Tuesday, May 5, 2026
ہومپاکستانپاکستان پر تنقید سے گریز کریں، آرمی چیف

پاکستان پر تنقید سے گریز کریں، آرمی چیف

راولپنڈی، ایبٹ آباد،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوششوں پر خاموش نہیں رہ سکتے،یہ سازشیں کرنے والے وہی ہیں جو علاقائی امن میں رکاوٹ ہیں،توقع رکھتے ہیں کہ طالبان خواتین اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی برادری سے کئے گئے وعدے پورے کریں گے اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا دورہ کیا، سپہ سالار فورتھ پاکستان بٹالین کو پرچم عطا کرنے کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔س موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ آج کا دِن پاکستان ملٹری اکیڈمی جیسے عظیم ادارے کی تعمیر و ترقی اور ارتقا میں ایک اہم سنگِ میل ہے، پاکستان ملٹری اکیڈمی کا شمار دنیا کے بہترین اداروں میں ہوتا ہے، فورتھ پاکستان بٹالین نے 5 سال قبل قیام سے اب تک شاندار کارکردگی دکھائی ہے، ہمارے محنتی جوان ہمارا فخر اور سرمایہ ہیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ آپ کا وطن کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد، پاکستان دشمنوں کے دِلوں میں خوف کی علامت ہے، تمام تر مشکلات کے باجود آج کا پاکستان اقوامِ عالم میں مضبوط اور ترقی کرتا ہوا پاکستان ہے، اگست کا مہینہ ہمیں آزادی کیلئے اپنے آبا اجداد کی لازوال قربانیوں اور تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ زندگی کے تمام چیلنجز میں ایمان، اتحاد اور نظم کے رہنما اصول آپ کیلئے مشعل راہ ہیں، دنیا کی کوئی طاقت ایک متحد قوم کو کسی قسم کی گزند نہیں پہنچا سکتی، آزادی کے بعد تما م تر معاشی اور دیگر مشکلات کے باوجود پاکستان نے نہ صرف ان کا مقابلہ کیا بلکہ ہر چیلنج کے بعد ہم مزید مضبوط بن کر ابھرے ہیں اور ہم نے دہشت گردی پر قابو پا کر وطن کی سرحدوں کا بھرپور دِفاع کیا۔سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کووڈ اور لوکسٹ کے خلاف محدود وسائل اور انفراسٹرکچر نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے بحیثیت قوم جس نظم و ضبط، یگانگت اور بہترین حکمت عملی کا مظاہر ہ کیا، دنیا اس کی معترف ہے، روایتی جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف رسپانس، ایمرجنسی صورتحال ہو یا قدرتی آفات، افواجِ پاکستان ہمیشہ قوم کے اعتماد پر پورا اتریں۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان قومی اور علاقائی امن اور ترقی کا خواہاں ہے، افغانستان امن عمل میں پاکستان کی مخلصانہ کوششیں، ایک ایسے خطے کے قیام کیلئے ہیں، جو پرامن، خوشحال اور معاشی شراکت دار ہو، ہم نے مسلسل عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے پرامن حل کیلئے کردار ادا کرے، پاکستان نے افغانستان میں بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے، اپنی معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے4دہائیوں سے30لاکھ سے زیادہ افغانیوں کو پناہ دی۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوششوں پر خاموش نہیں رہ سکتے، یہ سازشیں کرنے والے وہی ہیں جو علاقائی امن میں رکاوٹ ہیں، ہم افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، افغانستان میں امن خطے اور بالخصوص افغانستان کے لوگوں کیلئے اشد ضروری ہے، ہم توقع رکھتے ہیں کہ طالبان خواتین اور انسانی حقوق کے عالمی برادری سے کئے گئے وعدے پورے کریں گے اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔آرمی چیف نے کہا کہ آزادی کے اس مہینے میں ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو نہیں بھول سکتے، مقبوضہ کشمیر کے لوگ بدترین ریاستی دہشت گردی اور استحصال کا شکار ہیں، میں یقین دلاتا ہوں پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ہمیشہ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، بین الاقوامی کمیونٹی کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کشمیر کے پرامن منصفانہ حل تک علاقائی امن ایک سراب ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ برصغیر کے لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی کی تحریک کے قائدین کا مقصد ایک محفوظ، آزاد، پرامن اور خوشحال خطے کا قیام تھا، ایسا خطہ جہاں نئے آزاد ہونے والے ممالک امن سے رہ سکیں، ایک آزاد اور پرامن خطے کا تصور ہمارے ہمسائے میں انتہا پسندی اور گروہی تقسیم کی سوچ کے ہاتھوں میں یرغمال ہے، مستقبل میں آپ کو کئی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔آرمی چیف نے کہا کہ دشمن قوتیں ہائبرڈ وار کے ذریعے ہمارے معاشرے اور ریاست کو کمزور کرنے کے درپے ہیں، جنگ کی نوعیت مسلسل بدل رہی ہے، مستقبل کی جنگ میں غیر روایتی اندازِ جنگ کا اہم کردار ہو گا، پاکستان آرمی ان تمام چیلنجز سے آگاہ ہے اور نبرد آزما ہونے کیلئے تیار ہے، ٹیکنالوجی اور مخصوص صلاحیتوں پر توجہ دے کر وطن کے دِفاع کو یقینی بنائیں گے، مضبوط افواج ہی دِفاع وطن کی ضمانت ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔