ہومکالم وبلاگزہجرتِ مبارکہ:انسانی ضمیر میں القدس کی بيدارى

ہجرتِ مبارکہ:انسانی ضمیر میں القدس کی بيدارى

پرنس الحسن بن طلال


دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے نئے ہجری سال کو منانا یا اس کی یاد کو تازہ کرنا محض ایک گزرے ہوئے تاریخی واقعے کو یاد کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ “فلسفۂ ہجرت” سے رہنمائی حاصل کرنا ہے تاکہ شعور کو فروغ دیا جائے، ثابت قدمی، عزت، انصاف، حق کی نصرت، باہمی تعاون اور ذمہ داری جیسی اقدار کو مضبوط کیا جائے۔ یہ معانی آج ہمارے احساس و شعور میں اس وقت مزید نمایاں ہو جاتے ہیں جب ہم مسجد اقصیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جو اسلام کا پہلا قبلہ ہے اور جو کبھی بھی امت کے شعور سے اوجھل نہیں ہوا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سفر صرف تین مساجد کی طرف کیا جائے: مسجد الحرام، میری یہ مسجد، اور مسجد اقصیٰ۔”


یہ عظیم نبوی ربط تینوں مقدس مساجد کے درمیان ایک جغرافیائی ترتیب نہیں، بلکہ “وحدتِ تقدیر” کا مظہر ہے جسے مسلمانوں نے گہرائی سے سمجھا۔ چنانچہ انہوں نے مکہ، مدینہ منورہ اور القدس کو ایک مشترک روحانی فضا میں تبدیل کر دیا، جہاں فاصلے مٹ جاتے ہیں اور عبادت ذمہ داری کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔ آج جب حج کا موسم دنیا کے ہر گوشے سے آنے والے لاکھوں دلوں کو مکہ مکرمہ کی جانب کھینچتا ہے، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ اجتماع محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی قوت اور ایک دھڑکتا ہوا جسم ہے، جو یاد دلاتا ہے کہ امت مسلمہ میں بے پناہ پوشیدہ طاقت وقوت موجود ہے۔ اگر یہ طاقت شعوری موجودگی اور مشترکہ عمل میں ڈھل جائے تو پہلا قبلہ اور تیسرا حرم ہماری عملی زندگی میں بھی اسی طرح زندہ رہے گا جیسے ہمارے دلوں میں مضبوطی سے راسخ ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی تاریخ علم، تجارت اور حج کے قافلوں کے ذریعے محفوظ ہوئی۔ قافلہ صرف نقل و حرکت کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی ادارہ تھا جس نے اسلامی مشرق کے دور دراز علاقوں کو افریقہ کی گہرائیوں سے جوڑا اور اپنے ساتھ انسانوں، افکار، علوم اور تجربات کو منتقل کیا۔ انہی راستوں پر سرائے، خانقاہیں، زاویے، کتب خانے اور مہمان نوازی و امداد کے مراکز قائم ہوئے، جنہوں نے مسافروں کی خدمت کی اور انہیں اپنی منزل تک پہنچنے میں مدد دی۔
زمانے کی ترقی کے ساتھ ذرائع تو بدل گئے اور قافلوں کی راہیں جدید نقل و حمل کے وسائل میں بھی تبدیل ہو گئیں، جنہوں نے فاصلے مختصر کر دیے، لیکن پیغام وہی رہا: “انسان کو مقدس سے جوڑنا اور معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانا۔”
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے حج کو استطاعت کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾۔
“اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر کہ جو اس کے گھر تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، وہ اس کا حج کریں۔”
سورۂ آلِ عمران، آیت (97)
اس آیت میں “سبیل” کا مفہوم ہمیشہ جدوجہد اور منزل تک پہنچنے کے لیے سفر کی مشقتوں کو برداشت کرنے سے وابستہ رہا ہے۔ آج اگرچہ سفر کی بہت سی دشواریاں کم ہو چکی ہیں، لیکن سعی اور کوشش کی قدر کم نہیں ہوئی۔ اگر ٹیکنالوجی نے بہت سے مقاصد تک رسائی آسان بنا دی ہے تو القدس الشریف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بعض آزمائشیں اب راستے میں نہیں رہیں بلکہ ان چیلنجوں اور رکاوٹوں میں ہیں جن کا سامنا زائرین اور اہلِ القدس کو اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے کرنا پڑتا ہے۔
القدس الشریف محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ اسراء اور معراج کے سفر کا روحانی تسلسل اور امت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ آج یہ شہر اپنی شناخت کو مسخ کرنے اور اس کی تاریخ پر یک رخی بیانیہ مسلط کرنے کی مسلسل کوششوں کا سامنا کر رہا ہے، حالانکہ صدیوں سے یہ ایک ایسا انسانی اور تہذیبی مرکز رہا ہے جہاں مختلف مذہبی اور ثقافتی یادداشتیں ایک ہی تانے بانے میں پروئی گئی ہیں۔ اس کی گلیوں میں مساجد کی اذانیں اور گرجا گھروں کی گھنٹیاں ایک ساتھ سنائی دیتی ہیں، جو مشترکہ زندگی اور مشترک انسانی ورثے کی علامت ہیں۔
لہٰذا القدس کا دفاع صرف پتھروں اور عمارتوں کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے جینے، عزت کے ساتھ رہنے اور اپنی سرزمین پر قائم رہنے کے حق کے دفاع کا نام بھی ہے۔ یہ آنے والی نسلوں کے اس حق کا تحفظ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے زندہ شہر کے وارث بنیں جو اپنے باشندوں، اپنے ورثے اور اپنی تہذیبی رنگا رنگی کے ساتھ قائم ہو۔ القدس اپنے مسلمان اور مسیحی باشندوں کے بغیر مکمل نہیں۔ اس کی حمایت صرف مقدسات کی حفاظت یا تاریخی آثار کی مرمت تک محدود نہیں بلکہ اسکولوں، ہسپتالوں، کتب خانوں اور سماجی اداروں کی مدد تک بھی پھیلتی ہے، جو شہر کی زندگی کو برقرار رکھتے ہیں اور اسے استقامت بخشتے ہیں، تاکہ جسم، روح اور عقل تینوں یکساں طور پر نشوونما پائیں۔

القدس کے ساتھ روابط کے پل استوار کرنا اس کے باشندوں کے ساتھ یکجہتی کا سب سے مؤثر اظہار ہے۔ یہ اجنبیت کی دیوار کو توڑنے اور اسلام کے اس بنیادی سبق کو عملی شکل دینے کا ذریعہ ہے جو باہمی محبت، اخوت اور مظلوم کی نصرت سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾
“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔”
سورۂ آلِ عمران، آیت (110)
یہ مبارک آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اقدار کو عمل میں ڈھالنا ضروری ہے۔ امت کی فضیلت صرف اس کی تعداد سے نہیں بلکہ اس صلاحیت سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنی تعداد کو اخلاقی عمل، انسانی ہمدردی اور امید و یکجہتی کے سرچشمے میں تبدیل کر سکے۔
اسی لیے اسلام نے تعاون اور تکافل کو محض ایک نظری قدر نہیں چھوڑا بلکہ اس کے لیے عملی نظام اور پائیدار ادارے قائم کیے۔ زکوٰۃ ایک ایسا سماجی نظام ہے جو دولت کا ایک حصہ ضرورت مندوں تک پہنچاتا ہے، جبکہ وقف نے اسلامی تاریخ میں عطا، تعلیم، سماجی فلاح، مقدسات کے تحفظ اور خیر کے تسلسل کو منظم کرنے کا ایک درخشاں نمونہ پیش کیا۔
ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم ایک ایسے خانوادے سے وابستہ ہیں جس نے القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کی سرپرستی کو اعزاز نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری سمجھا۔ یہ ذمہ داری کبھی بھی امت کی اجتماعی ذمہ داری کا متبادل نہیں رہی بلکہ اسی کا اظہار رہی ہے۔ القدس پوری امت کی مشترکہ امانت اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ہجرت نے ہمیں عزم، بیداری اور ذمہ داری کی طرف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا، جبکہ حج کے قافلوں نے وحدت، باہمی تعاون اور مقدس مقامات سے وابستگی کے معانی کو زندہ رکھا۔ آج القدس اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس مسلسل روحانی اور تہذیبی سفر میں دوبارہ اس کا جائز مقام دیا جائے۔ مقدس مقامات سیاست سے بلند اور اس کے تغیرات سے زیادہ پائیدار ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا تعلق حق، عزت اور مشترکہ انسانی یادداشت سے ہوتا ہے۔ جس طرح حق ہمیشہ سربلند رہتا ہے، اسی طرح القدس بھی عدل، وقار اور وفاداری کی اقدار پر ایمان رکھنے والوں کی گردنوں میں ایک امانت رہے گا، اور اس بات کا امتحان بھی کہ ہم اپنے عقائد اور اقدار کو کس حد تک عملی شکل دے سکتے ہیں۔
آج جب ہم نئے ہجری سال کا استقبال کر رہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اسے خیر و برکت کا سال بنائے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل فرمائے جو امت کی خدمت اور اس کے انسانی پیغام کی ترویج میں سرگرم رہتے ہیں، اور ہمیں ہر اس کام کی توفیق عطا فرمائے جس میں انسان کی بھلائی اور اس کی عزت و وقار مضمر ہو۔
ہم یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ القدس کی حفاظت فرمائے، اور وہاں کے مسلمان اور مسیحی باشندوں کو اپنی برکتوں سے نوازے، جو ہر روز اس مبارک شہر کی شناخت اور اس کے پیغام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ القدس اپنے مقدسات کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنے ثابت قدم اور باوقار باشندوں کی وجہ سے بھی مبارک ہے، اور ہر زمانے میں ہمارے ضمیر اور ہماری ذمہ داریوں میں ایک امانت کے طور پر زندہ رہے گا۔
اردن کی ہاشمی سلطنت سے تعلق رکھنے والے مصنف دنیا کے بااثر ترین اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک ممتاز دانشور، عالمی مفکر، اور سائنس، علم اور انسانی ترقی کے مضبوط داعی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔