واشنگٹن (آئی پی ایس )امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکا دوبارہ ایران پر سخت حملے شروع کرے گا، جبکہ خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
وائٹ ہاوس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر دوبارہ حملے کرے گا اور یہ حملے بہت سخت ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کا واقعہ ممکنہ طور پر جوابی کارروائی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کئی ماہ سے جاری ہیں لیکن پیش رفت سست ہے۔ ان کے مطابق ایران کو ایک اچھے معاہدے پر دستخط کر دینے چاہیے تھے۔
صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران مسلسل وقت ضائع کر رہا ہے اور مذاکرات میں غیر سنجیدگی دکھا رہا ہے۔ ان کے مطابق صورتحال ٹک ٹک ٹک کی طرح ہے اور ایران اصل میں اہم فیصلے سے گریز کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو رد نہیں کرتے کہ مستقبل میں ایران کے بنیادی ڈھانچے، جیسے بجلی گھروں اور پلوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ایران کی فوج کمزور ہو چکی ہے اور اس کی بحریہ اور فضائیہ تقریبا غیر موثر ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق ایران صرف باتیں کرتا ہے لیکن عمل نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ایران کو امن مذاکرات میں تاخیر کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ سخت ترین حملوں کا اعلان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

