پشاور (سب نیوز)پشاور ہائیکورٹ نے 2 سابق افغان فوجی افسران کی جانب سے پاکستان میں عارضی قیام، ویزے میں توسیع اور دیگر ریلیف کے لیے دائر درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ویزوں کی تجدید یا توسیع کا اختیار وزارتِ داخلہ کے متعلقہ حکام کے دائر اختیار میں آتا ہے، اور کسی غیر قانونی اقدام کے بغیر عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
واضح رہے کہ طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی سابق حکومت سے وابستہ متعدد فوجی افسران، صحافی اور دیگر شہری اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر افغانستان چھوڑ کر پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔ایسے 8 افراد نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور مقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان واپسی ان کے لیے محفوظ نہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں قیام کی اجازت دی جائے تاکہ وہ یہاں سے کسی تیسرے ملک منتقل ہونے کے لیے کارروائی مکمل کر سکیں۔عدالت نے ان درخواستوں پر تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جس میں سے 2 درخواستوں پر جمعرات کو تحریری فیصلہ جاری کیا گیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں میں بریالی شریفی سابق افغان نیشنل آرمی، جسے مقامی زبان میں ملی اردو کہا جاتا ہے، میں جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔جبکہ دوسرے درخواست گزار عبدالمجیب افغانستان کے سابق صدر کی پروٹیکٹو سروس میں اسپیشل ایجنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ دونوں درخواست گزاروں نے عدالت کے سامنے مقف اپنایا تھا کہ افغانستان واپسی کی صورت میں انہیں جان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انہوں نے اپنے افغان پاسپورٹس اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر پاکستان میں ہنگامی طبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کی بھی استدعا کی تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ حکام کو ان کے خلاف ہراساں کرنے، گرفتاری اور ملک بدری جیسی کارروائیوں سے روکا جائے۔سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا تھا کہ کیا ان سابق افسران کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے ویزے یا آبادکاری کی کوئی منظوری یا سفارش موصول ہوئی ہے، تاہم درخواست گزاروں کے وکلا اس نکتے پر عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ ویزوں کی تجدید یا توسیع کا معاملہ خالصتا وزارتِ داخلہ کے مجاز انتظامی حکام کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور جب تک کسی غیر قانونی اقدام یا قانونی حق کی خلاف ورزی ثابت نہ ہو، عدالت ایسے انتظامی معاملات میں مداخلت کی مجاز نہیں۔عدالت نے ان ہی وجوہات کی بنا پر دونوں سابق افغان افسران کی درخواستیں خارج کر دیں۔ واضح رہے کہ باقی ماندہ 6 درخواست گزاروں کے مقدمات پر فیصلہ تاحال محفوظ ہے۔
پشاور ہائیکورٹ ، 2سابق افغان جرنیلوں کی پاکستان میں عارضی قیام کی درخواستیں مسترد
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
