تحریر:محمد محسن اقبال
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کرتے ہوئے اشرف المخلوقات کا بلند و برتر مقام بخشا۔ یہ اعزاز محض ایک شرف نہیں بلکہ ایک عظیم امانت بھی ہے، جس کا تقاضا ہے کہ انسان عزت، پاکیزگی اور احکامِ الٰہی کی کامل اطاعت کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ ربِ کریم نے قرآنِ مجید کی صورت میں انسانیت کے لیے ہدایت کا وہ روشن چراغ عطا فرمایا جس نے زندگی کے ہر گوشے کو منور کیا، حسنِ اخلاق اور پاکیزہ طرزِ حیات کی تعلیم دی، اور ان لغزش گاہوں سے خبردار کیا جو انسان کو دنیا و آخرت کی تباہی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ۖ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں ان الٰہی تعلیمات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنے اسو? حسنہ کے ذریعے حلال اور حرام کے درمیان ایسی واضح اور غیر مبہم حدیں قائم فرما دیں جو انسان کی روحانی اور اخلاقی سلامتی کی ضامن ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں غفلت کے دبیز پردوں نے ہماری بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ حلال و حرام کی وہ روشن تمیز، جو کبھی اہلِ ایمان کے دلوں میں زندہ تھی، بہت سے لوگوں کے دلوں سے ماند پڑ چکی ہے، اور یہی غفلت معاشرے کو جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی آفات کے سامنے بے بس کر رہی ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت کی حالیہ معلومات اس تلخ حقیقت کو نہایت واضح انداز میں ہمارے سامنے رکھتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد چوراسی ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو ہمارے معاشرتی وجود میں گہرے زخموں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان میں سے اکسٹھ ہزار افراد زیرِ علاج ہیں، جبکہ تئیس ہزار ایسے ہیں جو طبی نگرانی سے باہر ہیں اور جن تک علاج کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ وزیرِ صحت کی جانب سے پیش کیے گئے تقابلی اعداد و شمار اس بحران کی تیز رفتار سنگینی کو آشکار کرتے ہیں۔ 2020 میں ملک بھر کے انچاس مراکز پر سینتیس ہزار نو سو چوالیس افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں چھ ہزار نو سو دس افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی، جبکہ 2025 تک ٹیسٹنگ مراکز کی تعداد ستانوے ہو گئی، جہاں تین لاکھ چوہتر ہزار ایک سو چھبیس افراد کی جانچ کے نتیجے میں چودہ ہزار ایک سو بیاسی نئے مریض سامنے آئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی چھ سو اٹھارہ رجسٹرڈ کیسز موجود ہیں، جن میں دو سو آٹھ مقامی باشندے اور چار سو آٹھ مریض راولپنڈی، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی انحطاط اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی دردناک شہادت ہیں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے ماضی میں اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ سرنجوں کا بار بار استعمال قرار دیتے ہوئے دس سی سی والی بڑی سرنجوں پر پابندی لگانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ ان کے خطرناک دوبارہ استعمال کا راستہ روکا جا سکے۔ صحت کے مراکز میں لاپرواہی یا اخراجات کم کرنے کی سوچ کے باعث غیر محفوظ انجیکشن کا استعمال خاموشی سے اس مرض کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنتا رہا ہے۔ بجا طور پر یہ حقیقت بھی اجاگر کی گئی کہ صحت کا تحفظ صرف ہسپتالوں اور کلینکوں تک محدود معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ایک اہم تقاضا ہے، کیونکہ اگر اس میں غفلت برتی جائے تو اس کے معاشی نتائج بھی نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتِ حال ہمیں دو تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک طرف طبی شعبے میں غفلت، جراثیم سے پاک آلات کے استعمال میں کوتاہی، ناکافی تربیت اور بنیادی حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کی کمزوری نے قابلِ تدارک مصائب کو بڑھا دیا ہے۔ دوسری طرف، اور شاید اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر، وہ اخلاقی زوال ہے جس نے معاشرے کے اندرونی دفاع کو کمزور کر دیا ہے۔ جب حیا، عفت اور ضبطِ نفس کی حدود پامال ہونے لگیں تو ایسے رویے جنم لیتے ہیں جو بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں۔ بے راہ روی، منشیات کے عادی افراد میں آلودہ سوئیوں کا مشترکہ استعمال، اور اللہ تعالیٰ کے واضح احکام سے بے پروائی، اس وبا کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جدید دور نے ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے سہولت، علم اور رابطے کے بے شمار دروازے کھولے ہیں، لیکن ان کے بے لگام منفی استعمال نے بالخصوص نوجوان نسل کو فکری اور اخلاقی گمراہی کی راہوں پر بھی ڈال دیا ہے۔ جو ذرائع ترقی اور آگہی کے لیے وجود میں آئے تھے، وہ بہت سے لوگوں کے لیے اخلاقی انتشار کے دروازے بن چکے ہیں۔ فحش اور بے حیائی پر مبنی مواد تک آسان رسائی، بیرونی معاشروں سے درآمد شدہ بگڑی ہوئی اقدار، اور شرم و حیا کے احساس میں بتدریج کمی نے ایسی عادات کو فروغ دیا ہے جو تعلیماتِ نبوی ۖ سے یکسر متصادم ہیں۔ وہ نوجوان اذہان جو کبھی دین کی تعلیمات اور خاندانی نگرانی کے حصار میں محفوظ تھے، آج تیز و تند ڈیجیٹل لہروں میں مناسب رہنمائی کے بغیر بہہ رہے ہیں۔ اس سیلابِ معلومات نے حلال و حرام کی تمیز کو مزید دھندلا دیا ہے اور صبر، ضبطِ نفس اور تقویٰ کی جگہ فوری خواہشات کی تکمیل اور بے سوچے سمجھے تجسس نے لے لی ہے۔
اب ہمارے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کی حقیقی وجوہات کیا ہیں اور اس تباہ کن رُخ کو کس طرح بدلا جا سکتا ہے؟ اس بحران کی جڑیں دینی وابستگی کی کمزوری، خاندانی نظام کے بتدریج انہدام، اور روحانی صحت پر مادی کامیابی کو ترجیح دینے والی معاشرتی سوچ میں پیوست ہیں۔ تاہم اگر ہم اجتماعی عزم کا مظاہرہ کریں تو اس کے مؤثر حل آج بھی ہمارے اختیار میں موجود ہیں۔ طبی اعتبار سے حکومت کو محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہر جگہ صرف ایک مرتبہ استعمال ہونے والی سرنجوں کو لازمی بنایا جائے، تشخیص اور علاج کی سہولتوں کو مزید وسعت دی جائے، اور سرکاری و نجی شعبے میں صحت و صفائی کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے عوامی آگاہی پروگرام ترتیب دیے جائیں جو سائنس کی زبان کے ساتھ ساتھ دین کی روشنی میں بھی لوگوں کو احتیاط، ذمہ داری اور مریضوں کے ساتھ ہمدردی کا شعور عطا کریں۔
اس سے بھی بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ ہم اپنی ان اخلاقی اور روحانی فصیلوں کو دوبارہ مضبوط کریں جنہوں نے صدیوں تک ہمارے معاشرے کی حفاظت کی۔ والدین اور بزرگوں پر اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے دلوں میں تقویٰ، حیا اور پاکدامنی کی شمع روشن کریں۔ علماء کرام اور آئمہ مساجد کو چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم کی تعلیمات کی روشنی میں امت کو طہارتِ نفس اور پاکیزگیِ کردار کی مسلسل تلقین کرتے رہیں۔ تعلیمی ادارے جدید علوم کے ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی نصاب اور ماحول کا لازمی حصہ بنائیں۔ ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایسا مواد پیش کرنا چاہیے جو معاشرے کو سنوارے، نہ کہ اخلاقی انحطاط کو فروغ دے۔ سب سے بڑھ کر ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، نماز، روزہ، ذکرِ الٰہی اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بنائے تاکہ وہ ان وسوسوں سے محفوظ رہ سکے جو انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہ محض کسی ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکمرانوں اور عوام، امیر و غریب، نوجوانوں اور بزرگوں، سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ حلال اور حرام کی اس روشن تمیز کی طرف لوٹ آئیں، عملی احتیاط کو روحانی اصلاح کے ساتھ یکجا کر لیں، تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہ صرف اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے ان گہرے اخلاقی زخموں کا مداوا بھی ممکن ہے جو آج ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ قرآنِ حکیم کی یہ ابدی حقیقت ہمیشہ ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہ کرے۔” جب ہم اشرف المخلوقات ہونے کے اپنے حقیقی مقام کو دوبارہ اختیار کریں گے تو ہمیں نہ صرف جسمانی بیماریوں سے تحفظ نصیب ہوگا بلکہ ہماری قومی عزت، معاشرتی سکون اور اللہ تعالیٰ کی رضا و نصرت بھی دوبارہ ہمارے حصے میں آئے گی۔
اللہ رب العزت ہمیں حق کو پہچاننے کی بصیرت، اس پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ، اور اپنے دین پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارا وطنِ عزیز پاکستان امن، صحت، اخلاق اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو اور آنے والی نسلیں ایک پاکیزہ، باوقار اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے معمور معاشرے میں زندگی بسر کر سکیں۔ آمین۔
اشرف المخلوقات سے اشرفِ کردار تک
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
