ہومکالم وبلاگز​ثقافتی یلغار کے نرغے میں ایمان، ماحولیات اور آبادیاتی توازن

​ثقافتی یلغار کے نرغے میں ایمان، ماحولیات اور آبادیاتی توازن

​تحریر: سید منظور احمد شاہ
​تمہید
​ہر سال ماہِ جولائی میں پہلگام کے مقام پر دریائے لدّر کا پانی پلاسٹک کے کچرے سے آلودہ ہو کر اپنی شفافیت کھو بیٹھتا ہے۔ میلوں تک پھیلے خیموں پر مذہبی پرچم لہراتے ہیں، رات کے سناٹے میں ڈیزیل جنریٹروں کی گونج سنائی دیتی ہے، اور فوج کے دستے وادیوں کا گھیراؤ کر لیتے ہیں۔ امرناتھ یاترا کو یوں تو ایک مقدس مذہبی سفر کا نام دیا جاتا ہے، مگر کشمیر کے لیے یہ ایک ایسا سالانہ عمل بن چکا ہے جو کشمیر کے گلیشیروں، بجٹ اور آبادیاتی ساخت کے صبر کا امتحان لیتا ہے۔ سنہ 1990 سے 2026 کے درمیان ھندو امرناتھ یاتارا زائرین کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا، آلودگی کے ڈھیر بلند ہوتے گئے اور یہ سوالات مزید شدید ہوتے گئے کہ: اس عقیدت کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کرے گا کہ آئندہ بیس سالوں میں کشمیر کا منظر نامہ کیسا ہوگا؟
​۱. اک وادی جو اتنے بیرونی لوگوں کی امد کے بار کی متحمل نہیں۔
​کشمیر کے ہمالیائی پہاڑ جغرافیائی لحاظ سے کم عمر اور نازک ہیں۔ یہاں کی مٹی کی تہہ پتلی ہے، فصلوں کا موسم مختصر، اور ندی نالوں کو ان گلیشیروں سے پانی ملتا ہے جو اب تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ 3,888 میٹر کی بلندی پر چھ ہفتوں کے قلیل عرصے میں چھ لاکھ لوگوں کا بوجھ اٹھانا اس وادی کے فطری ماحولیاتی نظام کے بس کی بات نہ تھی۔
​ماحولیاتی اعداد و شمار (2010 تا 2026)
​زائرین کی تعداد: ’شری امرناتھ شرائن بورڈ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2010 میں رجسٹرڈ زائرین کی تعداد 6,34,000 تھی۔ سنہ 2019 میں یہ تعداد 7,21,000 کی بلند ترین سطح پر پہنچی، پھر 2020-2021 میں کووڈ کی وبا کے باعث گھٹ کر 1,12,000 رہ گئی، اور بعد ازاں 2024 میں 5,13,000 اور 2025 میں 5,09,000 تک جا پہنچی۔ سنہ 2026 کی یاترا کے لیے یہ تخمینہ 5,50,000 سے زائد ہے۔
​آلودگی اور کچرا: شرائن بورڈ کی حفظانِ صحت کی رپورٹوں کے مطابق عروج کے دنوں میں بالتل اور پہلگام میں روزانہ 28 سے 35 ٹن ٹھوس کچرا جمع ہوتا ہے۔ سنہ 2018 میں ’نیشنل گرین ٹریبونل‘ نے نشاندہی کی تھی کہ صرف 60 فیصد کچرا اٹھایا جاتا ہے، جبکہ باقی ماندہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زمین میں دبا دیا جاتا ہے یا نظرِ آتش کر دیا جاتا ہے۔اب یہ تعداد بڑھ گئ ہے اور زمیں مین دبانے کا عمل بھی کم ہوگیا ہے
​آبی الودگی: جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول بورڈ کی 2014، 2018 اور 2022 کی مانیٹرنگ سے معلوم ہوا کہ یاترا کے دوران لدّر اور سندھ نالے میں آلودگی کے عناصر (BOD اور فی کل کولی فارم) جائز حد سے 3 تا 5 گنا بڑھ جاتے ہیں۔ یاترا ختم ہونے کے 3 سے 5,ہفتوں بعد پانی کی حالت معمول پر آتی ہے۔
​جنگلات: ایل پی جی کی فراہمی کے باوجود محکمہ جنگلات کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق لنگروں کے لیے 1,450 کوئنٹل لکڑی کی قانونی اجازت دی گئی، جبکہ 3000 کوئنٹل سے زائد غیر قانونی لکڑی ضبط کی گئی۔ 2010 سے 2023 کے سیٹلائٹ مناظر چندن واڑی اور شیش ناگ کے اطراف میں جنگلات کی شدید کٹوتی کو ظاہر کرتے ہیں۔
​یہ اثرات محض آلودگی تک محدود نہیں بلکہ زمین کے کٹاؤ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ 3,500 میٹر کی بلندی پر پامال شدہ چندن واڑی سبزہ زار دوبارہ شاداب نہیں ہوتے، اور گلیشیروں کی برفیلی سردی میں پلاسٹک کچرا گلتار نہیں۔ ہر گرمی کا موسم اپنے پیچھے بگاڑ کی ایک نئی تہہ چھوڑ جاتا ہے۔

​۲. وہ تاوان جو کشمیر ادا کرتا ہے
امرناتھ ​یاترا زائرین کے لیے بلا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن ریاست کے لیے یہ مفت نہیں ہے۔
جوں و کشمیر ​وزارتِ داخلہ اور جموں و کشمیر کے محکمہ مالیات کے 2010 سے 2024 کے بجٹ دستاویزات سے سڑکوں کی کشادگی، ٹیلی کام ٹاورز، طبی سہولیات اور سیکیورٹی پر سالانہ اربوں روپے کے اخراجات کا پتہ چلتا ہے جن کے ٹھیکے غیر ریاستی بھارتی کمپنیوں کو دیے جاتے ہیں۔ محتاط تخمینوں کے مطابق اس کا سالانہ خرچ 400 سے 600 کروڑ روپے ہے، جس میں 45 سے 60 دنوں کے لیے 35,000 سے 45,000 سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی لاگت شامل نہیں ہے۔
​اسی عرصے کے دوران، جموں و کشمیر کا صحت کا بجٹ کل اخراجات کا اوسطاً 4.1 فیصد اور تعلیم کا 12.3 فیصد رہا، جو قومی اوسط سے کم ہے۔ اننت ناگ اور کولگام کے ضلعی ہسپتالوں میں سردیوں کے موسم میں ماہر ڈاکٹروں اور سہولیات کی شدید قلت رہتی ہے۔ یہ تضاد انتہائی دردناک ہے کہ ایک 46 روزہ تقریب کے تحفظ کے لیے اربوں روپے کشیریوں کے خزانے سے بہائے جاتے ہیں، جبکہ سال بھر عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔
​معاشی فائدے نام نہاد کا دعویٰ اپنی جگہ مگر اس کا دائرہ انتہائی محدود ہے۔ ٹٹو والے، خیمہ مالکان اور مقامی ڈھابہ چلانے والے چند دن کما لیتے ہیں، لیکن بنیادی ڈھانچے، خوراک کی فراہمی اور ٹیلی کام کے زیادہ تر ٹھیکے بھی کشمیر سے باہر کی بھارتی ہندو کمپنیوں کو ملتے ہیں۔ یاترا کا آخری قافلہ رخصت ہونے کے بعد مقامی بلدیات کے پاس صرف کچرا، ٹوٹی ہوی سڑکیں اور بھاری بل رہ جاتے ہیں۔
​۳. آبادیاتی ساخت: نقل مکانی، غیر قانونی غیر ریاستی ھندوؤں کی آباد کاری اور مقامی ابادیاتی تبدیلی کا
​یہ وہ نقطہ ہے جہاں عقیدت اور سیاست کا تصادم ہوتا ہے۔
​۳.۱ ھندو یاتریوں قیام کی مدت میں توسیع اور اراضی پر برے اثرات:
​2010 سے 2019 کے پولیس ریکارڈ اور صحافتی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہر سال درجنوں ایسے کیسز سامنے آئے جہاں یاترا کے لیے آنے والے افراد یا خادمین یاترا کے بعد بھی واپس نہیں گئے اور سیاحت و تعمیراتی شعبے میں چھپ کر کام کرنے لگے۔ 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی اور غیر مقیم افراد کے لیے زمین کی خرید و فروخت کی اجازت کے بعد محکمہ مال کے اعداد و شمار غیر مقامی افراد کی خریداریاں بڑھنے کی تصدیق کرتے ہیں۔
​2020 سے 2024 کے درمیان انتظامیہ نے 1,200 سے زائد نئے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس منصوبوں کی منظوری دی جنکی زمینئں غیر ریاستی باشندو ں نے ناجیز طریقے سے خریدئں، جن میں سے اکثریت پہلگام، گلمرگ اور سونمرگ میں واقع ہے۔ مقامی پراپرٹی رجسٹرارز کے مطابق اس عرصے میں پہلگام میں زمین کی قیمتوں میں 70 سے 90 فیصد اضافہ ہوا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاشی حیلوں سے وادی کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کا تدریجی شیطانی طریقہ ہے۔ دوسری طرف حکومت اسے سرمایہ کاری اور روزگار کی فراہمی کا نام دیتی ہے مگر انمین مقامی کشمیریوں کو کوی روزگار نہیں دیا جاتا بھارتی ہندووں کو ہء ملازمت اور ٹھیکے دیے جاتے ہیں۔
​۳.۲ کشمیری پنڈتوں کا معاملہ
​سنہ 1990 میں اندازاً 60,000 سے 80,000 کشمیری پنڈت وادی چھوٹرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ 2024 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم کے بحالی پیکج کے تحت 3,800 پنڈت ملازمین واپس لوٹے ہیں، جنہیں زیادہ تر محفوظ کالونیوں میں رکھا گیا ہے تاکہ مقامی کشمیریون اور انمیں نفرت کو بڑھاوا دیا جایے انہیں اپنے مقامی ہنسایون اور اپنی ابای ابادیوں مین گل مل کر رہنے نہ دیا جایے ۔ اپنے آبائی دیہاتوں میں دوبارہ جا کر بسنے والے خاندانوں کی تعداد 500 سے بھی کم ہے۔
​کشمیری فکری حلقوں میں اکثر اس تضاد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ: وادی میں سالانہھندو بھارتی غیر ریاستی یاتریوں کی آمد پر ہیلی کاپٹروں اور سی آر پی ایف کا حصار فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ وادی کے اپنے اصل اقلیتی باشندوں کی واپسی کا عمل 35 سال سے التوا کا شکار ہے اس مین بھارتی کیا سیاسی کھیل کشمیری پنڈتوں اور مقامی کشمیریون کے ساتھ کھیل رہا ہے سب سمجھتے ہیں۔ منشا جو بھی ہو، ظاہری منظر نامہ محرومی اور بے دخلی کے احساس کو مزید گہرا کرتا ہے۔
​۳.۳ “ثقافتی یلغار” کا تاثر
​یہ لفظ بظاہر تلخ ہے، لیکن 2014 کے بعد سے انٹرویوز، مضمون نگاری اور سوشل میڈیا پر بار بار سامنے آنے والا یہ مسلہ ھندو بھاجپا حکومت کی حکمت عملی ہے۔ اس کا سبب شدت پسند بھارتی ھندوتوای قومی بیانیہ ہے۔ قومی میڈیا میں اس یاترا کو ایک مقدس مقام کی “واپسی” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مقامی آستانوں، صوفیانہ عرسوں۔جمعہ کے اجتماعات عیدوں اور شب قدروں کے مزھبی اجتماعات اور کشمیری زبان کی سرپرستی کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے بلکہ پابندی لگای جاتی ہے مسلمانوں کی اپنی مسلم اکثریتی ریاست مین جمعہ اور عیدیں کے خطبوں کی سرکاری متن جاری کیا جاتا ہے مزھبی معاملات میں مداخلت معمول ہے اور مسلمانوں سے انکی نساجد اور زیارات کو چلانے والے ادارے اوقاف کو چھین کر سرکاری تحویل میں دیا گیا ہے اور اسلامی روایات کے خلاف ایک عورت کو اوقف ہر مالط کیا گیا ہے ۔ جب ایک مخصوص مذہب کی یاترا کے لیے ایک علیحدہ شرائن بورڈ تشکیل دیا جائے، گورنر اس کا چیئرمین ہو اور سرکاری سطح پر براہِ راست نشریات ہوں، جبکہ مقامی مذہبی اجتماعات کو سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر محدود کیا جائے، تو اسے طاقت کے توازن کا بگاڑنا ہی سمجھا جائے گا۔
​یہاں معاملہ زیر بحث عام ھندو زائرین کا نہیں ہے؛ اکثریت حسنِ عقیدت کے ساتھ آتی ہے اور تصاویر یادگاریں لے کر لوٹ جاتی ہے اور کشمیریوں کے لیے کچرا ,پانی اور ماحول کی الودگی۔جنگلات کی تباہی اور سیکیورٹی کے نام پر شدید تکالیف چھوڑ جاتی ہے ۔ اصل مسئلہ اس ڈھانچے کا ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کشمیر کی شناخت کیا ہوگی۔
​۴. سیکیورٹی، علامات اور ۲۰۱۹ کی تبدیلی
​سنہ 2010 کے بعد یاترا کے دائرہ کار میں تیزی سے وسعت آئی، جس کی وجوہات انتظامی بھی تھیں اور سیاسی بھی۔ بہتر سڑکیں، ہیلی کاپٹر سہولیات اور آن لائن رجسٹریشن نے سفر آسان بنا دیا۔ 2019 کے بعد جموں و کشمیر کے ادغام اور “ایک بھارت” کے سیاحتی ایجنڈے نے یاترا کو ایک قومی ھندوای منصوبے کی شکل دے دی۔
​سیکیورٹی کی تعریف بھی بدل گئی۔ 2017 میں امرناتھ زائرین پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کے خفیہ حملے (جس میں 7 افراد ہلاک ہوئے) اور 2019 کے پلوامہ حملے کے ڈرامہ کے بعد بھارتی فوجی دستوں کی موجودگی مزید سخت اور نمایاں کر دی گئی۔ ڈرون، آر ایف آئی ڈی ٹیگز، اور قافلوں کی سخت سیکیورٹی اب معمول بن چکی ہے جس اے کشمیریوں کی عمومی زندگی اجیرن اور دباو کا شکار بن گئ ہے ۔
​علامتی طور پر اس یاترا کو اب ایک قومی بھارتی ھندوتوا یکجہتی کی مشق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آئینی طور پر یہ یاترا جائز ہو سکتی ہے مگر اسکی تاریخ بھی مصنوعی اور دوگرہ حکموت کے بعد کی اختراع کہا جاتا ہے ، مگر ایک متنازعہ خطے میں ایسی ھندوتوای اختراعی علامات کا وزن بہت زیادہ ہوتا جس کا کشمیری سماج پر مختلف شدید اور خوناک اثرات پڑتے ہیں ۔ جب ریاست کی تمام تر طاقت اور موجودگی ایک ہندو مذہبی یاترا کے دوران سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے، تو مسلم اکثریت کے ذہنوں میں حاکمیت کا تاثر مجروح ہوتا ہے۔
ماخذ: شری امرناتھ شرائن بورڈ سالانہ رپورٹس؛ پولوشن کنٹرول بورڈ؛ وزارتِ داخلہ؛ محکمہ سیاحت۔ 2026 کے اعداد و شمار تخمینی ہیں۔
​رجحان بالکل واضح ہے: کووڈ کے بعد زائرین کی تعداد میں تو کمی آئی ہے، لیکن مستقل تعمیراتی ڈھانچہ بڑھتا جا رہا ہے—ایک ایسا ڈھانچہ جو کسی بھی یاترا سے زیادہ دیرپا ثابت ہوگا۔
پائیدار مستقبل کا راستہ
​یاترا کا مقصد باہمی نقصان پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر طریقہ کار بدلا جائے تو عقیدت اور ماحولیات ایک ساتھ چل سکتے ہیں:
​۱. سخت ماحولیاتی حدود: روزانہ زائرین کی تعداد زیادہ سے زیادہ 10,000 تک محدود کی جائے۔ لکڑی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور سنگین جرمانے لگائے جائیں۔ تمام لنگروں کو صفر-کچرا (Zero-Waste) پالیسی کا پابند بنایا جائے اور ان کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہو۔
۲. مالیاتی شفافیت: یاترا کے اخراجات، آمدنی اور رقم کے استعمال پر سالانہ وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔ یاترا سے حاصل ہونے والے مرکزی فنڈز کا 20 فیصد حصہ اننت ناگ اور گاندربل میں صحت اور تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے مختص کیا جائے۔
۳. اراضی کے قوانین: ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی طرز پر ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں کو محفوظ قرار دیا جائے، جہاں غیر مقامی افراد کے لیے زرعی و غیر زرعی زمین کی خرید و فروخت کو مقامی کونسل کی منظوری سے مشروط کیا جائے۔
۴. عدل پر مبنی بحالی: کشمیری پنڈتوں کی ان کے اصل گھروں اور دیہاتوں میں باوقار واپسی کے لیے 5 سالہ جامع منصوبہ بنایا جائے، جس میں محض محصور کالونیاں نہیں بلکہ سلامتی، سکول اور روزگار شامل ہوں۔
۵. متوازن بیانیہ: کشمیری ثقافتی ورثے، صوفیائے کرام کے آستانوں ,کشمیر کے مزھبی ماحول اور مقامی دستکاری کی اسی سطح پر سرپرستی اور ترغیب دی جائے جیسی یاترا کو حاصل ہے۔ کسی خطے کی شناخت کو محض ایک طرفہ بیانیے میں قید نہیں کیا جا سکتاجو جبر کے زمرے میں اتا ہے۔
​حاصلِ کلام
​امرناتھ کی غار قائم رہے گی۔ برف کا لنگم حسبِ معمول بنتا اور پگھلتا رہے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے ارد گرد کیا باقی بچے گا؟
​اگر یہی موجودہ روش برقرار رہی تو 2040 کا کشمیر اپنے جنگلات سے محروم، آلودہ ندی نالوں، سبزہ زاروں پر کنکریٹ کے ڈھانچوں اور شدید آبادیاتی خدشات کا شکار ہوگا۔ لیکن اگر بصیرت سے کام لیا گیا تو یہ یاترا ایک پاکیزہ، باوقار اور ماحول دوست زیارت کا نمونہ بن سکتی ہے۔
​مسئولیت اور زمہ داریوں کے بغیر عقیدت محض ہوسِ تسکین ہے، اور عوام کی مرضی کے بغیر نام نھاد ترقی محض جبر ہے۔ کشمیر نے ہزاروں سال سے ہر مکتبِ فکر کے متلاشیوں کی میزبانی کی ہے، وہ اب بھی زائرین کا خیر مقدم کر سکتا ہے—مگر اپنی ماحولیات، اپنے بجٹ اور اپنی بالادست شناخت کی قیمت پر نہیں۔
کشمیری اور ​کوہسار خاموشی سے دیکھ رہے ہیں، اور تاریخ اپنا فیصلہ رقم کر رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔