ہومکالم وبلاگزکالمزقیادت کا فقدان

قیادت کا فقدان

تحریر: جاوید انتظار
پاکستان دنیا کے ان خوش قسمت ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ جس میں سارے موسم ہیں۔ زرخیز زمین ہے۔ پہاڑ ہیں، دریا ہیں ، سمندر ہیں، صحرا ،ریگستان ہیں ۔ اس سب سے بڑھ کر 35 فیصد نوجوان طبقہ ہے۔ مطلب توانیاں ہیں ۔ جب سارے موسم انسانی جسم پر پڑتے ہیں تو اسے مضبوط بنا دیتے ہیں۔ زمینیں زرخیز ہو جاتی ہیں۔ لیکن ان تمام قدرت کے انعامات کو مرتب کر کے ملک کو ترقی یافتہ بنانے والی قیادت کا فقدان ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں سیاسی جماعتوں کے اندر درد بھرے افسانے سناتی پھرتی ہیں۔ جن میں پارٹی کے آئین پر عملداری نظر نہیں آتی ۔ نہ کسی سیاسی جماعت کے اندر جمعوریت ہے نہ احتساب نظر آتا ہے۔ سیاسی جماعتیں خاندانوں اور شخصیات کی لونڈیاں بنی ہوئی ہیں۔ اگر کوئی ان سے مبرا ہے تو اسکو عوام کی تاہید اور حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ ملک کی بڑی جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی خاندانی جماعتیں ہیں۔ جس میں ضجمعوریت سے زیادہ توانا وراثت نظر آتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف شخصیت کے سحر کی قیدی ہے۔ کہتے ہیں بہتا ہوا پانی صاف شفاف ہوتا ہے۔ جبکہ ٹھہرا ہوا پانی گندا اور بدبو دار ہو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو دیکھ لیجیے جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو صاحب تھے۔ اسکے بعد پیپلز پارٹی بھٹو صاحب کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو شہید ، پھر بھٹو صاحب کے داماد صدر پاکستان آصف علی زرداری اور اب بینظیر بھٹو اور زرداری کے صاحب زادے بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی سربراہی پر براجمان ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کو دیکھ لیجیے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے پارٹی پر انکے بھائی موجودا وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور پنجاب میں انکی صاحب زادی مریم نواز شریف وزیر اعلی کے عہدے پر براجمان ہیں ۔ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان آج کل زیر عتاب ہیں جیل میں قید ہیں۔ ان کی جماعت انکی شخصیت کے سحر میں قید ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے والد محترم کی جگہ پارٹی سربراہی سنبھال لی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی میں کچھ ایسا ہی ہے۔اس سیاسی طرز عمل کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ ملک ترقی کی جگہ تنزلی کیطرف گامزن ہے۔ جب سیاسی جماعتوں میں جمعوریت اور احتساب نہ ہو تو ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر جمعوری رویہ پنپنے لگتا ہے۔ عوام اپنی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی عینک پہن لیتے ہیں۔ جس سے قومی سوچ کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں کے قائدین اپنی پارٹی پوزیشن بچانے کے لئے پاور گیم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا کر سنگھاسن اقتدار پر مصنوعی حکمران بنکر نظام مملکت چلانے کے وعدے وعید کرتے نظر آتے ہیں۔ کرشمہ ساز قوت اپنی طاقت کے زعم میں قیادت کے فقدان کا فائدہ اٹھا کر اپنا تسلط برقرار رکھتے ہیں۔ جب چور راستے سے آئی ہوئی جماعت کو جی حضوری نہ کرنے پر سائیڈ لائن کیا جاتا ہے۔ تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنا لیتی ہیں۔جس سے عوام کو از سر نو منظم کر کے پھر اسٹیبلشمنٹ سے مل جاتی ہیں۔ یہ دائروں کا سفر چند طالع آزماں اور اشرافیہ کے لئے فائدہ مند ثابت تو ہوتا ہے۔ لیکن عوام کی حالت زار اور ملکی ترقی قابل رحم حد تک نیچے گر جاتی ہیں ۔ نہ ملک میں جمعوریت کا وجود پنپتا ہے نہ آمریت پوری آب وتاب کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ یہ سلسلہ 1990 سے ہنوز جاری و ساری ہے ۔ اس سارے عمل میں بیرونی مداخلت خارج از امکان نہیں۔ اس سے ملک میں آمریت کے لبادے میں جمعوریت پیدا کر دی جاتی ہیں۔ کرپٹ سیاسی نظام ملک کی حقیقی قیادت بے رحمی سے قتل کر دیتا ہے۔ جب ملک میں قیادت کا فقدان ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔اس کرپٹ سیاسی نظام میں کسی ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں۔ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔راقم الحروف ناچیز نے ایک وسیع تجربے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین وہ لوگ ہی نہیں جو اللہ کے نظام کی پاسداری کرتے ہوئے خدمت خلق کے لئے اپنے اختیار کو استعمال کریں۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جب اللہ تعالی کسی کو کوئی بھی اختیار دیتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے اللہ اس سے کوئی کام لینا چاہتا ہے۔ لیکن اختیارات کا غلط استعمال کرپشن کی ماں ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں برے کو نہ مارو اسکی ماں کو مار دو۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جیسا نظام چلانے والے ہوتے ہیں۔ نظام ویسا ہی ہوتا ہے۔ نظام چلانے والے چور ہوں تو نظام چور ہوتا ہے۔ نظام چلانے والے ایماندار ہوں تو نظام میں میرٹ اور انصاف ہوتا ہے۔ نظام چلانے والے ڈکٹیٹر ہوں تو نظام آمریت پسندانہ ہوتا ہے۔ ملک سے قیادت کے فقدان کا خاتمہ سیاسی کارکنان اور عوام ملکر کر سکتے ہیں۔ سیاسی کارکنان اپنی اپنی جماعتوں میں جمعوریت اور احتساب لانے کے لئے اقدامات کریں ۔ عوام کسی سیاسی جماعت کی عینک پہن کر چنا کا فیصلہ کرنے کی بجائے پاکستان کی عینک پہن کر فیصلہ کرے۔ اگر ایسا ہوا تو نظام بدل جائے گا۔ سوچ بدل جائے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔
بقول شاعر افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔