Wednesday, June 10, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومتازہ تریناکادمی ادبیات کے پچاس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا کی تقریب

اکادمی ادبیات کے پچاس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا کی تقریب

اسلام آباد(آئی پی ایس )اکادمی ادبیات پاکستان کے پچاس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا کی تقریب شیخ ایاز کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن جناب اورنگزیب خان کھچی تھے۔ اس موقع پرانھوں نے راولپنڈی اسلام آباد کے نامور ادبا کی معیت میں اکادمی کے پچاس سالہ ادبی سفر کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ کی باضابطہ نقاب کشائی کی۔تقریب میں اکادمی ادبیات پاکستان کی صدرنشین پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف، سابق سربراہان افتخار عارف، عبد الحمید، پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو اور پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید سمیت ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغازتلاوت کلام پاک سے ہواجبکہ معروف نعت خواں اقدس ہاشمی نینعت رسول مقبول ۖ پیش کی، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں ایک مختصر مگر پروقار نشست منعقد ہوئی جس میں سابق صدور اکادمی اور دیگر معزز مہمانان نے اظہار خیال کیا۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں پروفیسرڈاکٹر نجیبہ عارف نے اکادمی کے پچاس سالہ سفر اور خدمات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے قومی زبانوں اور پاکستانی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے سابق سربراہان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ادب قومی یکجہتی، فکری ہم آہنگی اور ثقافتی رابطوں کے فروغ کا موثر ذریعہ ہے۔انھوں نے بین الصوبائی اقامتی منصوبہ، مستحق ادباکی مالی معاونت، علاقائی ادبی اداروں کی سرپرستی، ماہانہ وظائف، صوبائی کانفرنسوں، میوزیم کی تزئین و آرائش، لینگویج میوزیم، مخطوطات کے تحفظ اور دیگر جاری منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچینے اکادمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ ادارے کے فنڈز کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔انھوں نے بتایا کہ پچاسویں سالگرہ کے سلسلے میں مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس بین الاقوامی حالات کے باعث مخر ہوئی، تاہم حالات سازگار ہوتے ہی اس کا انعقاد کیا جائے گا۔انھوں نے مستحق ادبا کے ماہانہ اعزازیے کو 13 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں اس پر عمل درآمد ہوگا۔انھوں نے اکادمی میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے اور ملازمین کے مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ڈاکٹر اصغر ندیم سیدنے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے اہم اور مثر ادبی کردار کو سراہا۔

انھوں نے وفاقی وزیر اورنگزیب خانکھچیکی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ماضی میں اکادمی کے تحت مختلف دوست ممالک کے ساتھ رائٹرز ایکسچینج پروگرام باقاعدگی سے جاری تھا، جو ایک عرصے سے معطل ہے۔انھوں نے اس پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر زوردیا،سابق چیئرمین افتخار عارف نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے مختلف زبانوں کے ادبا کو ایک قومی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے اور یہ ادارہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ادبی اداروں کے ہم پلہ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے اکادمی کو ملکی ادبی شناخت کا اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقی، اشاعتی اور تراجم کی خدمات کو سراہا، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ اکادمی نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں ادب و ثقافت کے فروغ اور نئی نسل کو ادب سے جوڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اکادمی کی مزید ترقی اور مثر کارکردگی کے لیے افرادی قوت میں اضافہ اور ادبی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینا ضروری ہے۔ تقریب کے اختتام پرپروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز شرکا کو یادگاری ڈاک ٹکٹ پرمبنی تخائف پیش کیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔