ہومکالم وبلاگزبلاگز‏‏‏ اقلیتی برادری اور مملکت پاکستان

‏‏‏ اقلیتی برادری اور مملکت پاکستان

تحریر : میمونہ نصیر
‎@MonnaNotLeeza
اس مملکت پاکستان میں آپ سب آزاد ہیں آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے لیے یا کسی اورعبادت گاہ میں جانے کے لئے آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات یا عقیدت سے ہو مملکت کو اس سے کوئی کوئی سروکار نہیں۔
یہ قائد اعظم کے تاریخی الفاظ ہیں جو انہوں نے پاکستان کی کی دستورسازاسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے 11اگست 1947ء کو کہے یہ الفاظ قائد کے پاکستان کی نظریاتی تعمیر کے عکاس ہیں مگر کیا آج پاکستان میں اقلیتیں اپنے اپ کومحفوظ سمجھتی ہیں کہ وہ آزادانہ اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مندر گردوارہ اور چرچ میں جا سکیں؟ شاید نہیں ! 4اگست بروز بدھ پنجاب کے شہررحیم یار خاں کے قصبے بھونگ میں مندر پر حملہ اور اسے مسمار کرنے کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ اس بارے میں مزید سننے میں آیا ہے کہ پس پردہ کوئی زمینی تنازع بھی چل رہا تھا یوں مذہب کی آڑ میں بدلہ لینے کی کوشش کی گئی بہرحال یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ، دسمبر 2020 میں خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں ہندوؤں کے سمادھی مندرجو کہ 1920 میں تعمیر ہوا تھا اس کو بھی چند انتہا پسند عناصر نے نذر آتش کر دیا جس کی تفتیش کے لیے کمیٹی بنائی گئی تھی اس کے علاوہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر بھی ایک معمہ بن کر زیر بحث رہی وزیراعظم عمران خان صاحب نے بھونگ میں ہونے والے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہندوبرداری کو ان کے مندر کی دوبارہ تعمیر کی یقین دہانی بھی کرائی ہے اور پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو اگلے ہی روزعدالت میں واقعہ کی رپورٹ پیش کرنے کیلئے طلب کرلیا تھا یہ سب ایکشن خوش آئند ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس مسئلے کا کوئی ٹھوس حل نکالنا چاہیے، پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا اسلام میں اقلیتوں کے تحفظ کا حکم ہے ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق بھی اقلیتی برادری کو تمام بنیادی انسانی حقوق اور خاص طور پران کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی اجازت اور مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاست پرعائد ہوتی ہے مزید برآں مذہبی علماء کو اس سلسلے میں آگے آنا چاہیےاور اسلام کی صحیح معنوں میں مثبت ترویج کرائے کیلے اقلیتوں کے اسلام میں دے گۓ حقوق کا درس دینا چاہیے اور شدت پسند عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا چاہیے جو مذہب کی آڑ میں ریاست کے امن و امان اور معاشرتی بگاڑ کے ساتھ ساتھ طبقاتی تقسیم کو ہوا دیتے ہیں اوراپنے مذموم مقاصد کی خاطرہمارے ملک کو دنیا میں رسوا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں رہنے والے سب لوگ مذہب رنگ نسل سے بالاتر ہوکر برابر کے شہری ہیں لہذا سب کو مل جل کررواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بن کر رہنا چاہیے تاکہ ملکی سلامتی اور سالمیت میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔
پاکستان کے جھنڈے میں دو رنگ ہیں سبز رنگ مسلمانوں کی جبکہ سفید رنگ ہماری اقلیت کی ترجمانی کرتا ہے یہ دونوں رنگ جڑتے ہیں تو ہی پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں شان سے لہراسکتا ہے!آئیں مل کر صحیح معنوں میں ایک مثبت اور مضبوط قوم کی داغ بیل ڈالیں جہاں کسی بھی عقیدے کے فرد کو کسی دوسرے عقیدے کے فرد سے خطرہ نہ ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔