت دکھائی دیتی ہیں

ایک وقت تھا جب گھر میں بڑے بزرگوں، ماں، باپ، بڑے بہن بھیا، کا رعب، ڈر، عزت، ادب، حیا، تمیز اورلحاظ تھا، اساتذہ کا ادب اور عزت و تکریم تھی یہاں تک کہ محلے کے بڑے بزرگوں کے ادب کا پاس تھا ۔ بچے بڑے ادب کے ساتھ بزرگوں کے پاس وقت گزارکرخوشی محسوس کرتے تھے

پھروقت نے کروٹ لی، ٹیکنالوجی نے اپنی وسعت پھیلائی اور معاشرے کو عالمی گاؤں میں تبدیل کردیا  اور پھر دیکھتے دیکھتے ایک خوبصورت اسلامی معاشرہ جدید سوسائٹی بن گیا۔ بڑے بزرگوں کے پاس بیٹھنے کا وقت ختم ہو گیا سب اپنی اپنی ریس میں لگ گئے اور سب کو پرائیوسی درکار ہے۔ لوگ اسلامی اقدار و روایات کو دقیانوسی اور پرانے خیالات سمجھ کر آہستہ آہستہ ترک کرنے لگے ۔ مارڈن سوسائٹی کے اس تصور نے عریانیت فحاشی مخلوط محافل اور سرعام حیائی کو فروغ دیا ہے۔ اگر اس کے خلاف آوازاٹھائی جائے تو اصلاح کرنے یا اس کی نشاندہی کرنے والا دوست بھی دشمن لگنے لگتا ہے۔

غیر مسلم قوتوں نے بہت شاندارانداز سے پاکستانی مسلم معاشرے کو اس بے راہ و روی کی طرف راغب کیا ہے کہ ہم اسے سمجھ ہی نہیں سکے اور آسانی سے فریب میں آگئے ۔ آزادی اظہار کا سب کو بنیادی حق ہے اور اس بنیادی حق کی آڑ میں جو کھیل جارہا تھا وہ اس نے کئی المیے کو جنم دیا ہے۔  دشمن نے خود کو کامیاب کرنے کے لیے پاکستانی معاشرے کا بغور جائزہ لینے کے بعد مختلف سماجی ایپس متعارف کرائیں اور انہیں کامیاب کرنے کے لئے مختلف ترغیبات دی گئیں۔ پہلے انوائٹ اور انسٹالیشن کے نام پر پیسے دیئے گئے پھر بے روزگار نوجوان کو مختلف لالچ کے آمادہ کیا گیا وہ اپنے روزمرہ کی ایکٹویٹی کوشیئر کرکے پیسے کمائیں  ابتدا میں وہ سادہ سے ایکٹویٹی شیئر کرتے ہیں پھر رفتہ فینز بڑھانے کے چکر میں ایسی حرکات بھی کرنے لگتے ہیں جہیں سراسر بے حیائی اور فحاشی کا ہی نام دیا جاسکتا ہے۔

میرا آزادی کے حامی ان افراد سے سوال ہے کہ کیا عریانیت اور فحاشی کو فروغ دینا
آزادی اظہار ہے؟

سوانی حسن کو عریاں لباس میں دکھانا اور ناچ گانا کیا ٹیلنٹ ہے؟

جسم کی نمائش کو کیا ہم فن کا نام دے سکتے ہیں؟

بے حیائی پھیلانے کے لیے نامحرم لڑکیوں اور لڑکوں کا مخلوط تعلق و واسطہ اظہار رائے اور آزادی اظہار رائے کا حق ہے تو یہ سب سوچ آپ کو کس نے دی؟ یہ کس معاشرے کا عکس ہے؟ کیا یہ اسلامی ثقافت اور معاشرہ ہے؟

اسلامی معاشرہ تو ایسی سوچ کا عکاس نہیں ہے

اسلامی معاشرت تو خاتم النبیین نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجة الوداع میں واضح کر دی مگر ہم نے اس منشور اور ضابطہ حیات کو صرف مولوی اور اس کے گھر تک محدود کر دیا علماء تک اس منشور کو مان لیا اور خود کو اس سے آزاد سمجھ لیا جبکہ وہ منشور جو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے خاتم النبیین محمد عربی ﷺ نے تمام کائنات کے لیے دیا تھا جو تا قیامت رہے گا
وہ منشور اور دستورِ معاشرہ قرآن کریم کی زبان میں

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ( موجود ) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالٰی کی یاد کرتا ہے۔
(سورة الأحزاب 21)

جو اس منشور اور دستورسے ہٹ گیا وہ ذلت اور مشقت میں داخل ہو گیا۔ کیونکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے

(اے نبی آپ) کہہ دیجیے یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، اب جس کا جی چا ہے مان لے جس کا جی چاہے انکار کر دے، ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے۔
(سورة الكهف 29)

اس معاشرے کا فرد ہونے کے ناطے ہم سب پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم تجدید معاشرہ کا بیڑہ اٹھائیں کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔

تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو، اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر تھا ، ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں۔
(سورة آل عمران 110)

انبیاء کرام علیھم السلام کے بعد اس امت یعنی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم برائی و بے حیائی کو بازور بازو روکیں، زبان سے روکیں یا ایمان کے نچلے ترین درجے پر جا کر دل میں برا گردانیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔