ہومپاکستانای الیون میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑا آپریشن

ای الیون میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑا آپریشن

سی ڈی اے کے 2012 کے ممبر پلاننگ سے لے کر پورے عملے پر سانحے کی ذمہ داری عائد کر دی گئی
سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایک جگہ لانے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے امورِ سی ڈی اے کا سانحہ E-11 کی انکوائری پر پیش رفت کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد،وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے امورِ سی ڈی اے علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ ای الیون کے نالے پر ہونے والی تمام تجاوزات بلا تفریق گرائی جائیں گی اور نالے کو اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا، 70سے 80 فٹ چوڑے نالے کو 18 فٹ کر دیا گیا اور مزید اس پر لینٹر ڈال دیا گیا جس سے فلڈنگ کی صورت حال پیدا ہوئی ۔منگل کو یہاں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی نواز اعوان نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ای الیون جیسا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور ہمیں اس میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر افسوس ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ نہ تو انفرادی سطح پر اور نہ ہی اجتماعی سطح پر بنیادی قوانین کی خلاف ورزیاں ہوں انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی انکوائری کے لیے ہم بے تین مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں جن میں ایک سی ڈی اے کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی دوسری ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی سربراہی میں اور تیسری کمیٹی پولیس کی سربراہی میں تھی ان کمیٹیوں کی رپورٹس کی روشنی میں ہم نے 2012 کے سی ڈی اے کے ممبر پلاننگ سے لے کر پورے عملے پر اس سانحے کی ذمہ داری عائد کر دی ہے اور ان سے ہاسنگ سوسائٹیز کو دی جانے والی اجازت کی مکمل انکوائری کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام متعلہ اداروں کے خلاف بھی انکوائری کی جس کی روشنی میں سامنے آیا کہ 1122 والے بروقت پہنچنے میں کامیاب رہے جبکہ پولیس اور 15 کی غفلت سامنے آئی ہے علی نواز اعوان نے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سی ڈی اے اور دیگر اداروں کو ایک جگہ کرنے کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی لا رہے ہیں جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی اسلام آباد ہمارا شہر ہے اور اسے ہمیں دیگر شہروں کے لیے مثال بنانا ہے

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔