Wednesday, June 10, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومکالم وبلاگزبلاگزسلطان صلاح الدین ایُوبی اور بیت المقدس

سلطان صلاح الدین ایُوبی اور بیت المقدس

تحریر:ولید احمد

@wale_87

فاتحِ بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کی شخصیت پڑھیں تو لگتا ھے کوئی بدری صحابی تھے جسے اللّه نے بعد میں اپنے ایک اھم کام کے لیے رکھا تھا۔
سلطان صلاح الدین ایُوبی سے پوچھا گیا کہ ، ”آپ مصر، شام ، لبنان کے سلطان ہیں اور آپ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا ؟؟“
انہوں نے جواب دیا کہ ، ”میں کیسے مسکراؤں جبکہ بیت المقدس عیسائیوں کے قبضے میں ھے؟؟“۔
نجومیوں نے بتایا کہ ، ”اگر آپ نے بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی تو آپ کی ایک آنکھ ضائع ھو سکتی ھے“۔
صلاح الدین ایُوبی نے جواب دیا ، ”تم میری ایک آنکھ کی بات کرتے ہو، میں اللّه کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کروں گا پھر بے شک مجھے بیت المقدس میں اندھا ھو کر داخل ہونا پڑے“۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ یروشلم نے 88 برس تک ایک ایسے انسان کا انتظار کیا تھا جو آکر اُس شہر کو ظلم سے نجات دلوا کر دوبارہ وہاں اللہ اکبر کی صدا بلند۔ 27 رجب کو صلاح الدین نے یروشلم میں قدم رکھا اور اُسے فتح کیا۔
انگلستان سے رچرڈ ، اور فرانس سے فلپ نے مجموعی طور پر چھ لاکھ کا لشکر اکٹھا کیا۔ دو برس تک عیسائیوں کا یہ گھیراؤ قائم رہا وہ اس طرح کیموفلاج تھے کہ صلاح الدین ان پر حملہ کرنے میں ناکام رہتے تھے۔
یہ وہ دن تھے جب صلاح الدین کو لوگوں نے ایسے دیکھا جیسے وہ ایک ماں ھوں اور ان کا بچہ گُم ھو گیا ھو۔ صلاح الدین ایوبی اپنے لشکر کی صفوں میں چکر لگا رہے ہوتے تھے رچرڈ شیرول بادشاہ انگلستان کے الفاظ تھے کہ”جب تک صلاح الدین جیسا انسان یروشلم کی حفاظت کررہا ہےکوئی اس کو فتح نہیں کر سکتا“۔
سلطان صلاح الدین کی قبر پر لکھا ھے۔

”اے اللّه ! اس شخص کی آخری فتح کے طور پر اِس کے لیے اپنی جنت کے دروازے کھول دے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔